”لاہور کے 7 علاقے سیل کئے جا رہے ہیں“

”لاہور کے 7 علاقے سیل کئے جا رہے ہیں“
”لاہور کے 7 علاقے سیل کئے جا رہے ہیں“

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور کے7 علاقوں کو رات 12 بجے سے سیل کیا جا رہا ہے جبکہ ہمارے پاس 60 وینٹی لیٹر زخالی پڑے ہیں، 11 جون کو ہمارے پاس 1118 مریض تھے جو اب 738رہ گئے ہیں، پنجاب میں کورونا مریضوں کے 35 فیصد بستر خالی ہیں ، 30 سے 50 فیصد بیڈز ہسپتالوں میں خالی پڑے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ لاہور اور راولپنڈی میں ہمارے پاس سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، گزشتہ 10 روز میں لاہور میں ہائی ڈیپینڈینسی یونٹ اور وینٹی لیٹرز میں اضافہ کیا گیا جبکہ حکومت کورونا ٹیسٹ مفت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کورونا کیسز بڑھے وہ مکمل سیل کررہے ہیں اور لاہور کے بھی سات علاقوں کو مکمل سیل کیا جارہا ہے جن میں گلشن راوی، فیصل ٹاﺅن، والڈ سٹی، گلبرگ، ماڈل ٹاﺅن، ڈی ایچ اے اور گارڈن ٹاﺅن شامل ہیں۔

یاسمین راشد نے کہا کہ ان 7 علاقوں کو رات 12 بجے سے سیل کیا جارہا ہے، ان علاقوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی، لوگوں کو بار بار ماسک پہننے کی تلقین کی لیکن اس کے باوجود بغیر ماسک کے گھروں سے نکلے۔ امید ہے ایک ہفتے میں ایس او پیز پر عمل کریں گے تو کورونا کیسز میں واضح کمی آئے گی، سب سے زیادہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی مارکیٹوں میں ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبے میں یومیہ 11 ہزار ٹیسٹ کئے جارہے ہیں، ہمیں پسماندہ طبقے کے معاشی حالات کا بھی خیال ہے، کورونا کے مریضوں کیلئے طبی سہولیات اور وینٹی لیٹرز میں اضافہ کررہے ہیں، ہسپتالوں میں جگہ اور ادویات دونوں موجود ہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -