ای او بی آئی کے مظلوم پنشنر،حقائق یہ ہیں!

 ای او بی آئی کے مظلوم پنشنر،حقائق یہ ہیں!
 ای او بی آئی کے مظلوم پنشنر،حقائق یہ ہیں!

  

گزشتہ ہفتے بزرگ شہریوں کی ایک مشکل کا ذکر کیا، ای او بی آئی کے پنشنرز کے حوالے سے لکھے گئے اس کالم کے جواب میں ملنے والا ردعمل حیران کن تھا، مختلف شہروں سے آنے والے فون سے پتہ چلا کہ یہ سینئر شہری جن کے حوالے سے اب سینیٹ میں بھی قانون منظور ہو گیا، کتنے حساس اور کس مشکل میں ہیں، یقینا ان کا شکوہ اور شکایت بالکل درست ہے کہ آج کے اس دور میں ساڑھے آٹھ ہزار روپے مہینہ کیا حیثیت رکھتا ہے،اس سے تو ان کی ادویات کا خرچ بھی پورا نہیں ہوتا،چہ جائیکہ کچھ دوسرے اخراجات بھی کئے جا سکیں،ان کا دُکھ یوں بھی بڑھ جاتا ہے کہ ان کو جو پنشن ملتی ہے وہ سرکاری نہیں، ان کی بچت کی رقم ہے اور دورانِ ملازمت ان کے ماہانہ مشاہرے سے جو رقم کٹتی اور اس کے مطابق آجر کا حصہ بھی شامل ہوتا تھا اور اس بچت سے ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد ہی مستفید ہونا تھا، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، ہر حکومت نے ان کو بھکاری ہی جانا ہے، حالانکہ ان کے مال و دولت پر ہر حکومت کے ”نیلی آنکھ والے“ مستفید ہوتے چلے آ رہے ہیں،حتیٰ کہ خود وزارت خزانہ بھی اربوں روپے کی مقروض ہے، اور اب بھی موجودہ حکومت کے چہیتے مزے سے ان کی بچت پر عیش کر رہے ہیں،اور ان کو ان کا حق بھی نہیں ملتا،اربوں کی خوردبرد کرنے والے آزاد اور ڈکار مارے ہوئے ہیں۔

اس کالم کے نتیجے میں ایک مہربان نے ہمیں جو کچھ بھیجا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ای او بی آئی کے ان پنشنروں کو ان کے قانونی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور اب تک رکھا جا رہا ہے،ان کے تو اب واجبات بھی ہزاروں اور لاکھوں سے نکل کر کروڑوں روپے تک جا پہنچے ہیں،اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ غیر ہنر مند کارکنوں کے کم از کم معاوضے کا تعین ”مینیمم ویجز فار ان سکلڈ ورکرز آرڈیننس1969(ڈبلیو، پی،1969xx) کے تحت ہوتا ہے،جب سے یہ قانون پارلیمینٹ سے منظور ہوا، تب سے اب تک کم از کم اجرت (مزدور کی) کا تعین بھی اسی کے تحت ہوتا ہے۔ اسے مزید موثر بنانے کے لئے کسی نے توجہ نہیں دی اور یہ یونہی چلا آ رہا ہے، اور اب جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مزدور کی کم از کم اجرت 20 اور 30ہزار روپے ماہوار تک متعین کی ہے تو وہ بھی اسی آرڈیننس کے تحت ہوئی ہے،اب ذرا شعبہ اور محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ محکموں کی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں، کسی نے اب تک یہ تکلف ہی گوارا نہیں کیا کہ اس پر غور کر لیا جائے، کیونکہ یہ کم از کم اجرت مقرر کرنے کا سلسلہ 1969ء میں شروع ہوا تو تب ملک پر ایک آمر کی حکومت تھی، یہ قانون مغربی پاکستان کے گورنر نے آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا، اور اس کی توثیق پھر پارلیمینٹ نے بھی کر دی،اس کے بعد کی دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بزرگ شہریوں کے بعد از ریٹائرمنٹ تحفظ کے لئے پنشن کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ایک شعبہ ”ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن“ بنایا گیا

،اس کی رو سے یہ طے ہوا کہ ایک مقررہ حد تک ملازم رکھنے والے ادارے/ صنعتیں باقاعدہ رجسٹر کی جائیں گی۔ یہ ادارے آجر اور اجیر سے رقم لے کر انسٹیٹیوشن کے خزانے میں جمع کرائیں گے اور پھر جب متعلقہ ادارے یا صنعت کا ملازم ریٹائر ہو گا تو وہ اس ادارے سے ماہانہ طور پر مقررہ رقم لیا کرے گا جو اس کے بڑھاپے کے سہارے کے لئے ہو گی اور یوں جو بچت اس نے اور اس کے ادارے نے مل کر کی ہو گی، اس سے بعد از ریٹائرمنٹ مستفید ہو گا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب تک یہی صورت حال ہے، لیکن اس نظام سے بزرگ کیا مستفید ہوں گے۔ یہ ادارہ ہر حکومت کے لئے انڈہ،مرغی بن گیا، ہر حکومت اس ادارے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے طور پر اپنے چہیتے نامزد کرتی اور ان میں سے ایک کو چیئرمین بھی بنا دیا جاتا، اس ادارے میں ڈائریکٹر جنرل عہدہ کے بھی تین چار افراد متعین کئے جاتے۔ یہ سب لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ، الاؤنس، گھر،گاڑیاں بھی لیتے ہیں جو اسی جمع ہونے والے فنڈ سے دی جاتی ہیں، پھراسی پر اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ اربوں روپے کی خوردبرد بھی ہوتی ہے۔ دُکھ کا مقام ہے کہ یہ سلسلہ یونہی چلتا چلا آ رہا ہے اور نیب بھی خاموش ہے، خود وفاقی وزارت خزانہ اربوں کی مقروض ہے۔

اب ذرا ایک اور ظلم کی تفصیل بھی بتا دیتے ہیں۔یہ ایک اتنا بڑا استحصال ہے کہ عدلیہ کو ازخود نوٹس لینا ہو گا،بڑھاپے کی پنشن کا تعین بھی غیر ہنر مند افراد کی کم از کم اجرت کا تعین کرنے والے قانون کے مطابق کیا جاتا ہے،اس کے لئے ای او بی آئی (E.O.B.I) بورڈ پر لازم ہے کہ وہ ہر سال حکومتی فیصلے کے بعد ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ پنشن بھی کم از کم اجرت کے برابر کر دے، اس سلسلے میں آخری نوٹیفکیشن /سرکلر یکم مارچ2016ء کو جاری ہوا،جس کے مطابق اس قانون کے ترمیمی قانون (VII OF 2016) کے مطابق غیر ہنر مند افراد کی کم از کم اجرتوں کا تعین ہوا،اس کے مطابق ای او بی آئی  کے پنشنرز کی پنشن کا بھی تعین ہو گیا اور آجر، اجیر کا حصہ بھی طے کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن/سرکلر کے مطابق یکم جولائی2012ء سے 30جون 2013ء تک آجر کا حصہ 400 روپے، یکم جولائی 2013ء سے 30جون 2014ء تک آجر کا حصہ 500 روپے، یکم جولائی 2014ء سے 30جون 2015ء تک آجر کا حصہ 600 روپے اور پھر یکم جولائی2015ء سے تا حکم ثانی650 روپے، یہ ماہانہ ہے اور یہ لکھا گیا کہ فی کارکن(انشورڈ) کا ہے،اسی حکم کے تحت کارکن/ اجیر کا حصہ80 روپے، 100روپے، 120 روپے اور130 روپے ماہانہ متعین ہوا اور اب تک وصولی اسی تناسب سے ہو رہی ہے،

اور اس قانون اور نوٹیفکیشن کے مطابق ای او بی آئی پنشن ماہانہ آٹھ ہزار، دس ہزار،بارہ ہزار اور 13ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی، اس کے بعد مزید کوئی نوٹیفکیشن(اضافہ) جاری نہیں ہوا،جبکہ کم از کم اجرت(حکومتی) بڑھتی رہی، جو اب20ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ اس تناسب سے معمر/بزرگ(ای او بی آئی) پنشنروں کو اضافہ نہیں دیا گیا، جو قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یوں ان ”بابوں“ کے واجبات ای او بی آئی کے ذمہ واجب ہیں،اب یہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اس پوری تفصیل کے مطابق غور کر کے ان حق داروں کو ان کا حق دلائیں، عدالت عظمیٰ کو بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ از خود نوٹس کا مکمل کیس ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔

اڑتی اڑتی زبانی طیور کی،انسٹیٹیوشن کے ملازمین کی وضاحت بھی بتا دیں۔ وہ کہتے ہیں پورا بورڈ آف ڈائریکٹرز اپنی مراعات کی فکر کرتا ہے کسی کو فکر نہیں کہ آجروں سے وصولی کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ انشورنس کا کیا حصہ ہے، کہ یہ رقم تو انشورنس کمپنیوں سے واجب الادا ہے،(تھوڑے لکھے کو  زیادہ جانیں۔ (باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -