بریمیا کونسل کا تیسرا سالانہ اجلاس، کنگ ایڈور ڈمیڈیکل یونیورسٹی کی آن لائن شرکت

بریمیا کونسل کا تیسرا سالانہ اجلاس، کنگ ایڈور ڈمیڈیکل یونیورسٹی کی آن لائن ...
بریمیا کونسل کا تیسرا سالانہ اجلاس، کنگ ایڈور ڈمیڈیکل یونیورسٹی کی آن لائن شرکت

  

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن )چین کے شہر شین یانگ میں بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل میڈیکل ایجوکیشن الائنس کے تیسرے سالانہ اجلاس اور چوتھے ہائر میڈیکل ایجوکیشن فورم ''میڈیکل ایجوکیشن میں کمیونٹی کی تعمیر اور انسانی صحت کے عظیم اہداف '' کے عنوان پر چائنہ سے آن لائن انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ فورم کا مقصد میڈیکل ایجوکیشن میں کمیونٹی کی تعمیر اورانسانی صحت کے بڑے اہداف کا حاصل کرنا تھا۔کرونا وائرس کے پیش نظر اس سال کانفرنس کا عنوان‘ عالمی وبا کو شکست،میڈیکل ایجوکیشن میں اصلاحات اورصحت عامہ کی ترقی کو فروغ دیناتھا۔

بریمیا کی افتتاحی تقریب سے چین کے صدر شی جنگ پنگ نے خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ آج ہم بریمیا کے تیسرے کونسل ممبر سربراہان کے اجلاس کے لئے اکٹھے ہیں اور میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ہم سب مل کر اور باہمی کوششوں سے پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیاں اور ان کی صحت کو محفوظ بنائیں۔انسانیت آخر کار اس وبا کو شکست دے گی، اور صحت مند زندگی زیادہ دور نہیں۔

اس انٹرنیشنل فورم کی میزبانی چائنہ میڈیکل یونیورسٹی کے صدر پروفیسر وین ڈی لانگ نے کی اور اس کلاوڈ فورم میں دنیا بھر سے 60 سے زائد یونیورسٹیز کے سربراہان اور پچاس ہزار سے زائد مندوبین نے آن لائن شرکت کی۔پاکستان سے کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل، رجسٹرار پروفیسر سید اصغر نقی، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے پروفیسر عامر زمان خان جبکہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی نمائندگی نائب صدر پروفیسر محمود ایاز، پروفیسر ابرار اشرف اور پروفیسر وارث فاروقہ نے کی۔

شرکا سے خطاب میں پرو فیسر خالد مسعود گوندل کا کہنا تھا کہ ہم سب مشترکہ کوششوں سے طب کی تعلیم سے انسانی صحت کی بہتری کے لئے بڑے اہداف حاصل کریں گے ان اجتماعی کوششوں کی وجہ سے ہم انشااللہ جلد کورونا وبا سے محفوظ دنیا میں زندگی بسر کر سکیں گے۔کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی بریمیا کے بانی ممبران میں سے ہے اورگذشتہ سال کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی اور چائنہ میڈیکل یونیورسٹی کو سسٹر یونیورسٹی قرار دیا گیا۔ بریمیا کانفرنس میں پاکستان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس کے طبی اداروں کی ممبر شپ پوری دنیا کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔امسال چین، کاغستان، تھائی لینڈ، کرغستان، تنزانیہ سے سات نئی یونیورسٹیز کی ممبر شپ کی منظوری بھی دی گئی۔

مزید :

قومی -