کسی کو ٹارگٹ کیاگیا یا امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کی سزا

کسی کو ٹارگٹ کیاگیا یا امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کی سزا

  

جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا تو یہ خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ انتقامی کارروائی کے طور پر پاکستان میں خوفناک دہشت گردی کے خطرات میں مزید اضافہ ہو جائے گا، ہمارے پیارے وطن میں عدم استحکام پیدا کرنے کی غرض سے دہشت گردوں کا اہم ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر یا اہل کار، مذہبی و سیاسی رہنما اور دیگر اہم شخصیات ہو سکتی ہیں۔اس قسم کے خدشات پاکستان سمیت غیر ملکی میڈیا کی زینت بھی بنتے رہے، تاہم گزشتہ روز جوہر ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے نے ان خدشات کو تقویت یا حقیقت کا روپ دیا اور تجزیہ کار مذکورہ دھماکے کو افغانستان سے فوجی انخلا کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔پاکستان کا امن چونکہ افغانستان کے امن سے جڑا ہے اس لئے ہماری تو ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ کابل امن کا گہوارہ بن جائے اور اسی مقصد کے لئے پاکستان نے دوحہ امن مذاکرات کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا اور قیام امن کی کوششوں میں آج بھی سرگرم عمل ہے۔جہاں تک سانحہ جوہرٹاؤن کا تعلق ہے تو یہ یقینا دہشت گردی کی بدترین کارروائی ہے جو جماعت الدعو ۃکے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہی کی گئی، آج کل چونکہ امریکی دباؤ اور اثر و رسوخ کی بناء پر جماعت الدعوہ کی قیادت سخت حکومتی نگرانی میں ہے اس لئے حالیہ کارروائی کو اسی حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بم دھماکے کا ٹارگٹ حافظ سعید تھے یا اس کے ذریعے کس کو کیا پیغام دیا جانا مقصود تھا، اس سوال کا صحیح جواب تو کچھ دیر بعد ہی سامنے آئے گا تاہم ابتدائی طور پر ملنے والے شواہد اور واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر جائے وقوعہ پر پہنچنے والے تفتیشی ماہرین کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس امر کا غالب امکان موجود ہے کہ دھماکہ میں ہمسایہ ملک بھارت کی کوئی ایجنسی ملوث ہو۔ 

ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات میں کہاگیا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے جو رپورٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار،آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو پیش کی اس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں 30 کلو گرام سے زائد غیر ملکی ساخت کا دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔

دھماکے میں بال بیئرنگ، کیلیں اور دیگر بارودی مواد شامل تھا،یہ بھی کہا گیا کہ دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا اور اسے رموٹ کنٹرول ڈیوائس سے اڑایا گیا۔دھماکے کی جگہ تین فٹ گہرا اور آٹھ فٹ چوڑا گڑھا پڑا جبکہ دھماکے سے 100 مربع فٹ کا علاقہ تباہ ہوا۔ جائے وقوعہ کے گرد و نواح میں چار پانچ بڑی بڑی کوٹھیاں ویران اور بے آباد پڑی ہیں جن کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہاں طویل عرصے سے کسی کی رہائش نہیں ہے، دھماکے کے بعد ان کوٹھیوں کی بیرونی دیواریں اور بالائی منزل پر بنے شیڈز کو بھی خاصا نقصان پہنچا۔اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ہمیں اس دھماکے یا حافظ سعید سمیت کسی شخصیت کے بارے میں پہلے سے کوئی تھریٹ الرٹ نہیں تھا۔جائے وقوعہ پر پہنچنے والے آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا یقینی طور پر ملک دشمن عناصر کی کارروائی ہے، سی ٹی ڈی اس حوالے سے بڑی باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے، فوری طور پر دھماکے کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔حافظ سعید کا گھر ٹارگٹ ہونے کے سوال پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہائی ویلیو ٹارگٹ شخصیت کے گھر کے قریب ضرور ہوا ہے اور اسی مقام پر پولیس کی عارضی چوکی بھی قائم ہے، اسی لیے گاڑی گھر تک نہیں پہنچ پائی، میرا خیال ہے کہ اسی لیے ٹارگٹ پولیس بنی ہے اور ہمارے جوان زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

امن و امان اور سنگین جرائم کے حوالے سے دسترس رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کا شروع سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں وہاں عوام کو لسان، قومیت اور فرقوں یامسالک کی بنیاد پر تقسیم کرکے نفرتوں کو فروغ دینا اپنی ترجیح سمجھتے ہیں جب اس قسم کی نفرتیں پروان چڑھ جائیں تو مختلف گروہوں کے سرگرم افراد کو اپنا ہمنوا بناتے ہیں اور پھر ان کے ہاتھوں میں اسلحہ اور ڈالر تھما کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبرپی کے اور بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے طویل سلسلے کی بنیاد بھی اسی طرز پر پڑی تھی تاہم افواج پاکستان سمیت قانون نافذ کرنے والے ہمارے دیگر اداروں کی شبانہ روز کوشش اور جہد مسلسل نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا نا صرف سراغ لگایا بلکہ ان کی سرکوبی کے لئے جہاں جہاں آپریشن کیا گیا کامیابی نے وہاں وہاں ان کے قدم چومے۔ اب ایک طویل وقفے کے بعد دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا ہے اور جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آتا دکھائی دے رہا ہے، بلوچستان اور کے پی میں تو اکا دکا کارروائیاں معمول ہیں لیکن گزشتہ روز جس طرح پنجاب کے دارالحکومت بلکہ پاکستان کے دل لاہور کو جس انداز سے ٹارگٹ کیا گیا وہ ناصرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ عالمی تناظر میں یہ سوچ کے کئی اور در بھی وا کر رہا ہے۔

اتحادی افواج کے انخلا کے اعلان کے فوری بعد افغانستان کے امن و امان میں کئی نشیب و فراز آئے، دہشت گردی کی اوپر تلے وارداتوں نے امن مذاکرات کی کامیابی اور حتمی عمل درآمد کی راہ میں کئی رکاوٹیں کھڑی کر دیں، امریکہ سمیت کئی ممالک نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جبکہ فریقین کی جانب سے بھی تحفظات پیش کئے جاتے رہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ خارجہ امور کے ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ شاید امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے سے رہ جائے، امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے بار بار دورے بھی مثبت نتائج دینے میں ناکام دکھائی دیئے لیکن ان تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جب غیر ملکی افواج کابل چھوڑنے کے لئے تیار ہوئیں تو یہ خدشات عام ہو گئے کہ اب اس کے ”آفٹر شاکس“ کسی وقت اور کہیں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے بالخصوص یہ کہا جا رہا تھا کہ جن قوتوں کو پاکستان کا امن ہضم نہیں ہوتا اور جو ماضی میں اس خطے پر امن دشمن کارروائیاں کرواتے رہے ہیں وہ اب اس فوجی انخلا کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ویسے بھی جماعت الدعوہ اور حافظ سعید کے حوالے سے امریکہ اور بھارت چونکہ ایک پیچ پر ہیں اس لئے موجودہ حالات میں یہ بہترین ہدف حاصل کرنا ذرا آسان معلوم ہوتا ہے۔آج کل چونکہ پاکستان میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے کی بحث بھی جاری ہے اس لئے سانحہ ء جوہرٹاؤن کی کڑیاں ادھر بھی ملائی جا رہی ہیں اور تفتیشی ادارے اس واردات کو امریکہ کی پشت پناہی میں ہونے والی کارروائی کے طور پر ہوئی دیکھ رہے ہیں۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسے ہماری ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کا امن کیسے تباہ کیا جائے؟ 

