حکومت پلازما کی فروخت میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی، عطیہ کرنے کو یقینی بنائے: لاہور ہائیکورٹ

حکومت پلازما کی فروخت میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی، عطیہ کرنے کو یقینی ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے پنجاب حکومت کوحکم دیاہے کہ کوروناکے مریضوں کو پلازما کی فروخت کی بجائے عطیہ کرنے کویقینی بنایا جائے جبکہ پلازما کی فروخت کے دھندہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔فاضل جج نے پلازما کی مہنگے داموں فروخت کیخلاف درخواست پر سیکرٹری داخلہ کوآئندہ تاریخ سماعت پر طلب کرتے ہوئے انہیں بلڈ ٹرانسفیوژن قانون کے اطلاق کے لئے کئے گئے اقدامات اوربلڈٹرانسفیوژن اتھارٹی سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،گزشتہ روز سیکرٹری صحت نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ پلازما فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی جائے گی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت، ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب اور بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے افسروں کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ پورے صوبے کے بلڈ امور لاہور میں بیٹھ کر کیسے انجام دئیے جاسکتے ہیں، ان لوگوں کو کیا پتہ کہ تونسہ میں کتنے بلڈ بینک کام کر رہے ہیں۔ روزانہ بلڈ ٹرانسفیوژن کی مشکلات اور مسائل سامنے آرہے ہیں۔ کورونا مریض کی جان بچانے کے لئے پلازمہ پانچ چھ لاکھ روپے کا مل رہا ہے، اس صورتحال میں حکومت عوام کو کیا ریلیف دے رہی ہے، کیوں نہ وکلا ء پر مشتمل ایک کمیشن بنا دیا جائے جو اصل صورتحال کاپتہ چلاکرعدالت کو آگاہ کرے؟فاضل جج نے استفسار کیا کہ پلازما لانے والے شخص کو چیک کرنے کے لئے کیا انتظام کررکھا ہے؟حکومت کے پاس پورا نظام اور سہولیات موجود ہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے افسر نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ پنجاب میں 140 بلڈ ٹرانسفیوژن کے لائسنس دیئے گئے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنا بیان حلفی جمع کرا دیں تاکہ سزا دینے میں آسانی رہے، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال ساٹھ،ستر لاکھ روپے میں کمرہ دے رہے ہیں،ہیلتھ کیئرکمشن کے افسر نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال صرف آئی سی یو کی اتنی رقم وصول کرتے ہوں گے،عام کمرے کی اس سے کم قیمت لیتے ہیں، احمد میڈیکل راولپنڈی اور لاہور میں تین ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کی ہے،ڈھائی لاکھ روپے تک آئی سی یو بیڈ کے پرائیویٹ ہسپتال وصول کررہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا مجھے نہ بتائیں میں بھی اسی مٹی سے پیدا ہوا، اسی ملک کا رہائشی ہوں،ساری باتوں کا پتہ ہے، مکمل رپورٹ آئندہ سماعت پرپیش کریں۔کیس کی مزید سماعت 8 جولائی کو ہوگی۔

پلازما کارروائی

مزید :

صفحہ آخر -