امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ پر عمل کرنا ہوگا 

 امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ پر عمل کرنا ہوگا 
 امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ پر عمل کرنا ہوگا 

  

ایران کے نو منتخب صدرسید ابراہیم رئیسی نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ملاقات نہیں کریں گے۔ امریکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آجائے اور تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔ امریکہ ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کرے۔ ایران کے حالیہ صدارتی ا نتخابات میں سخت گیر نظریات کے حامل ابراہیم رئیسی 60 فیصد ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ 2 کروڑ 80 لاکھ افراد نے انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے ایک کروڑ 78 ہزار ووٹ ابراہیم رئیسی کو ملے۔60 سالہ ابراہیم رئیسی انقلاب ایران کے فوری بعد سے ہی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ صرف 20 سال کی عمر میں دو صوبوں کے پراسیکیوٹر رہے اور  دارالحکومت کے نائب پراسیکیوٹر اور پھر چیف پراسیکیوٹر مقرر ہوئے۔بعد ازاں دس سال تک عدلیہ کے نائب سربراہ رہے اور 2019 سے اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

ابراہیم رئیسی کی کامیابی امریکا اور مغرب کی شکست ہے کیونکہ امریکی و مغربی ممالک، سفارتکار، میڈیا، این جی اوز براہ راست اور بالواسطہ ایران کے اندر مداخلت کرتی رہی ہیں کہ ان کیلئے قابل قبول شخص صدر منتخب ہو جائے، لیکن ایرانی عوام نے رئیسی کو صدر منتخب کرکے امریکی و مغربی عزائم کے پرخچے اڑا دیئے۔ ایرانی قوم نے ہمیشہ ہر مرحلے پر ایک خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا ہے۔

نو منتخب صدر نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایسے ایٹمی مذاکرات ہرگز قبول نہیں کریں گے جن میں دوسرے مسائل اور معاملات کو بھی شامل کیا جائے۔یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں اور ہم ایران میں سعودی سفارت خانہ دوبارہ کھولے جانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں۔ سید ابراہیم رئیسی نے امریکہ اور مغربی ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے مسلمہ قانونی حق کو تسلیم کرے اور ظالمانہ پابندیاں ختم کریں۔

ابراہیم رئیسی کو آنے والے عرصے میں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان میں نمایاں ترین چیلنج بوجھ سے لدی اقتصادی صورت حال ہے۔ اس مسئلے کے علاج کے لیے اس وقت کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔ صدر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایرانی معیشت بہتر بنائیں گے اور ایرانی گھرانوں کی معاشی سطح بلند کریں گے۔ اس مقصد کے لیے جن امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی ان میں ملک کے مقامی وسائل، حلیف ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اور صنعتی پیداوار کی مضبوطی شامل ہے۔

امریکی پابندیاں ابھی تک جاری و ساری ہیں اور ایران کے بینک عالمی معیشت کے ایک بڑے حصے سے منقطع ہیں۔ مئی 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد سے ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں 80% تک کمی آ چکی ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے بعد ایران کی معیشت سکڑ گئی۔

صدر حسن روحانی کی حکومت نے مالیاتی مارکیٹس پر کنٹرول کی کوشش کی مگر اس پالیسی کے برعکس نتائج برآمد ہوئے اور بحران مزید سنگین ہو گیا۔ اسی طرح افراط زر میں بڑے پیمانے پر اضافے اور کمزور کرنسی کے ساتھ قوت خرچ میں واضح کمی آئی جس سے آمدنی کو بھی ضرر پہنچا۔امریکا نے عملی طور پر ایران کے خام تیل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی۔ واشنگٹن نے دیگر ممالک کو دھمکی تھی کہ اگر انہوں نے تہران سے تیل یا گیس خریدی تو ان ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ تیل کی آمدنی اور پیداوار میں کمی اور غیر ملکی کرنسی کی قلت کے نتیجے میں ایران کی معیشت کی نمو کو نقصان پہنچا۔

ایران کا شمار مشرق وسطیٰ کے خطے میں کورونا 'ایپی سینٹر‘ میں ہوتا ہے۔ شدید اقتصادی پابندیوں کے شکار اس ملک نے کورونا وائرس کے خلاف متعدد ویکسینز خود اپنے ہاں بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک ویکسین ایران، کیوبا کے تعاون سے تیار کر رہا ہے۔ ایران پر لگی امریکی پابندیاں اس ملک کو اپنی ادویات سازی کی صلاحیت بروئے کار لانے اور اس صلاحیت کو بہتر بنانے کی راہ میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ایران کی ویکسین کا نام  'فخرہ‘ رکھا گیا ہے۔ یہ اقدام مقتول ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ فخری زادہ ایران کی وزارت دفاع کے ریسرچ کے شعبے کے سربراہ بھی تھے۔ اسی شعبے کے ایما پر نئی ویکسین کو ایرانی مقتول سائنسدان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ایرانی جوہری سائنسدان کو ’اسرائیلی انٹیلیجنس موساد‘ نے قتل کروایا تھا۔ فخری زادہ کے ایک صاحبزادے کو علامتی طور پر 'ویکسین فخری‘ کا پہلا  ٹیکا لگایا گیا۔ 

مزید :

رائے -کالم -