جتنی تذلیل وزرائے اعظم کی ہوچکی وہ وقت آنے والا ہے کہ ۔۔۔خواجہ سعدرفیق نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان سمیت سیاسی قائدین سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

جتنی تذلیل وزرائے اعظم کی ہوچکی وہ وقت آنے والا ہے کہ ۔۔۔خواجہ سعدرفیق نے ...
 جتنی تذلیل وزرائے اعظم کی ہوچکی وہ وقت آنے والا ہے کہ ۔۔۔خواجہ سعدرفیق نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان سمیت سیاسی قائدین سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کےمرکزی رہنمااورسابق وزیرریلوےخواجہ سعدرفیق نےحکومت پرشدید تنقید کرتےہوئےکہاہےکہ جتنی تذلیل وزرائے اعظم کی ہوچکی ہے، وہ وقت آنے والا ہے کہ وزارت عظمٰی دینے والے دیتے پھریں گے لینے والا کوئی نہیں ہوگا.

قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ  سچ یہ ہے کہ جتنا بے توقیر اس ایوان کو عمران خان صاحب کی حکومت کے دور میں کیا گیا ہے اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی،ہم یہاں عزتیں اچھالنے کا مینڈیٹ لے کر تو نہیں آئے،تنقید کرنی چاہیے لیکن یہاں کوئی سننے والا تو ہو.انہوں نے وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے وہ وعدے اور نعرے لگائے جن کی تکمیل کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا،آپ نے 90دن میں کرپشن ختم کرنی تھی،آپ نے 1کروڑ نوکریاں دینی تھی، آپ نے 50لاکھ گھر بنانے تھے اور پاکستان میں انصاف کا دور دورہ کرنا تھا،آپ کے وزراء آج ایک دوسرے کے خلاف بات کررہے ہیں، یہ تماشہ تو کبھی دیکھا ہی نہیں ہے، جتنی تذلیل وزرائے اعظم کی ہوچکی ہے وہ وقت آنے والا ہے کہ وزارت عظمٰی دینے والے دیتے پھریں گے لینے والا کوئی نہیں ہوگا،آپ نےقائدحزب اختلاف کوجیل کےکنارےکھڑاکردیا،سب ارکان باری باری جیل بھگت آئےہیں،حکمرانی کاکمبل آپ کی جان نہیں چھوڑےگا،ماضی میں بھی حکومتوں پرتہمت لگتی رہی،ضیاءالحق کا بدترین مارشل لا پیپلزپارٹی کو ختم نہی کرسکا توکسی اور سیاسی حقیقت کو بھی ختم نہی کیاجاسکتا، پیپلزپارٹی نظر نہی آتی تھی مگر جب بی بی آئیں تو ہر طرف انکےنعرےتھے،ان پر یہ وقت آنے والا ہے.

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ٹڈی دل آیا اس نے اربوں روپے کی فصلیں تباہ کردی ہیں آپ اس کا مقابلہ نہیں کرسکے،آپ نے سارا کام این ڈی ایم اےکےسپردکردیاہے،کوروناآگیااس کےخلاف کیاکیاہے؟آپ نے8ہزار روپےٹیسٹ فیس ہے،جب ڈینگی آیا تھا،آپ نےبڑے طعنے دیئے تھے ہم نے 90روپے فیس رکھی تھی،اس ملک میں معیشت کا بحران ہے معاشرت کا بحران ہے، چینی کا بحران ہے، آٹے کا بحران ہے، ادویات کا بحران ہے، پیٹرول کا بحران ہے، گیس کا بحران ہے ،بجلی کا بحران ہے اور تو اور انصاف کا بحران ہے، ایک سپریم کورٹ کے جج کو انصاف نہ ملے تو باقی عوام کدھر جائیں؟۔

مزید :

قومی -