فیملی ایکٹ کے تحت عدالت سے جاری خلع کی ڈگری کیخلاف اپیل نہیں ہوسکتی، ہائیکورٹ 

فیملی ایکٹ کے تحت عدالت سے جاری خلع کی ڈگری کیخلاف اپیل نہیں ہوسکتی، ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس احمد ندیم ارشد نے شوہر کے تشدد سے تنگ خلع لینے والی خواتین سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ فیملی ایکٹ کے تحت عدالت سے جاری خلع کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں ہوسکتی،جب شوہر بیوی کے حقوق پورے نہ کررہا ہو تو خلع لینا خاتون کا حق ہے،اس حوالے سے خاتون پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگائی جاسکتی،درخواست گزار شہباز کی جانب سے دائر اپیل پرعدالت نے 11صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیاہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ شہباز نے فریحہ بی بی کی جانب سے خلع لینے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے فیملی کورٹ سے خلع لینے کو فیصلہ کو چیلنج کیاتھا۔درخواست گزار کے مطابق فیملی کورٹ نے موقف سنے بغیر خلع کی ڈگری جاری کی اوربیوی سے مصالحت کا عدالت نے موقع فراہم نہیں کیا۔عدالتی فیصلہ میں مزید کہا گیاہے کہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی،خلع کی ڈگری جاری کی جائے،درخواست گزار کے پاس ایسا کوئی نکتہ نہیں کہ جس کی بنیاد پر خلع کی ڈگری کو مسترد کیا جاسکے،شوہر کا ذہنی اور جسمانی تشدد کرنا ثابت ہوچکا ہے،شوہر کے تشدد کے خلاف تھانہ ہربنس پورہ پولیس کو درخواست بھی دی،عدالت خلع کی یکطرفہ ڈگری کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کرتی ہے۔

خلع کی ڈگری 

مزید :

صفحہ آخر -