لاہور کو دہشت گردوں نے دو سال بعد اپنے مذموم مقاصد کے لئے ٹارگٹ کیا ہے، قبل ازیں 8مئی 2019ء کی صبح  9بجے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے مرقد داتا دربار کے پہلو میں خودکش حملہ نے زندہ دلان کے شہر کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔ ایک نو عمر خودکش بمبار نے مزار کی سکیورٹی اور زائرین کی حفاظت کے لئے مامور پولیس وین کے قریب آ کر اپنے آپ کو زور دار دھماکے سے اڑا لیا۔مذہبی عقیدت کے اس مرکز کو ہدف بنایا گیا تھا جو عالمگیر شہرت کا حامل اور روحانیت کا مرکزی مقام سمجھا جاتا ہے۔ چودہ پندرہ سال کا نوجوان دربار کے گیٹ نمبر2کے قریب کھڑی ایلیٹ فورس کی گاڑی کے پاس آیا اور پھر اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ قرب و جوار میں واقع پکوان کی دکانوں اور ہوٹلوں سمیت گھروں کے در و دیوار بھی ہل گئے،دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ دربار کے اندر موجود زائرین کی بڑی تعداد بھی سر پٹ دوڑنے لگی۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور شیش محل روڈ کی طرف سے داتا دربار کے عقبی راستے سے داخل ہوا جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے دو تین مشکوک نو عمر لڑکے عین اسی وقت قریبی دکانوں میں گھستے اور باہر آتے بھی دکھائی دے رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خود کش حملہ آور انہی میں سے ایک ہو۔ دھماکے کے دوران 10افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آج کل ہمارے ہاں سیاسی حالات بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں اور جب سے پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا سیاسی میدان لگا رہتا ہے، معاشی ابتری بھی سب کے سامنے ہے ایسے میں امن و امان کا تباہ ہو جانا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لاہور کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ امن و امان کے اعتبار سے یہ نسبتاً بہتر شہر ہے جہاں بد امنی کے واقعات دوسرے شہروں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصے سے امن و آشتی کے اس مرکز کو بھی بد امنی کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ جوہر ٹاؤن واقعہ کو اگر ملک کے مجموعی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس حوالے سے تجزیئے اور تفتیش کے کئی اور زاویئے بھی سامنے آتے ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی، امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء اور سرکاری سطح پر کئے جانے والے بعض حالیہ اقدامات و فیصلے بھی بڑے اہم ہیں اور اس واقعہ کو مذکورہ امور کے پس منظرو پیش منظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

کچھ عرصہ قبل کالعدم تنظیموں کی جو فہرست جاری کی گئی اور حکومتی سطح پر بیرونی طاقتوں کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ یہ تنظیمیں کسی طور بھی پاکستان کے اندر سرگرم نہیں ہو سکیں گی، یہ سارے پہلو یکجا کر کے پڑھے جانے کی ضرورت ہے۔افواج پاکستان کی طرف سے شروع کئے گئے آپریشن ضرب عزب اور رد الفساد کے بعد ملک بھر میں دہشتگردی کی وارداتوں میں خاصی کمی آئی تھی اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ دہشتگرد زیر زمین چلے گئے ہیں یا پسپائی تسلیم کر لی ہے لیکن یہ خیال درست ثابت نہ ہوا اور کچھ وقفے ک بعد مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشتگردی کی واقعات میں ثابت کیا کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں وقتی ٹھہراؤ آیا تھا اور دہشتگردوں نے شکست تسلیم کرنے کی بجائے محض اپنی حکمت عملی تبدیل کی تھی۔ گزشتہ دنوں بلوچستان میں ہونے والے واقعات کے بعد لاہور کا سانحہ ثابت کرتا ہے کہ انتہا پسند انہ وارداتیں ازسر نو شروع ہو گئی ہیں اور پنجاب میں تو پاکستان کے دل لاہور کو دہشتگردوں نے اپنا پہلا ہدف قرار دیا ہے۔ یہ سفاکانہ واردات کسی دوسرے شہر میں اور بڑے سانحے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے اگر اس پر سخت ترین کارروائی نہ کی گئی اور اس قسم کے واقعات کے اعادے سے بچنے کا کوئی تدارک نہ کیا گیا تو معاملہ طول پکڑ سکتا ہے۔

 اگر دہشتگردانہ کارروائیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 15جون 2014ء کو افواج پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردانہ کارروائیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تخریب کار زیر زمین چلے گئے یا پسپا ہو گئے ہیں، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری پید اہو ئی تھی اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا، کچھ عرصے کے توقف کے بعد دہشتگردی کے اکا دکا واقعات ضرور رونما ہوتے رہے لیکن ضرب عضب سے پہلے جس تسلسل اور تواتر کے ساتھ کارروائیاں جاری تھیں وہ سلسلہ تھم گیا۔ لیکن منگل 16دسمبر2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے جو ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتاتھا کہ دہشتگردوں کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے محض دانستہ عارضی خاموشی اختیار کی ہے اور اب بھی تاک میں بیٹھے ہیں کہ جب اور جہاں موقع ملے اپنا کام دکھا دیں، اے پی ایس پشاور پر حملہ تو افواج پاکستان کو کھلا چیلنج تھا۔ ہماری بہادر افواج نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آرمی پبلک سکول کے ذمہ دار دہشتگرد بھی نا صرف اپنے انجام کو پہنچنے بلکہ دیگر واقعات میں ملوث تخریب کاروں پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا گیا۔ 2015ء میں اگرچہ دہشت گردوں کی کارروائیاں قدرے کم رہیں لیکن واقعات ضرور ہوتے رہے۔ تاہم 2016ء میں دہشتگردی کا فتنہ پھر سر اٹھا تا دکھائی دیا۔ اس دوران کوئٹہ، مردان، چار سدہ، لاہور اور کراچی میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے۔ کوئٹہ کے پولیو سنٹر میں بم دھماکہ کے دوران کم و بیش 15افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ باچا خان یونیورسٹی مردان میں حملہ آوروں کی فائرنگ کے خوفناک واقعہ کے دوران 20افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں 9افراد جاں بحق متعدد زخمی ہو گئے اسی طرح خیبرپختوخوا کے ضلع چار سدہ میں سول کورٹ میں خودکش حملے کے دوران 10افراد جاں بحق اور 15زخمی ہوئے۔ پشاور میں سرکاری ملازمین کو لیجانے والی بس میں بم دھماکے کے دوران 17ملازمین ہلاک اور کم از کم 53 مضروب ہوئے، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے گلشن اقبال پارک میں تو قیامت ٹوٹ پڑی جب خودکش حملے کے دوران 74شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسی طرح جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے با رونق علاقے میں عالمگیر شہرت کے حامل قوال امجد صابری کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ ملک کے طول و عرض میں سال رواں کے دوران کئی اور چھوٹے موٹے واقعات بھی سامنے آئے لیکن متذکرہ بالا قابل ذکر وارداتوں نے تو ملک کے امن و امان کو بری طرح متاثر کیا۔

اس قسم کی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں لسان، قومیت اور فرقہ واریت کے ہتھیار کو استعمال کرکے دشمن قوتیں امن و امان تباہ کرنے کی کارروائیاں کروا سکتی ہیں۔ اس طرح کے چند ایک واقعات بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں خیبرپختونخوا میں رونما ہوتی رہی ہیں۔ بالخصوص مردان اور بنوں میں پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی افسروں و اہلکار اس دوران جام شہادت نوش کرگئے۔ پولیس نے کئی دہشت گردوں اور مشکوک افراد کو بھی حراست میں بھی لیا جن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ افواج پاکستان سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے سر توڑ جدوجہد کی ہے جو قابل تحسین ہے۔ ریاست مخالف دہشت گردی کو ختم یا قابو کرنا ان منظم اداروں کا ہی کام ہے لیکن جہاں تک لسان، قومیت یا مسالک کو بنیاد بنا کر واقعات کئے جاتے ہیں، ایسے معاملات میں علمائے کرام، سیاسی قائدین، دانشور اور میڈیاکو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے۔

٭٭٭

دہشت گردی کی بدترین کارروائی جماعت الدعو ۃکے

 سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب کی گئی

بھارت اور امریکہ عوام کو لسان، قومیت اور فرقوں یامسالک کی بنیاد پر تقسیم کرکے نفرتوں کو فروغ دینا اپنی ترجیح سمجھتے ہیں 

تفتیشی ماہرین کے مطابق اس امر کا غالب امکان موجود 

ہے کہ دھماکہ میں ہمسایہ ملک بھارت کی کوئی ایجنسی ملوث ہو

میرے خیال میں ٹارگٹ پولیس بنی اور ہمارے جوان زیادہ متاثر ہوئے: آئی جی پنجاب

مزید :

ایڈیشن 1 -