قومی اسمبلی، ایوان قرارداد پاس کرکے صدارتی نظام کو دفن کردے،اپوزیشن 

قومی اسمبلی، ایوان قرارداد پاس کرکے صدارتی نظام کو دفن کردے،اپوزیشن 

  

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپو زیشن ارکان شاہد خاقان عباسی، غلام مصطفی شاہ اور خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پارلیمانی ایوان میں یہ ہمت ہونی چاہیے کہ ایک قرار داد پاس کر کے  ہمیشہ کے لیے صدارتی نظام کو دفن کردیا جائے،اسپیکر قومی اسمبلی اس ایوان کو چلانے میں ناکام ہیں، نہ حکومت کا بینچ ان کی بات سنتا ہے نہ اپوزیشن، جب حالات یہ ہوجائیں تو ایک ہی باعزت راستہ رہ جاتا ہے، یہ معاملہ یہاں رکے گا نہیں ایوان میں جو کتاب یہاں سے یا حکومتی بینچز سے ماری گئی وہ ملک کی جمہوریت کو ماری گئی،آپ دیکھیں گے ایک دن آئے گا کہ یہ ٹی وی پر یہ پروگرام چلیں گے کہ یہ جمہوریت ہے تو اس سے بہتر آمریت ہے، جب یہاں حملہ ہوا تو سوشل میڈیا پر باتیں چلیں کہ صدارتی نظام لایا جائے پارلیمانی نظام ناکام ہے، ملک صدارتی نظام میں دو لخت ہوا تھا، یہ ملک صدارتی نظام میں نہیں چل سکتا، اس ایوان میں یہ ہمت ہونی چاہیے کہ ایک قرار داد پاس کر ہمیشہ کے لیے صدارتی نظام کو دفن کردیا جائے، حالیہ بجٹ میں کہیں غریب کا ذکر نہیں کیا گیا، جھوٹ ہی بول دیتے کہ ہم ریلیف دیں گے،قومی اثاثے گروی رکھنے کی مخالفت کریں گے، وزیراعظم ہاؤس کی گاڑی بیچی گئی پھر مہنگی خریدی گئیں اب نئی کہانی یہ آگئی کہ ایئرپورٹس اور موٹرویز کو گروی رکھیں گے۔ جو افراد یہ ایئرپورٹس اور موٹرویز بناتے ہیں وہ مجرم اور چور ہوئے تو جو گروی رکھتے ہیں انہیں کیا جائے یہ سوال سب سے ہے اور ان سے بھی ہے جو انہیں لے کر آتے ہیں۔ قومی اثاثے گروی رکھنے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، اپوزیشن میں جتنی بھی سکت ہے اس کی مخالفت کی جائے گی، سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بات کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ وہ جیل میں بھیج دیا جاؤنگا،وزیر اعظم نے کہا اپوزیشن فوج کو اکساتی ہے، بتائیں کس نے کس افسر سے رابطہ کیا، کرپشن کا چورن اب مزید نہیں بکنے والا،مہربانی کریں آپ قومی ہم آہنگی کی بات کریں،دھرنا دے کر آپکی حکومت نہیں گرائیں گے،انتقام کا سلسلہ کہیں رکنا چاہیے،حکومت کے بجٹ اور تقریروں میں تضاد ہے،کالے کو سفید اور سفید کو کالا نہیں کر سکتے،کوئی قوم معاشی خود مختاری کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی،معاشی عدم استحکام تب پیدا ہوتا ہے۔غلام سرور خان، با بر اعوان، فرخ حبیب و دیگر نے کہا   اپوزیشن لیڈر نے چار دن اٹھک بیٹھک کی،کمر میں درد تھا،لندن جانا تھا وزیر اعظم کے شفاعی بجٹ نے درد دور کر دیا،ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کورونا کا تھا،احسن طریقے سے ہینڈل کیا گیا،یہ امراء کا نہیں غریبوں کا بجٹ ہے،بات کرنے کی جگہ یہ اسمبلی ہے برطانیہ کی اسمبلی نہیں،باہر سے بولیں گے تو اس سے زیادہ بولنے والے کو بھی مسترد کیا گیا ،  اس بجٹ کی غریب لوگ بھی تعریف کر رہے ہیں، پیپلزپارٹی آٹھ بار اور ن لیگ تین بار آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے،جب حالات اتنے ہی اچھے تھے تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئی۔