خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، ...
خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔

ویڈیو پر وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی ردعمل دیا ہے۔ٹویٹر پر کی گئی پوسٹ میں انہوں نے کہا "سوشل میڈیا پر عامر نامی لڑکے کی چونکا دینے والی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والوں کا ایک گروپ عامر کو برہنہ کر کے اس پر تشدد کر رہا ہے یہ تھانہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا لگ رہا ہے جہاں کی پولیس کو عمران خان بار ہا مثالی کہہ چکے ہیں"۔

صارفین کے مطابق یہ ویڈیو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ وقار عزیز نامی صارف نے کہا "عامر تھکال کی ایک غلطی اور پھر پولیس نے ویڈیو جاری کرکے جو عظیم غلطی کی ھے اب اسکا خمیازہ ایک نۓ دھشتگرد اور ٹارگٹ کلر کی صورت میں نکلےگا کیونکہ اب بات عزت نفس اور ذاتیات اور غیرت کی ھے"

واقعہ سامنے آنے پر پشاور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی ایکشن میں آگئے اور واقعہ میں ملوث چار اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ 

دوسری جانب صارفین نے پولیس اہلکاروں کی معطلی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت ایکشن کا مطالبہ کیا ہے جب کہ ٹویٹر پر کچھ پوسٹس ایسی بھی نظر آرہی ہیں جن میں آج شام عامر تہکال نامی اس نوجوان کی حمایت میں احتجاج کی اپیل کی جارہی ہے۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -