طیارہ پرواز کےلئے سو فیصد فٹ تھا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاوراورپائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی ،غلام سرور خان

طیارہ پرواز کےلئے سو فیصد فٹ تھا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ...
طیارہ پرواز کےلئے سو فیصد فٹ تھا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاوراورپائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی ،غلام سرور خان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہاہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کے لیے سو فیصد فٹ تھا، پائلٹس نے دوران پروازکسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، جہازلینڈنگ کے وقت 7220 فٹ کی بلندی پرتھا،کنٹرولر نے3بارپائلٹس کی توجہ مبذول کروائی کہ لینڈنگ نہ کریں ایک چکر اورلگائیں، یہ ریکارڈپرہے کہ جہازکے لینڈنگ گیئرکھولے گئے،10 ناٹیکل مائل پرجہازکے لینڈنگ گیئرکھولے گئے،5 ناٹیکل مائل پرلینڈنگ گیئردوبارہ بند کیے گئے،جہازرن وے پررگڑے کھاتارہا،انجن کافی حدتک متاثرہوا،پائلٹ نے جہازکودوبارہ اڑایا،کوئی ہدایت نہیں لی،پائلٹس نے ایئرٹریفک کنٹرول کی ہدایات کونظراندازکیا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاوراورپائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی ۔

غلام سرور خان نے کہا کہ سب کچھ بتاتے ہوئے دکھ بھی ہو رہا ہے میں نے خود وائس ریکارڈ سے ساری بات سنی ،بدقسمتی سے کاک پٹ پر جانے سے پہلے اللہ کی آواز آئی،اس سے پہلے کورونا کی باتیں تھی ،جن لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں وہ جہاز گرنے کے بعد ہوئیں،بچنے والے شخص نے سب سے پہلے اپنی ماں سے بات کی ۔

وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں کراچی طیارہ حادثہ کیس کی ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 12 طیارہ حادثات ہوئے،کیاان حادثات کے ذمے داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا؟ ، کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا،طیارہ حادثے کے 3 روز بعد فرانسیسی تفتیشی ٹیم پاکستان آ ئی، انکوائری میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا، ایئر بس کی ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہاکہ صاف شفاف انکوائری ہورہی ہے،جاں بحق ہونے والے 90 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا، آج طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کررہے ہیں،جن گھروں پرطیارہ گرا ان کا سروے کروادیا ہے،طیارہ گرنے سے 29 گھروں کونقصان پہنچا،انکوائری بورڈ میں پائلٹس تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا۔

غلام سرور خان نے کہاکہ طیارے کے پائلٹس طبی طور پر جہاز اڑانے کےلئے فٹ تھے،پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، انہوں نے کہاکہ جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنوں کو کافی نقصان ہوچکا تھا، لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز تین بار رن وے سے ٹچ ہوا،جس سے انجن کو نقصان پہنچا، نظر انداز کیا،لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز تین بار روے سے ٹچ ہوا،جس سے انجن کو نقصان پہنچا۔

غلام سرور نے کہاکہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی مطابق پائلٹ اوراے ٹی سی نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا،جہاز مکمل فٹ اورآٹو لینڈنگ پرلگا ہوا تھا، بدقسمتی سے پائلٹ طیارہ کو آٹو لینڈنگ سے نکال کر مینوئل لینڈنگ پر لایا،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی مطابق پائلٹ اورایئرٹریفک کنٹرولرنے مروجہ طریقہ کارکواختیار نہیں کیا۔

وزیر ہوابازی نے کہاکہ ایئرٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو پائلٹس اور معاون پائلٹس نے نظر انداز کیا،حادثے کی ذمے داری کریو کیبن اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بھی بنتی ہے ، جو غلطی طیارہ حادثے میں پائلٹ سے ہوئی وہی غلطی گلگت طیارہ واقعے میں ہوئی،ایئر بلو اور بھوجا ایئر طیارہ حادثہ بھی پائلٹس کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔

غلام سرور خان نے کہاکہ بدقسمتی سے یہ طیارہ حادثہ پہلا واقعہ نہیں،72 سالوں میں 12 واقعات ہوئے ہیں،ان 12 واقعات کی بروقت انکوائری ہوئی اورنہ رپورٹ سامنے آئی،ان12 واقعات کے ذمے داروں کا تعین اورسزا کے بارے میں کوئی نہیں جان سکا،آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی رہی کہ ان واقعات کے ذمے دار کون تھے؟،سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی اورنہ حقائق عوام تک پہنچے ،حادثے کے بعد یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ،طیارہ حادثے میں 97 افراد شہید ہوئے ،اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پرمشتمل بورڈ تھا ،

انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے،بدقسمتی سے بھرتی کرتے وقت میرٹ کو نظر انداز کیا گیا،پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی ایک بدقسمتی ہے،ماضی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پرتعیناتیاں سامنے آئیں،پاکستان میں ٹوٹل 860 ایکٹوپائلٹس ہیں،تحقیقات پرپتہ چلا متعددپائلٹس کی جگہ کسی اورنے امتحان دیا،860 میں سے 262 پائلٹس نے خودامتحان نہیں دیا،نچلے درجے کاسٹاف،پائلٹ،ایڈمن تمام سٹاف شامل ہے،جعلی لائنس والے پائلٹس کیخلاف ایکشن شروع ہوگیاہے، غلام سرور خان نے کہاکہ پائلٹس کوبھی سیاسی بنیادوں پربھرتی کرایاجاتاہے،جودکھ کی بات ہے،پی آئی اے کی ری سٹرکچرنگ کرنی ہے،ذمے داروں کیخلاف بلاتفریق ایکشن ہوگا۔

غلام سرور خان نے کہا کہ ایک عوام رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے،2 پائلٹس کوکمیٹی کا حصہ بنایا،مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام ترمعاوضہ جات ، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے،طیارہ حادثے کی مکمل رپورٹ تیار ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -