سازش کے تحت میڈیکل کالج تباہ کئے جا رہے ہیں 

سازش کے تحت میڈیکل کالج تباہ کئے جا رہے ہیں 
سازش کے تحت میڈیکل کالج تباہ کئے جا رہے ہیں 

  

تعلیم حاصل کرنا، اللہ رب العزت نے ہر  مسلمان پر فرض قرار دیا ہے،غیر مسلم دنیا نے اس اسلامی حکم کو اپنایا اور آج سائنس،ٹیکنالوجی اور میڈیکل کی دنیا میں کارنامے انجام دے رہی ہے، ہمارے ہاں تعلیم و تدریس جو کبھی مقدس فریضے تھے اب کاروبار بن چکے ہیں،تعلیمی ادارے طلباء کے والدین کی جیب پر نظر رکھتے ہیں اور طلباء کو بھی شائد  ڈگری اِس لئے حاصل کر نا ہوتی ہے کہ  ملازمت کر سکیں،یہی وجہ ہے کہ تحقیق کی دنیا میں صرف پاکستان ہی نہیں اسلامی دنیا کا کوئی ہاتھ نہیں، جبکہ وہ علوم و فنون جن کی بنیاد پر آج مغربی دنیا ترقی یافتہ ہے ان کے بانی زیادہ تر مسلمان تھے۔دنیا بھر میں طب کی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسے مقدس پیشہ تصور کیا جاتا ہے،بنیادی طور پر میڈیکل کی تعلیم مسیحائی ہے دکھی اور بیمار انسانیت کی،مملکت ِ خداداد میں ویسے ہی میڈیکل کی سہولیات روائتی ہیں،کسی پیچیدہ مرض کے علاج کے لئے آج بھی  اہل ثروت بیرون ملک جاتے ہیں،ستم یہ کہ جو تھوڑی بہت میڈیکل کی سہولیات حاصل ہیں بعض غیر پیشہ ور  لوگ  ان کی تباہی کا بھی سبب بن رہے ہیں۔

پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر  ہے، جبکہ عالمی معیار کے مطابق 70ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ضروری ہے،ملک بھر میں صرف 59سرکاری میڈیکل کالج ہیں،اس ضرورت کو پرائیویٹ میڈیکل کالج پورا کر رہے ہیں، جن کی تعداد سرکاری اداروں سے دگنا، یعنی 114 ہے، ان اداروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ہے۔ پامی نامی اس تنظیم کے سربراہ چودھری عبدالرحمن نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس  میں  بڑے انکشافات کئے، جن کے مطابق نجی میڈیکل تعلیمی اداروں اور ان میں زیر تعلیم ہزاروں طالب علموں کے مستقبل سے ایک سازش کے تحت کھیلا جا رہا ہے، مگر وزارت تعلیم اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی ہیں،پیشہ طب اور اس کی تعلیم جو مقدس ترین ہے دونوں طفل مکتب قسم کے مفاد پرستوں کی بھینٹ چڑھے ہوئے  ہیں۔

چودھری عبدالرحمن نے اس موقع پرنجی میڈیکل کالجوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے پی ایم سی کی کارکردگی پر وائٹ پیپر بھی جاری کیا، اور مطالبہ کیا کہ این ایل ای کی شرط واپس لی جائے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا کر ہمارے مطالبات سنے جائیں ورنہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے، ان کے ہمراہ  دیگر  پامی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پی ایم سی نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے،ایک وکیل کو پی ایم سی کا نائب صدر بنا دیا گیا ہے جن کا نہ میڈیکل سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی تعلیم اور تعلیمی اداروں سے کوئی تعلق، اپنی ناتجربہ کاری کے باعث وہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنے اور میڈیکل کالجوں کو تباہ کررہے ہیں،وہ مقامی کالجوں کی بجائے غیر ملکی میڈیکل کالجوں کے مفادات کے لئے کام کررہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ  پامی 173 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے،  ملک میں چینی آٹے اور رنگ روڈ سے بڑا سکینڈل جنم لے رہا ہے، جس میں  ایک منظم طریقے سے طبی تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

کورونا وبا  میں پوری دنیا میں طبی عملے کی مانگ بڑھ گئی ہے پاکستان میں طبی تعلیمی اداروں پر نااہل لوگ مسلط کر دئیے گئے ہیں پی ایم سی کی صورت میں نا اہل لوگ اس اہم شعبہ پر مسلط ہیں۔ایڈمیشن ریگولیشن 2020ء  کے نام پر سندھ کے میڈیکل کالجوں کو تباہ کر دیا گیا، ماضی کی روایات کے منافی سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کے داخلے ایک ساتھ کھول دئیے گئے،ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، پہلے سرکاری پھر نجی کالجوں کے داخلے ہوتے تھے،ایم ڈی کیٹ میں کبھی دوہری شرط نہیں تھی، مگر ایم ڈی کیٹ میں زمینی حقائق کے خلاف ایک نئی شرط لگا دی گئی،سندھ میں بارہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں میں داخلے نہیں ہو پائے اب وہ تمام کالج تباہی کے دہانے پر ہیں،ایم ڈی کیٹ کے نام پر میڈیکل کالجوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔پی ایم سی کے نائب صدر پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ میں مقامی نجی میڈیکل کالجوں کو ختم کر دوں گا وہ مقامی کالج تباہ کر کے غیر ملکی کالج چلانا چاہتے ہیں۔ 

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کا عالمی رینکنگ میں ایک سو بانوے میں سے ایک سو پینسٹھ واں نمبر ہے، گڈاپ میر پور خاص جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں نجی میڈیکل کالج سہولیات دے رہے ہیں،پی ایم سی میں وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ تو  موجود ہیں، لیکن ایک بھی متعلقہ نہیں، ایک کالج پر اربوں روپے لگتے ہیں آپ انہیں بند کر رہے ہیں ایم ڈی کیٹ کا میرٹ راتوں رات چھبیس سے پینسٹھ کر دیا گیا۔ایڈمیشن ریگولیشن 2021ء اور2022ء میں عجیب معاملات ہیں، آغا خان میڈیکل کالج کو سہولیات دینے کے لئے کام ہورہا ہے،آغا خان میڈیکل کالج میں فیس زیادہ ہے کووِڈ سے مرنے والا بھی وہاں پچاس لاکھ دے کر جاتا ہے،آپ نے عدالت میں لکھ کر دیا کہ کیٹگرائزیشن نہیں ہو گی، لیکن اب ہو رہی ہے،ایم ڈی کیٹ کے نام پر کالج کو  بند کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

   چودھری عبدالرحمن کا یہ کہنا بالکل  درست ہے کہ ملک میں ہیلتھ کا انفراسٹرکچر پہلے ہی بہتر نہیں اس لئے  پی ایم سی کو بچوں کے مستقبل سے کھیلنے اور میڈیکل کالجوں کو تباہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اگر این ایل ای کی وجہ سے بچے خودکشی کرتے ہیں تو کون ذمہ دار ہو گا؟اِس لئے اعلیٰ سطح کمیٹی بنا کر  ان کے تحفظات سنے جائیں اور مسائل کا حل نکالا جائے، صدر مملکت خود  ڈینٹسٹ ہیں وہ سندھ کے میڈیکل کالجوں کو بچائیں۔میرے خیال میں حکومتی اداروں کو اس کا فوری نوٹس لینا ہوگا تاکہ کوئی بھی  ملک میں نجی طبی تعلیمی اداروں  کے ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے نہ کھیل سکے۔

مزید :

رائے -کالم -