مساجد میں سولر سسٹم سکیم کو اے ڈی پی سے نکالنے کیخلاف درخواست دائر

  مساجد میں سولر سسٹم سکیم کو اے ڈی پی سے نکالنے کیخلاف درخواست دائر

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 70 اور 71 کی مساجد میں سولر سسٹم سکیم کو اے ڈی پی سے نکالنے کے خلاف دائر درخواست پر حکومت سے اج تک جواب مانگ لیا کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی درخواست گزار رکن صوبائی اسمبلی خوشدل خان نے عدالت کو تبایا کہ پی کے 70 اور 71 کے مساجد کیلئے سولر سسٹم سکیم 2018/19کے بجٹ میں شامل تھا اور یہ سکیم اسمبلی سے بھی پاس ہوئی اس وقت اس حلقے سے شاہ فرمان کامیاب ہوئے تھے جو اس وقت گورنر خیبر پختون خوا ہیں اس وقت صوبائی وزیرتھے یہ ان کا حلقہ تھا اور یہ سکیم بھی انہی کے دور میں منظور کی گئی تھی جس کے بعد 2018 الیکشن میں گورنر شاہ فرمان پی کے 70 پر ہارگئے جبکہ پی کے 71 سے کامیاب ہوئے تاہم گورنر خیبر پختون خوا منتخب ہونے پر تو پی کے 71 کی نشست چھوڑ دی اور ضمنی الیکشن ان کے بھائی پی کے 71 کی سیٹ بھی ہارگئے الیکشن میں ناکامی کے بعد اس سکیم کو اے ڈی پی اے نکال دیاگیاہے چیف جسٹس نے درخواست گزار خوشدل خان سے استفسار کیا کہ جب اسمبلی ایک سکیم منظور کرے تو پھر کیا یہ ضروری ہے کہ اس سکیم کو نکالنے کے لئے پھر اسمبلی لائے ایسا کوئی رولز ہے جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کوئی رول نہیں ہے لیکن بجٹ سے کسی سکیم یا منصوبے کو نکالنے کے لئے کوئی وجہ تو ہونی چاہیئے عدالت میں موجود ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خوا شمائل احمد بٹ نے عدالت کو بتایا کہ اسمبلی ایک کسی سکیم کی منظوری دے تو اگلے سال بجٹ میں اسمبلی اس کو نکال سکتی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ پرانی سکیم کو شامل کرے بجٹ ایگزیکٹیو کا کام ہے عدالت بجٹ میں کوئی سکیم شامل کرنے کا حکم کیسے دے سکتی ہے ایگزیکٹیو کو پتہ ہوتا ہے بجٹ کے حساب سے کونسے منصوبے شامل کرنے ہے جسٹس عتیق شاہ نے اے جی سے استفسار کیا کہ یہ سکیم بجٹ سے کیوں نکالی گئی اس کی کوئی وجہ تو ہوگی چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ منظوری دے کسی سکیم کی اور کوئی سیکرٹری اس کو دبا دے اسمبلی نہ بھیجے تو کیا تو وہ سکیم ختم ہوگی چیف جسٹس نے اے جی کو کہا کہ آپ کے کمنٹس میں ہے کہ اسمبلی کے کچھ ممبران نے اس پر اعتراض کیا اس کے بعد اس سکیم کو نکال دیا گیا اس سکیم کو نکالنے کے حوالے سے کابینہ کا کوئی فیصلہ ہے جس پر اے جی نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کوئی فیصلہ ہو تو کل پیش کرونگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دیکھے ایسا کوئی فیصلہ ہو تو کل لے آئے اس کیس کو کل دوبارہ سنیں گے فاضل بینچ نے کیس کی سماعت اج تک کے لئے ملتوی کر دی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -