افغانستان کا مستقبل

 افغانستان کا مستقبل
 افغانستان کا مستقبل

  

افغانستان، پاکستان کا ہمسایہ ہے اور ہمسایہ رہے گا۔ اس کے ماضی کا ایک طویل عرصہ میرے سامنے پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے قومی شاعر حضرتِ اقبال کو افغانستان سے محبت ہی نہیں عقیدت تھی۔ وہ جب عمر کے آخری حصے میں بادشاہِ افغانستان کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے تھے تو ان کا ایک ٹاسک اس ملک کے نظام تعلیم کا ایک مجمل خاکہ تیار کرنا بھی تھا۔ ان کے ہمراہ سلیمان ندوی اور راس مسعود بھی تھے۔(دیکھئے خرم علی شفیق کی کتاب ”اقبال…… ایک باتصویر سوانح عمری“ صفحہ نمبر179) اپنے قیامِ افغانستان کے دوران انہوں نے کابل، قندھار اور غزنی کا دورہ کیا۔ شہنشاہ بابر، سلطان محمود، حکیم سنائی اور احمد شاہ درانی کے مزارات پر حاضری دی اور واپس آکر مثنوی ”پس چہ باید کرد“ لکھی۔ یہ سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔ اور اس سے پہلے اردو میں بھی ’محراب گل افغان کے افکار‘ کے نام سے علامہ نے ایک طویل نظم لکھی۔ یہ محراب گل ایک خیالی اور علامتی کردار تھا جس کی زبان سے اقبال نے ملتِ افغانیہ کے ماضی و حال (اور مستقبل) پر بہت دلسوز منظومات قلمبند کیں۔ اس طویل نظم کے 20بند ہیں اور پہلے بند کا پہلا شعر ہے: 

میرے کہستاں تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں 

تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک

اپنے ایامِ جوانی میں، میں نے یہ ساری اردو اور فارسی نظمیں پڑھیں۔ پھر فوج میں آیا اور بطور کپتان جب ISI ہیڈکوارٹر میں پوسٹنگ ہوئی تو ایران، افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں کے سیکشنوں میں تعیناتی کے دوران ان ممالک کے جغرافیے اور تاریخ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے مواقع ملے۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جب 24دسمبر 1979ء کو سوویت یونین نے دریائے آمو عبور کرکے افغانستان پر حملہ کیا تو پاک فوج پر یہ کڑا وقت تھا۔ جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ اور جب 1988ء میں سوویت یونین اور افغانستان کے درمیان روسی افواج کے انخلاء کا معاہدہ ہوا اور سوویت فوجوں کو وہاں سے نکلنا پڑا تو یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔ رشین ائر فورس کو امریکہ کے سٹنگر میزائل نے شکست دی اور اسی عرصے میں امریکی سرمائے اور سلاحِ جنگ کے بل بوتے پر پاکستان نے دولینڈ مارک کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ ایک افغان جہاد کی آپریشنل / پلاننگ کی تکمیل تھی اور دوسری پاکستان کو جوہری ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنا تھا…… یہ سب کچھ افغانستان میں ہو رہا تھا اور سارے افغان باشندے پاکستان کی ان کامرانیوں کو دیکھ رہے تھے…… اس کے بعد طالبان کا عروج، نوگیارہ کا واقعہ، امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور پورے 20برس کے بعد یہاں سے نکلنے کا فیصلہ۔ یعنی یہ وہ دور تھا جس میں دنیا کی ایک سپرپاور (سوویت یونین) آٹھ برس تک افغانستان کے کوہ و دمن میں رہی لیکن بحرِِ ہند کے گرم پانیوں تک رسائی نہ پا سکی۔ اور پھر دنیا کی دوسری سپرپاور 20برس تک اسی افغانستان میں مصروفِ پیکار رہی لیکن نہ تو افغانوں کا جذبہء مزاحمت ٹھنڈا کر سکی اور نہ پاکستان کی جوہری قوت کا کوئی بال بیکا کر سکی۔

قارئین گرامی! یہ سب کچھ جو میں عرض کر رہا ہوں، اس کی ساری تفصیل آپ میں سے بہت سے قارئین کو معلوم ہے۔ لیکن ایک سوال جو میرے لئے ایک معمہ بنا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان نے یکے بعد دیگرے گزشتہ چار عشروں میں دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں کو سرنگوں بلکہ ذلیل و خوار کرکے اپنے کوچہ و بازار سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تو کیا اس کے بعد آنے والے چار عشروں میں بھی ایسا ہی ہو گا؟…… آخر افغانستان کی نجات کس دیرینہ مسئلے کے حل میں ہے؟……

کیا کسی کو معلوم ہے کہ حضرت اقبال نے 20ویں صدی کے تیسرے عشرے میں شاہِ افغانستان، نادر شاہ کی دعوت پر جس نظامِ تعلیم کے خد و خال کی رپورٹ کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا تھا، اس کا کیا بنا؟…… کیا وہ رپورٹ آج کسی کے پاس موجود ہے؟…… کیا غیر منقسم انڈیا کے ان تین مسلم رہنماؤں (اقبال، سلیمان ندوی اور راس مسعود) نے جو تعلیمی رپورٹ مرتب کرکے نادر شاہ کے حوالے کی تھی اس کی کوئی کاپی اب ہمارے ہاں (یا کسی اور جگہ) دستیاب ہے؟ اگر ہے تو اس پر کسی نے بحث و مباحثہ کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو اس کا انجام کیا ہوا؟…… میں یہ سب کچھ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ افغانستان نے 1930ء کے عشرے میں جس نظامِ تعلیم کو درخور اعتنا نہیں گردانا تھا، ایک صدی بعد 2030ء کے عشرے میں کیا افغانستان کے تعلیمی مستقبل کا پرنالہ وہیں رہے گا یا اس میں کوئی بہتری آئے گی؟ …… اگر آئے گی تو اس کا ثبوت کیا ہو گا اور نہیں آئے تو اس کا سبب کیا ہوگا؟ 

افغانستان کے زعماء اور اکابرین آج اپنے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان،ایران،ترکمانستان،تاجکستان،ازبکستان وغیرہ نے تعلیمی میدان میں جو ترقی کی ہے وہ تو ساری دنیا کو معلوم ہے لیکن افغانستان کیا اتنا ہی بدنصیب ہے کہ اس کے مقدر میں صرف اور صرف جنگ و جدال اور کشت و قتال ہی لکھا ہوا ہے؟…… اگر امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی افغانستان میں قبائلی تقسیم وہی رہی کہ جس کی طرف اقبال نے شیرشاہ سوری کا حوالہ دے کر اشارہ کیا تھا تو اس سے زیادہ بدنصیبی کی بات اور کون سی ہو گی؟

یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے

کہ امتیازِ قبائل تمام تر خواری

فرض کریں کل کلاں طالبان کا کنٹرول، افغانستان پر مکمل ہوجاتا ہے۔ کشت و خون کے باوجود طالبان سارے افغانستان پر تسلط جما لیتے ہیں تو افغانستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا وہ ایک بار پھر طاقتور اور جدید اقوام کی ترک تازیوں کا نشانہ بنے گا؟ پہلے برطانیہ، پھر سوویت یونین اور پھر امریکہ (بلکہ سارا یورپ، NATOکے روپ میں) نے دیکھ لیا کہ ان کا حشر کیا ہوا ہے۔ اب صرف چین رہ گیا ہے۔ کیا وہ بھی افغانستان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو قبل ازیں تین بڑی طاقتیں کر چکی ہیں؟

بالفرض اگر طالبان حکومت 2022ء میں سارے افغانستان پر قابض ہو جاتی ہے تو کیا وہ صرف وہی کچھ کرے گی جو اس نے اپنے پہلے چار پانچ سالہ دور میں کیا تھا یاکسی نئے تعمیری مرحلے کی طرف پیش قدمی کرے گی؟…… وہ نیا تعمیری مرحلہ کیا ہو سکتا ہے؟ 

کیا آج، افغانستان کو ایک ویسے ہی اسلامی وفد کی ضرورت ہے جو اکتوبر 1933ء میں اقبال کے ساتھ افغانستان گیا تھا؟ فرض کریں اگر آج کوئی تعلیمی سفارشات ترتیب دے لی جاتی ہیں تو طالبان میں ایسی قد آور شخصیت کون سی ہو گی جو ان سفارشات کو  روبہ عمل لانے کا بیڑا اٹھائے گی؟

میرے خیال میں افغانستان کا سب سے بڑا مسئلہ قومی یک جہتی کے علاوہ اس کی تعلیمی یک جہتی بھی ہے۔ کیا کوئی افغان رہنما ہمیشہ اسی بات پر فخر کرتا رہے گا کہ اس کے کوہستانوں اور میدانوں میں کوئی غیر افغان آکر حکمرانی نہیں کرسکتا؟…… یہ دعویٰ کوئی ایسا قابلِ فخر و مباہات دعویٰ نہیں …… طالبان کو اس حقیقت کا ادراک کون کروائے کہ اس کی نجات (امتیاز قبائل کا مسئلہ حل کرنے کے بعد) ایک ہمہ گیر تعلیمی و تدریسی نظام کا نفاذ ہے۔ آج افغانستان کو قومی زبان کی سلیکشن کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ گزشتہ تمام حکومتوں نے فارسی (دری) کو سرکاری (اور عسکری) زبان قرار دے کر دیکھ لیا ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا! …… میرے خیال میں افغانستان کے مذہبی مدرسوں کی جگہ جب تک جدید تعلیمی مراکز قائم نہیں کئے جائیں گے اور ان میں جدید علوم و فنون کی تدریس کا بندوبست نہیں کیا جائے گا تب تک افغانستان میں قومی انسلاک و اتحاد پیدا نہیں ہو سکے گا۔ یہ ایک بڑا ہی ٹیڑھا اور ادق چیلنج ہے۔

طالبان کو ابھی سے اس کی فکر کرنی چاہیے۔ ان کو ماضی کی تلخیوں کو بھلانا پڑے گا اور ایک ایسا تعلیمی نصاب اور نظام ترتیب دینا پڑے گا جو افغانستان کی قومی اور مسلکی امنگوں کا ترجمان ہو۔ افغان آرمی کی تشکیل و ترتیب بھی ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ یہ خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک افغانستان میں مسلکی مدرسوں کی جگہ ایسے تعلیمی ادارے (سکول اور کالج) قائم نہیں کئے جاتے جن میں جدید علوم کی تحصیل و تدریس کی جا سکے۔

اگرچہ یہ انجانے مستقبل کی بات ہوگی اور شاید دور کی کوڑی بھی متصور ہو گی لیکن اگر طالبان، اس سلسلے میں پاکستان سے ایک اعلیٰ سطحی غیر سیاسی اور علمی وفد کی درخواست کریں جو کابل پہنچ کر ایک ایسا ٹائم ٹیبل مرتب کرکے حکومت کے حوالے کرے جس پر بتدریج عمل کیا جا سکے تو شاید اس سے افغانستان کے مستقبل کا کوئی حل نکل سکے……جب تک تعلیم کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، افغانستان کا معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکے گا اور ہمیشہ دوسری اقوامِ عالم کی تحریص کا سبب بنتا رہے گا!!

مزید :

رائے -کالم -