انکی عیاشیوں کا خرچہ عام آدمی برداشت کر رہا تھا،آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر حالات میں گفتگو کر رہے ہیں تو یہاں کیاجا رہا ہے آئی ایم ایف پروگرام منجمد ہو چکا، اسحاق ڈار بتائیں کہ کیا موٹر وے اور جناح انٹرنیشنل کو انھوں نے گروی نہیں رکھوایا تھا،عمران خان کا قوم سے وعدہ ہے کہ میں بھی نہیں جھکوں گا نہ قوم کو جھکنے دیں گے۔  بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آ ف چئیرپرسن کے رکن امجد علی خان کی صدارت میں ہوا، اجلا س کے دوران آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث نویں روز بھی جاری رہی۔امجد علی خان نے کہاکہ تمام جماعتوں کا بجٹ پر بحث کا وقت پورا ہوگیا ہے، اب دیگر اراکین بھی حصہ لینا چاہتے ہیں ان کو موقع دینگے، چیف وہپس اس حوالے سے نام دیدیں۔ معاون خصو صی برائے پارلیمانی امور بابر اعوان  نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے چار دن اٹھک بیٹھک کی،کمر میں درد تھا،لندن جانا تھا وزیر اعظم کے شفاعی بجٹ نے درد دور کر دیا۔ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کورونا کا تھا،احسن طریقے سے ہینڈل کیا گیا۔یہ امراء کا نہیں غریبوں کا بجٹ ہے۔بات کرنے کی جگہ یہ اسمبلی ہے برطانیہ کی اسمبلی نہیں۔باہر سے بولیں گے تو اس سے زیادہ بولنے والے کو بھی مسترد کیا گیا۔کہا گیا کہ ہنگامہ ہوا اور سپیکر نے کچھ نہیں کیا۔آپ نے بلا تفریق ارکان کو معطل کیا۔بھاگے ہوئے لیڈروں کو کہیں کہ وہ بھی واپس آئیں۔عدالتیں پانامہ کا پوچھ پوچھ کر تھک گئیں،جواب تو دیدو۔صدارتی نظام کے لیے راہ ہموار کرنے کی بات کی جاتی ہے۔جو ملک میں رہ نہیں سکتے وہ بڑے لائق ہیں۔نالائق وہ ہیں جنہیں کے پی میں دوبارہ دو تہائی اکثریت ملی۔صدارتی نظام اور اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ،دونوں شوشے ہیں انکی تردید کرتا ہوں۔ہمارا ویژن ہے کہ پاکستان میں صنعتی انقلاب لانا ہے۔یہ اندھوں میں کانے راجے ہیں۔اس ملک کو ایک ہی شخص ٹھیک کر رہا ہے جس کا نام عمران خان ہے۔مسلم لیگ کے دور میں کریڈٹ کارڈ گروتھ تھی۔سکوک بانڈ پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ سکولک بانڈز انھوں نے نہیں جاری کیے۔ کیااسحاق ڈار بتائیں کہ موٹر وے اور جناح انٹرنیشنل کو انھوں نے گروی نہیں رکھوایا تھا۔عمران خان کا قوم سے وعدہ ہے کہ میں بھی نہیں جھکوں گا نہ قوم کو جھکنے دیں گے۔ہمیں موٹرویز اور سڑکیں گروی رکھنے کے طعنے دینے والے بتائیں اسحق ڈار نے موٹروے گروی رکھی تھی کہ نہیں۔عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ نہ وہ کسی کے آگے جھکیں گے نہ قوم کو جھکنے دیں گے۔

قومی اسمبلی 

مزید :

صفحہ آخر -