کراچی طیارہ حادثے کے وقت پائلٹ اور کو پائلٹ کیا کر رہے تھے ؟ تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

کراچی طیارہ حادثے کے وقت پائلٹ اور کو پائلٹ کیا کر رہے تھے ؟ تحقیقاتی رپورٹ ...
کراچی طیارہ حادثے کے وقت پائلٹ اور کو پائلٹ کیا کر رہے تھے ؟ تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے انکشاف کیاہے کہ ” میں نے وائس ریکارڈر کی ساری بات چیت سنی ہے بدقسمتی سے کاک پٹ میں پائلٹس کی مکمل گفتگو ہی کورونا وائرس کے بارے میں تھی ، پائلٹ اور کو پائلٹ کا دیہان کسی اور جانب تھا ، ان کے ذہن پر کورونا سوار تھا ۔

قومی اسمبلی میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان کا کہناتھا کہ ”میں نے وائس ریکارڈ ر سے ساری بات چیت سنی اور خاص کر آخری آدھے گھنٹے کی سنی ہے جس میں نے صرف تین مرتبہ یااللہ سنا جبکہ اس کے علاوہ کاک پٹ میں بیٹھنے سے لے کر آکر تک یہی سنا کہ پائلٹس آپس میں کوروانا پر گفتگو کر رہے ہیں اور ان کی مکمل گفتگو ہی اسی بارے میں تھی ۔

ان کا کہناتھا کہ پائلٹ اور کو پائلٹ فوکس نہیں تھے ، ان کے ذہن پر کورونا سوار تھا ، ان کی فیملی متاثر تھی اور وہ کورونا کی ہی مشاورت کر رہے تھے ، لینڈنگ پوزیشن پر آیا تو کنٹرول ٹاور نے منع کیا آپ زیادہ اونچائی پر ہیں آپ نیچے آئیں لیکن پائلٹ نے بڑی جلدی میںاس کی کال سنی اور کہا کہ میں مینج کرلوں گا اور پھر کورونا پر بات شروع کر دی ۔ان کا دیہان کہیں اور تھا ۔

ان کا کہناتھا کہ جہاز آٹو لینڈنگ پر لگا ہواتھا اور انہوں نے اسے آٹو سے نکال کر مینول پر لائے ، بدقمستی سے یہ واقعہ پیش آیا ، میں پائلٹ کے گھر بھی گیا ہوں ، اس کے بھائی میرے اچھے جاننے والے ہیں ۔

غلام سرورخان کا کہناتھا کہ طیارہ سو فیصد پرواز کیلئے فٹ تھا ، کورونا کی وجہ سے فلائٹس بند تھیں، سات مئی تک یہ جہاز رکا رہا اور 22 مئی کو یہ طیارہ حادثے کا شکار ہوا، اس کے دوران اس نے چھ بار کامیاب پروازیں مکمل کیں تھیں ، پانچ پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کیلئے تھیں،ایک پروز شارجہ کیلئے تھی ، دونوں پائلٹ کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے ، طبی طور پر پرواز اڑانے کیلئے فٹ بھی تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پائلٹ نے حتمی اپروچ پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی جب وہ لینڈنگ پوزیشن پر آیا تو اس نے کسی قسم کی جہاز میں تکینیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی ،رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر جہاز کو 2 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھے ، ریکارڈ کے مطابق اس وقت طیارہ7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پر تھا ۔

یہ پہلی غلطی تھی ، کنٹرولر نے تین دفعہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی زیادہ ہے ، اور پائلٹ سے کہا گیا کہ لینڈنگ نہ کریں بلکہ ایک چکر اور لگا کر آئیں لیکن اس کے باوجود پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا ۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ڈیٹا اینٹری ریکارڈر میں بھی ریکارڈڈ ہے کہ رن وے سے دس ناٹیکل مائل فاصلے پر جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے ، جب جہاز پانچ ناٹیکل مائل پر پہنچتا ہے تو لینڈنگ گیئر پھر اوپر کر لیے جاتے ہیں ۔

ان کا کہناتھا کہ جہاز جب لینڈنگ کیلئے آیا تو رون وے پر فلیکسیبل پوزیشن دی جاتی ہے ، 1500 سے 3000 فٹ پرجہاز ٹچ ڈاﺅن کر سکتا ہے ، رن وے کی مکمل لمبائی 11000 ہوتی ہے ،لیکن جہاز لینڈنگ گیئر کے بغیر 4500 فٹ پر لینڈنگ کے بغیر انجن پر ٹچ ڈاﺅن کرتاہے ، اس کے انجن تین بار رن وے سے ٹکراتا ہے اور جہاز جمپ لیتا ہے ،، تقریبا جہاز تین ہزار سے چار ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑ کھاتا رہا ، اس رگڑ کھانے کے باوجود ، جس میں انجن کو کافی حد تک نقصان ہو گیا اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو اٹھا لیا ، اس نے کوئی ہدایات نہ لیں اور نہ دیں گئیں ۔ اس میں بھی کوتاہی دونوں طرف سے تھی ، کنٹرول ٹاور کی بھی کوتاہی ہے جب اس نے جہاز کے انجن سے آگ نکلتی ہوئی دیکھی تو اسے بھی انفارم کرنا چاہیے تھا لیکن کٹرول ٹاور نے پائلٹ کو بھی انفارم نہیں کیا ۔پائلٹ نے جہاز دوبارہ اٹھا لیا ، دونوں انجن اس قت خراب ہو چکے تھے ، پھر پائلٹ نے لینڈنگ کیلئے دوبارہ اپروچ کی اجازت چاہی لیکن بدقسمتی سے جو اپروچ اسے دی گئی وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکا اور سول آبادی پر گر گیا ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -