آسانیاں پیدا کریں 

آسانیاں پیدا کریں 
آسانیاں پیدا کریں 

  

ہر ماہ لاکھوں روپے الماری میں اپنے ہاتھوں سے رکھنا تو ایک عام سی بات تھی۔کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، بنگلے، ہزاروں روپے کی شاپنگ کرنا معمول تھا۔ پھر اچانک جیبیں بھر کر روپے پیسے لانے والے اعلیٰ پولیس آفیسر کا انتقال ہو گیا۔ اکلوتا بیٹا نشے کی لت میں پڑ گیا۔ بیوی جس کے مہنگے ترین ملبوسات، جوتے، میک اپ کا سامان، زیورات، کھانا پینا رہن سہن شاہانہ تھا سب ختم ہو گیا۔ بینک بیلنس، گاڑیاں، بنگلے سب فروخت ہو گئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا۔ وہ عورت جو پیسے کی ریل پیل کی وجہ سے کسی انسان کو انسان نہیں سمجھتی تھی۔ بدتمیزی سے پیش آنا،جس کا وطیرہ تھا۔ کسمپرسی کے گھپ اندھیرے میں گم ہو گئی۔ کہاں اس وقت کروڑوں روپے کی عیش و عشرت اور اب حالت یہ کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں دھکے کھانے پر مجبور۔

خاکسار کو اپنے دوست حافظ قادر بخش کے کلاس فیلو کے گھر کی یہ کہانی سن کر استاد محترم جناب پروفیسر جاوید چودھری ماہر امراض چشم کی سنائی روداد ذہن میں آ گئی جب وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج و میو اسپتال لاہور میں کام کر رہے تھے اور ایک ڈی آئی جی پولیس جو ان کے کزن کا دوست تھا آفس آ ٹپکا بہت مشکل میں ہوں۔ بیٹے کے کالج داخلہ کے لئے 3لاکھ درکار ہیں،جو آپ کو 6ماہ میں واپس کر دوں گا۔ بھلے مانس چودھری صاحب نے پیسے دے دئیے۔6 ماہ بعد جب ڈی آئی جی کے قربان لائن گھر گئے تاکہ حسب ِ وعدہ پیسے واپس مل جائیں۔ وہاں ایک نئی آفت نے آن لیا۔ ڈی آئی جی کی بیوی نے رونا شروع کردیا کہ ایک اور مشکل آن پڑی ہے۔ بیٹا لندن میں پڑھ رہا۔ 3 لاکھ مزید دے دیں۔ ہم اکٹھے6لاکھ  واپس کر دیں گے ورنہ ہمارے بیٹے کو کالج سے نکال دیا جائے گا۔رحم دل چودھری صاحب نے کہا۔ او ہو بھابی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ لندن ایک بہت ہی قریبی دوست ہے۔اس سے کہتا ہوں۔ بچے کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کر دیتا ہے،چونکہ اس دن ہفتہ تھا۔

بینک بند تھے اور ڈی آئی جی کا اصرار تھا رقم ابھی چاہیے تو چوہدری صاحب نے ایک بار پھر 3 لاکھ دے دئیے۔ چند دن بعد جب جاوید چوہدری صاحب کا رابطہ لندن اپنے دوست سے ہوا۔کیا سنتے ہیں۔ خدا کی پناہ! ڈی آئی جی ان سے بھی 3 لاکھ روپے لے اڑا تھا۔ چودھری صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ اتنا بڑا دھوکہ۔ اس سارے کھیل کے بعد چوہدری صاحب ڈی آئی جی کو فون کریں وہ فون نہ اٹھائے۔6 ماہ یہ سلسلہ چلتا رہا اور ڈی آئی جی سندھ جا کر ایڈیشنل آئی جی لگ گیا۔ کچھ عرصہ بعد جب چودھری صاحب کراچی ایف سی پی ایس پارٹ 2 کا امتحان لینے گئے تو لگے ہاتھوں ایڈیشنل آئی جی صاحب کو فون کر کے رقم کا تقاضہ کیا تو ایڈیشنل آئی جی خود چودھری صاحب سے ملنے سی پی ایس پی آگیا اور وہی پرانی رام کہانی سنانا شروع کردی کہ اس کے حالات ٹھیک نہیں وہ قرض واپس کر دے گا، لیکن پیسے نہ لوٹائے اور ایک دن ٹی وی پر اس ایڈیشنل آئی جی کی گرفتاری کی خبر آ گئی۔

خاکسار نے اپنے ابا جی حضور کو پروفسیر جاوید چوہدری کا یہ قصہ سنا کر کہا۔ ابا جی کیا ان لوگوں کو مرنا یاد نہیں؟ ابا جان بولے۔ بھئی آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ آپ کو کیا پریشانی لاحق ہے؟ آپ کیوں سارے کرپٹ لوگوں کو صراط مستقیم پر لانے کے درپے ہیں؟ آپ فکر نہ کریں۔ کرپشن کے ان میناروں کے دِل ودماغ پر غفلت کی چربی چڑھ چکی۔  اس کا نتیجہ ان کی بگڑی اولاد کی صورت میں ضرور ملے گا، لیکن ان کرپٹ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔ ابا کے بقول دوران ملازمت اپنے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے انہوں نے کہا کہ جناب تجوریاں بھرنے سے توبہ کر لیں۔ اب بس بھی کر دیں، جس اولاد کی خاطر آپ مال و متاع جمع کر رہے۔ کل کلاں وہ قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی نہ آئے گی۔ایم ایس صاحب نے جواب دیا۔ ملک صاحب چوری 5 روپے کی ہو یا 5 کروڑ کی سزا تو ایک ہی ہے تو ڈرنا کیسا؟ اور جب مریں گے دیکھا جائے گا۔ ابا نے ایم ایس سے کہا۔ جناب جاری رکھیں۔

میں نے ابو جی سے کہا کہ ایم ایس بھلا کیا کرپشن کر سکتا ہے؟انہوں نے ادویات، طبی آلات کی خریداری، تعمیر و مرمت، حکومت کے سالانہ بجٹ سے لے کر نوکریوں پر رکھے جانے والے افراد سے لاکھوں روپے بٹورنے کی لمبی داستان سنا کر میرے چودہ طبق روشن کر دئیے۔ 

میں نے بابا جانی سے کہا۔سارے ڈاکٹر اور آفیسر کرپٹ تو نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا۔جی بالکل درست۔ ایمان دار افسروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر۔ اگر کوئی آفیسر ایمان دار ہو اس کے ماتحت اپنے پیٹ کی خاطر اسے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ابھی دو  دن پہلے آپ ہی نے بتایا کہ آپ کے ایک ڈاکٹر دوست سے ایک باریش آفیسر نے ایک لاکھ یہ بتا کر وصول کئے کہ 6 آدمیوں میں یہ رقم تقسیم ہو گی تب جا کر آپ کی پروموشن کی فائل حرکت کرے گی۔ اسی لئے تو 74 سال ہو گئے ڈاکٹرز کا سروس سٹرکچر یہ عظیم لوگ اپنی غربت مٹانے کے چکر میں بننے نہیں دیتے اور افسران بالا کو نت نئی پٹیاں پڑھاتے ان کے قلم سے غلط کام کروا کر اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں۔ ابو جی نے کہا۔آپ نے مجھ سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد سی ایس ایس کرنے کی اجازت طلب کی۔میں نے آپ کو اجازت کیوں نہ دی؟ اس لئے کہ بطور سرکاری ملازم سینکڑوں بار سول سیکرٹیریٹ کے درشن کئے۔ میں نے شاذ و نادر ہی کسی بھی افسر کو مخلوق پر اپنا سب کچھ لٹانے والا پایا۔ 

اور ہر کام کے لئے نذرانہ دینے کا رواج دیکھ کر مجھے آپ کے پروفیسر آف میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر نور احمد نور (مرحوم) کے ذاتی مشاہدات پر مبنی لکھی کتاب (قبر کے اندرونی مناظر) یاد آ گئی، جس میں انہوں نے لکھا کہ اللہ کی مخلوق کے لئے زندگی گزارنے والوں کے کفن و جسم کئی سال سے تروتازہ تھے۔ جیسے ابھی دفن کیا گیا ہو اور اللہ معاف کرے۔لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والوں کے حالات بتانے کے قابل نہیں۔ ابا جان نے کہا یہ جو لوگ کہتے ہیں مرنے کے بعد انسان مٹی ہو جاتا ہے۔ پروفیسر نور کی قبر کشائی پر لکھے واقعات پڑھ کر اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ اللہ اس کی مخلوق پر سب کچھ قربان کرنے والے پر بہت مہربان۔ اس کے کفن کو میلا تک نہیں ہونے دیتا۔

ابا جی حضور نے بات سمیٹتے کہا۔ دوسروں سے اپنا موازنہ مت کریں۔ مظلوم کی آہ سے بچیں۔ یہ اللہ کا عرش ہلا دیتی ہے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں۔ حلال کھائیں کیونکہ حرام کا ایک لقمہ نسلیں برباد کردیتا ہے اور سب سے بڑھ کر سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ اللہ سوہنا آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -