معیشت کی تباہی کے بعد دوقومی نظریہ کیخلاف سازشیں ہورہی ہیں، سراج الحق 

معیشت کی تباہی کے بعد دوقومی نظریہ کیخلاف سازشیں ہورہی ہیں، سراج الحق 

  

لاہور (خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کے نظریاتی تشخص سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ معیشت کی تباہی کے بعد دو قومی قومی نظریہ کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ ملک بھر کے علما نے وفاقی و صوبائی وقف ایکٹس مسترد کردیے۔ حکومت ایک طرف قومی نصاب کو سیکولرائز کر رہی ہے، دوسری جانب مساجد و مدارس پر وار ہورہے ہیں۔مدارس کے اساتذہ اور لاکھوں طلبہ محب وطن پاکستانی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ علماء اسلامیان پاکستان کی رہنمائی کریں اور قوم کو گرداب سے نکالیں۔ ملک کی تقدیر کے وارث بنے بیٹھے دو فیصد اشرافیہ سے کوئی توقع نہیں۔ نصاب میں تبدیلی، وقف آرڈی نینس اور قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف سازشوں کا ہر میدان میں مقابلہ کریں گے۔ یونیورسٹی، کالجز اور مدارس کے طلبہ متحد ہو جائیں۔ قومی نصاب کی تیاری کے لیے دینی و نظریاتی اذہان کے حامل پروفیشنلزسے مدد لی جائے۔ قوم کا اجتماعی شعور کبھی بھی سیکولرازم اور مغربیت کو قبول نہیں کرے گا۔ قرآن کریم میں تحریف کرنے والے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ایسی قبیح حرکتیں کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔ علما منبر و محراب کے وارث ہیں۔ اسلام کی سربلندی اور تحفظ ختم نبوت کے لیے جان و مال کی قربانی دینے سے ایک پل کے لیے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ اگر امت متحد ہو جائے اور فروعی اختلافات بھلا دے تو سازشیں خود بخود دم توڑ جائیں گی۔ کامل یقین سے کہتاہوں کہ مسائل اسی وقت حل ہوں گے جب یہاں قرآن و سنت کا نظام نافذ ہو گا۔ قوم ظالموں اور منافقوں سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں پنجاب بھر کے آئے ہوئے دینی مدارس کے مہتمم و منتظمین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا اور اتحاد علما و اتحاد امت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور انسانیت کو مسائل سے نجات دلانے کے لیے امت مسلمہ کو بھر پور جدوجہد اور محنت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم، مولانا اسماعیل خان،ڈاکٹر عطاء الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن،مولاناعبدالرزاق، مولانا ضیاء الرحمن، مولانا قاری محمد عثمان اور مولانا عبدالوحید اختر بھی شریک تھے۔ 

 سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -