’بچوں کو سکول میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ سابقہ ٹیچر کا فیصلہ، اپنے بچوں کی پرورش کا کیا طریقہ نکالا؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہو

’بچوں کو سکول میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ سابقہ ٹیچر کا فیصلہ، اپنے بچوں ...
’بچوں کو سکول میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ سابقہ ٹیچر کا فیصلہ، اپنے بچوں کی پرورش کا کیا طریقہ نکالا؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہو

  

ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) بچوں کی اچھی تعلیم ہر ماں باپ کا خواب ہوتا ہے لیکن نیوزی لینڈ میں ایک ماں باپ ایسے بھی ہیں کہ تعلیم اور سکولوں کے متعلق جن کے خیالات سن کر حیرت گم ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق 37سالہ لوسی ایٹکینریڈ اور اس کا 40سالہ شوہر ٹم ایٹکینریڈ سکولوں اور تعلیم پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ ان کی دو بیٹیاں 9سالہ ریمونا اور 7سالہ جونو ہیں جنہیں انہوں نے سکول میں کبھی داخل ہی نہیں کرایا۔ یہ دونوں بچیاں ہمہ وقت ساحل سمندر پر گھومتی رہتی ہیں اور مشرومز اور دیگر ایسی چیزیں تلاش کرتی رہتی ہیں۔

حالانکہ ٹم خود ایک ٹیچر رہ چکا ہے لیکن اس کا اور اس کی اہلیہ لوسی کا ماننا ہے کہ سکول کی بندشیں بچوں کے لیے اچھی نہیں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں سکول میں جا کر سیکھنے کی بجائے گھومیں پھریں اور جستجو اور تحقیق کے ذریعے خود سیکھیں۔ ان کے خیال میں مین سٹریم سکول بچوں کے لیے ذہنی دباﺅ اور شرمندگی کا سبب بنتے ہیں جس سے بچوںکی ذہنی صحت پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لوسی اور ٹم نے اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے کوئی قانون نہیں رکھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ بچیوں کی مرضی ہے وہ جس وقت جو چاہیں کریں۔ اس ماں باپ نے بچیوں پر صرف ایک قانون لاگو کر رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں بچیاں ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں کریں گی اور ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

لوسی کا کہنا تھا کہ ہماری صبح بہت دیر سے ہوتی ہیں۔ ہم تب تک نہیں جاگتے جب تک ہم کافی کے چند مگ نہ پی لیں۔ ہماری بچیوں پر بھی سکول جانے کا کوئی دباﺅ نہیں ہوتا چنانچہ وہ بھی پرسکون نیند لیتی ہیں۔ بیدار ہونے کے بعد ہم ہائیکنگ وغیرہ کے لیے چلے جاتے ہیں یا پھر کسی میوزیم یا گیلری کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں اسی طرح گھومتے پھرتے زندگی کے متعلق وہ سب کچھ سیکھیں جو بچوں کو سکولوں میں سکھایا جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -