وکلاء امتحان کی تیاری کریں: مقدمات جلد نمٹانے کیلئے اہم فیصلے کررہے ہیں: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ 

وکلاء امتحان کی تیاری کریں: مقدمات جلد نمٹانے کیلئے اہم فیصلے کررہے ہیں: چیف ...

  

   ملتان،بہاولپور( خصو صی   رپورٹر، نیوز رپورٹر  ،ڈسٹرکٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 قاسم خان نے ڈسٹرکٹ بار کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا اور ایگزیکٹیو باڈی کا ں ے حد مشکور ہوں۔ گرمی کے باوجود وکلا صبر کے ساتھ یہاں موجود ہیں، میں آپکے پروگرام کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپکا یہاں ہونا میرے لیے باعث فخر ہے، مجھے یاد ہے میرے ممبر بنے کے بعد بیلٹ پیپر کی تعداد 500 تھی۔ یہ بار اس خطے کی سب سے بڑی بار بن گئی ہے، یہاں کے سینئرز کی جونیئرز کے ساتھ جو محبت دیکھی وہ قابل تعریف ہے، یہاں کے لوگوں میں یہاں کے آموں کی مٹھاس ہے،، ہائیکورٹ ملتان میں 30 عدالتیں قائم ہوں گی جو اگلے 70 سال تک کمی کو پورا کریں گی، کورونا وبا کے دوران دنیا لاک ڈان میں تھی لیکن پاکستان کی عدالتیں کھلی رہیں، تمام ضروری مقدمات کی سماعت ہوئی، ججز وبا سے شہید  بھی ہوئے، چرچل نے دشمن دیکھ کر بھی کہا تھا کہ اگر ہماری عدالتیں کام کررہی ہیں تو گھبراہٹ کی ضرورت نہیں، لیکن کورونا ایسا دشمن تھا جس کا علاج ہی معلوم نہیں تھا،تاریخ کی کتاب میں انکی عدالتیں کھلی رکھنے کے فیصلے کی تعریف لکھی جائے گی، ججز جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے رہے ایسے میں وکلا کا کردار بھی قابل تحسین رہا ہے۔ ضلعی عدلیہ کی رہنمائی کے لیے سائیٹیرز بنائی تاکہ وہ نئی ججمنٹس سے مستفید ہوسکیں، جوڈیشل اکیڈمی وکلا کے لیے ٹرینینگ کرچکی، صوبہ بھر کی تحصیل اور ضلعوں میں سہولیات سینٹر جدید طور پر فعال کردیے گئے،ضلع عدلیہ کی انسپکشن اہم کام ہے، ہائیکورٹ کے جج جوڈیشل ورک میں پہلے ہی مصروف ہوتے ہیں وہ بیٹھ کر انسپکشن نہیں کرسکتے، انسپکشن رپورٹ کے لیے ججز کی ٹریننگ بھی کرائی گئی، وکلا نے اب بھرپور تعاون کرنا ہے تاکہ مقدمات کو نمٹایا جاسکے، وکلا نے عدالتوں کا احترام کرتے ہوئے پیش ہونا ہے، وکلا شکایت کی صورت میں چیف جسٹس کو مطلع کریں،سوشل میڈیا کا دور ہے تنازعات طول پکڑتے ہیں، جب کہتے ہیں کہ وکلا اور ججز ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں تو اسے چلانا ہے، شور سے جو دھول اٹھے گی وہ خود پر ہی گرے گی، سینئر وکلا نوجوان وکلا کی رہنمائی فراہم کریں، نوجوانوں کو سکھائیں تاکہ مستقبل جاوداں ہو سکے، ڈسٹرکٹ بار میں منعقدہ تقریب میں نامزد چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ججز چیمبر میں نہیں عدالتوں میں بیٹھیں گے، کام کریں گے، عدالتوں میں کیمرے لگے ہوئے، انہیں واچ کیا جائے گا، کام کرنیوالے ججز کے خلاف ضابطہ کی کاروائی ہوگی، وکلا صبح سے اڑھائی بجے تک کام کریں کوئی عزر نہیں چلے گا، جو خدمات چیف جسٹس نے انجام دی اسکے شکریہ کی تقریب سجائی گئی ہے، چیف جسٹس قاسم خان نے ضلعی عدلیہ کو مالی سہولیات فراہم کیں، چیف جسٹس نے ضلع کچہری کی توسیع میں دشواریوں کا سامنا کیا، وکلا سب معاملات چھوڑ کر کام کی طرف توجہ دیں، عوامی ٹیکسز سے جو معاملات چلائے جارہے انکو ریلیف فراہم کرنا ہے، ضلع کچہری کی توسیع بھی ہوگئی، فنانشل مسائل بھی حل ہوئے لیکن سائل کو انصاف نہیں ملا، اکیلے جج نے انصاف فراہم نہیں کرنا، عدلیہ سے جڑے تمام لوگ جواب دہ ہوں گے، سہولیات کے عوض ہمیں انصاف فراہم کرنا ہے، وکلا پڑھ کر پیش ہوں،تقریب سے صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سید یوسف اکبر نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا دن ہے۔ آج کی تقریب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کیلئے الوداعی اور نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی ویلکم کیلئے رکھی گئی۔ میں تمام جسٹس صاحبان، سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور تمام وکلا کا مشکور ہوں۔ فاضل چیف جسٹس کے فیصلے قانون کی کتاب کا نمایاں باب ہیں۔دریں اثنائچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ وکلا کی ناراضگی سے ڈر لگتا ہے،ٹیکس والوں کا قلم کا ہیر پھیر کہیں سے کہیں لے جاتا ہے۔کورونا کے دور میں شدید دباؤ میں عدالتوں کو کھلا رکھا۔ریکارڈ کے حصول کے لیے پرانے مقدمات کی مصدقہ نقول کافی وقت لے جاتی تھیں،مختلف اضلاع میں ریکارڈ حاصل کرنے کی مشکلات کا سامنا تھا۔ سافٹ ویئر بناکر عملے کو ٹریننگ کے بعد کام مکمل ہو گا، ایک کلک پر مکمل فائل کی انفارمیشن مل جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ٹیکس بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مقرر کردہ ججز کی کمرشل کیسز کی سماعت کے لئے ٹریننگ کورسز کرائے گئے، بہت جلد اس کے اپیلنٹ ٹربیونل کے ججز نامزد کیے جائیں گے۔ اوور سیز پاکستانیوں کے لیے ڈرافٹ بناکر حکومت کو دیا،اوور سیز کی جائیدادوں پر قابض لوگوں کے خلاف مقدمات التوا کا شکار ہیں،  کونسلیٹ کے نمائندہ کی موجودگی میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں،اوور سیز کو مقدمات کی پیروی میں دشواری تھی،حکومت نے ابھی تک کمرشل کورٹس کے حوالے سے جگہ نہیں دی اسٹاف نہیں دیا۔اوورسیز 26 بلین ڈالرز کے قریب پیسے بھیجتے ہیں انکی جائیدادوں پر قبضے ہو جاتے ہیں، اوور سیز کیلئے ویڈیو لنک کے ذریعے شہادتیں ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ ججز بھرتی کریں۔ نئے آنیوالے وکلا کو تیار کریں تاکہ وہ ججز کے امتحان دیں، جتنے ججز زیادہ ہونگے مقدمات التوا کا شکار نہیں ہونگے۔ایڈیشنل سیشن ججز کم ہیں ہم نے سال میں دو بار امتحان لیا لیکن وکلا تیاری نہیں کرتے،وکلا مکمل تیاری کیساتھ امتحانات میں حصہ لیں۔ہائیکورٹ میں بھی ججز کی کمی تھی ہم نے 13 ججز لگائے اب ملتان بنچ میں ججز کی کمی نہیں ہے، بار روم تھری فلور اور وکلا کے چیمبرز کے لیے بیس کینال سے زائد اراضی حاصل کی۔تمام معاملات میں جسٹس امیر بھٹی اور ساتھی ججز نے ساتھ دیا،ان لینڈ ٹربیونل کیلئے جگہ دی ہے ٹیکس بار کی سہولت کیلئے، وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ٹریبونل فعال ہو جائے گا، نامزد چیف جسٹس ٹربیونل کے بجلی کے بل اور دیگر اخراجات کو ہائیکورٹ سے ادا کرائیں۔ نامزد چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ یہاں کا دیرینہ مطالبہ اپیلیٹ ٹربیونل کا بنچ دے کر پورا کیا ہے،چیف جسٹس محمد قاسم خان نے مسائل حل کیے اس پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ مرحلہ مشکل تھا یہاں سے اپیل کرنے کیلئے لاہور اسلام آباد جانا پڑتا تھا،، یہاں ٹربیونل بننے سے بہت بڑا ریلیف ملا ہے۔اس کاوش کا سہرا قاسم خان کے سر ہے۔یہاں انکم ٹیکس کے حوالے سے واضح نہیں انکے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے، میں وعدہ کرتا ہوں مسائل کے خاتمے کیلئے بطور چیف جسٹس کام کروں گا۔باقی بارز کو فنڈز ملتے ہیں تو ٹیکس بار کو بھی ملنے چاہیں۔اس موقع پر مسٹر جسٹس مسعود عابد نقوی، مسٹر جسٹس چوہدری محمد اقبال،مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن، مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم، مسٹر جسٹس  سردار محمد سرفراز ڈوگر،مسٹر جسٹس  طارق سلیم شیخ،مسٹر جسٹس مزمل اختر شبیر، مسٹر جسٹس صادق محمود خرم، مسٹر جسٹس  شکیل احمد، مسٹر جسٹس  صفدر سلیم شاہد،مسٹر جسٹس  احمد ندیم ارشد، مسٹر جسٹس طارق ندیم، مسٹر جسٹس انوار حسین،مسٹر جسٹس راحیل کامران، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ مشتاق احمد اوجلہ، محمد یار ولانہ، کمشنر ملتان جاوید اختر محمود، آر پی او ملتان سید خرم شاہ،ڈپٹی کمشنر علی شہزاد، سی پی او منیر مسعود مارتھ،  وائس چانسلرز  جامعہ زکریا نشتر یونیورسٹی اور دیگر سماجی اور سیاسی شخصیات،شاہد منظور بھٹی چیئرمین اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو ملتان، طاہر نواز خان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان،محمد عابد رضا بودلا چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو ملتان،  نبیلا فرحان بیگ چیف کمشنر ان لینڈ روینیو کارپوریٹ زون ملتان، محمد زبیر بلال انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، زاہدہ سرفراز ڈوگر کمشنر ان لینڈ ریونیو ملتان، پیر خالد احمد قریشی کمشنر ان لینڈ ریونیو، نبی علی پٹھان  کمشنر ان لینڈ ریونیو ملتان، محمد سلیم کمشنر ان لینڈ ریونیو، کیپٹن یاسر علی خان کمشنر ان لینڈ ریونیو ملتان، احمد حسن ایڈیشنل کمشنر پی آر اے ملتان، جاوید مسعود طاہر بھٹی سابق چیئرمین اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کاشف امام ایڈیشنل رجسٹرار ایس ای سی پی ملتان،  طارق ولی رجسٹرار  آف فرم، خواجہ صلاح الدین دین صدر ایم سی سی آئی، تقریب میں نویرہ فہد صدر ڈبلیو سی سی آئی ایم،   آصف نذیر صدر کے سی سی آئی،  اسامہ بہادر  خان سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار، سیکرٹری ہائیکورٹ بار سجاد حیدر میتلا، جنرل سیکرٹری جہانیاں بار چوہدری محمد عفان فاروق چیمہ، مرزا عزیز اکبر بیگ ممبر پاکستان بار کونسل  سمیت وکلا کی کثیر  تعداد نے شرکت کی۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ لاہور مسٹرجسٹس محمد قاسم خان اور نامزد چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ لاہورمسٹرجسٹس امیربھٹی کے اعزاز میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی جانب سے الوداعی عشائیہ میں سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بہاولپور ڈاکٹر رانا محمد طارق خان نے یادگار شیلڈزپیش کی تفصیل کے مطابق ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس ہائی کورٹ لاہور مسٹرجسٹس محمد قاسم خان اور نامزد چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ لاہورمسٹرجسٹس امیربھٹی کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ کا ہتمام ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کے سبزازار ہوا جس میں جسٹس باقر علی نجفی سمیت دیگر سینئرججزاور وکلا افسران وشخصیات نے شرکت کی اس موقع پر سابق صدر چیمبر آف کامرس انڈسٹری بہاولپور وسیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر رانامحمد طارق خا ن چیف جسٹس مسٹر قاسم علی خان کو یادگار شیلڈ پیش کی اور ان کے لیے نیک خوہشات کا اظہار کیا۔چیف جسٹس ہائی کورٹ لاہور مسٹرجسٹس محمد قاسم خان اور نامزد چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ لاہورمسٹرجسٹس امیربھٹی کے اعزاز میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی جانب سے الوداعی عشائیہ میں سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بہاولپور ڈاکٹر رانا محمد طارق خان نے یادگار شیلڈزپیش کی تفصیل کے مطابق ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس ہائی کورٹ لاہور مسٹرجسٹس محمد قاسم خان اور نامزد چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ لاہورمسٹرجسٹس امیربھٹی کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ کا ہتمام ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کے سبزازار ہوا جس میں جسٹس باقر علی نجفی سمیت دیگر سینئرججزاور وکلا افسران وشخصیات نے شرکت کی اس موقع پر سابق صدر چیمبر آف کامرس انڈسٹری بہاولپور وسیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر رانامحمد طارق خا ن چیف جسٹس مسٹر قاسم علی خان کو یادگار شیلڈ پیش کی اور ان کے لیے نیک خوہشات کا اظہار کیا۔

امیر بھٹی

قاسم خان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -