” پاکستان میں دواﺅں کی قلت ہونے والی ہے “ حکومت کی جانب سے مافیا کا شور مچانے سے قبل ہی دوائیاں بنانے والوں نے وارننگ جاری کر دی ، حکومتی نااہلی بے نقاب کر دی

” پاکستان میں دواﺅں کی قلت ہونے والی ہے “ حکومت کی جانب سے مافیا کا شور ...
” پاکستان میں دواﺅں کی قلت ہونے والی ہے “ حکومت کی جانب سے مافیا کا شور مچانے سے قبل ہی دوائیاں بنانے والوں نے وارننگ جاری کر دی ، حکومتی نااہلی بے نقاب کر دی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے وار تیزی کے ساتھ جاری ہیں اور ایسی صورتحال میں پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررر ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک اشتہار شائع کیا گیاہے جس میں جان بچانے والی ادویات کا ملک میں خام مال کی درآمد کے تعطل کے باعث بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے جس پر حکومت اپنی آنکھیں مسلسل بند کیے ہوئے ہے ۔

تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان کو ذرائع نے بتایاہے کہ جان بچانے والی ادویات کا خام مال چین اور بھارت سے بڑی مقدار میں امپورٹ کیا جاتا ہے جسے اے ٹی سیز(ڈرگ اسسٹنٹ کنٹرولرز) کی جانب سے گزشتہ تین ماہ سے کلیئرنس نہیں دی جارہی ہے جس کے باعث خام مال کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔جو کہ مستقبل میں ایک بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے ،اسے فوری حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم روف اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کی جانب سے متعدد بار متعلقہ حکومتی فورمز پر اس بات کی آگاہی فراہم کی گئی ہے لیکن انہیں مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے بے اختیار کیا گیا ہے اور ہر کوئی چپ اختیار کیے بیٹھا ہے ۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ایئرپورٹس پر پہنچنے والے خام مال کی تاحال کلیئرنس بھی نہیں کی جارہی ہے جس کی صورت میں کمپنیوں کو اس مال پر سٹورج چارجز اور دیگر نقصانات کا سامنا ہے ،اگر اسے جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو اس صورتحال میں اس کا بوجھ عام عوام پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھی آ سکتا ہے ۔

اس کے علاوہ ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ” گلاس پیکیجنگ میٹریل “ بنانے والی کمپنیوں نے ملی بھگت کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کر وادیا ہے ،جبکہ وہ پاکستان کی کھپت پوری کرنے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوپا رہیں ، ایڈیشنل ڈیوٹیز میں اضافے کے باعث ” گلاس پیکیجنگ میٹریل “ کی شارٹیج کا خدشہ ہے جس سے جان بچانے والے والے انجیکشن کی کمی ہو سکتی ہے ۔

ذرائع کا کہناتھا کہ یہ تمام صورتحا ل رزاق داﺅد کے سامنے ایک میٹنگ میں بھی رکھی گئی جبکہ اس کے علاوہ پی پی ایم اے کی جانب سے ہر متعلقہ فور پر خط لکھ کر آگاہ بھی کیا گیا لیکن اس معاملے پر ہر کسی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

روزنامہ پاکستان کو بتایا گیاہے کہ گلاس پیکجینگ مٹریل کا ایک سی سی ایمبیویل تقریبا ساٹھ پیسے میں دستیاب ہوا کرتا تھا جو کہ اس وقت ایک روپے 70 پیسے میں بھی ڈھونڈنے سے نہیں مل رہاہے جس کے باعث جان بچانے والی ادویات کی پیکیجنگ قیمت میں اضافہ ہو گا اور اس کے اثرات بھی براہ راست قیمتوں میں اضافے کی صورت میں پڑیں گے ۔

اس سارے معاملے میں پی پی ایم اے نے کئی فورمز پر اپنی آواز بلند کی ہے اور اس حوالے سے حکومتی اداکار کامرس بھی کوئی تعاون نہیں کر رہاہے جبکہ اس کے علاوہ رزاق داﺅد کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا جا چکا ہے ۔ذرائع نے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس کے علاج میں مدد گار معروف سٹیررائیڈز ” ڈیکسا میتھا سون “ کی اہمیت غیر ملکی ماہرین پوری دنیا کو بتاچکے ہیں جو کہ پہلے ہی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گیا تو گلاس پیکجینگ میٹریل مہنگا ہونے کے باعث اس کی قیمت میں مزید اضافے کا بھی خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔

گلا س پیکیجنگ میٹریل سب سے زیادہ چین سے پاکستان میں منگوایا جاتا تھا لیکن اس پر عائد ہونے والی زائد ڈیوٹیوں کے باعث اس کی قیت بہت بڑھ چکی ہے جو کہ اب امپورٹ کرنا بہت مشکل ہو گیاہے ۔اس منظر نامے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ عاصم روف کو با اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ ان معاملات کو دیکھیں اور جلد ا ز جلد متعلقہ خام مال کی بلا تعطل فراہمی کیلئے درست اور سستے انتظامات عمل میں لائیں ۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -