اراضی پر قبضہ، جمشید دستی کی عبوری ضمانت،3جولائی کو دوبارہ عدالت طلب

اراضی پر قبضہ، جمشید دستی کی عبوری ضمانت،3جولائی کو دوبارہ عدالت طلب

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)وفاقی وزیر مملکت کے رقبہ پر قبضہ میں پشت پناہی کے الزام میں جمشید دستی کے خلاف درج ہونے (بقیہ نمبر24صفحہ6پر)

والے مقدمہ کامعاملے پرعبوری ضمانت کے بعد جمشید دستی عدالت پیش ہونگیمقدمہ میں شامل تفتیش نہ ہونے پرعدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع دیتے ہوئے 3جولائی کو دوبارہ طلب کرلیا تفصیل کے مطابق تھانہ سٹی کوٹ ادو کے علاقہ موضع شادی خان منڈا میں وفاقی وزیر مملکت ڈاکٹر میاں شبیر علی قریشی کی وراثتی اراضی 200کنال زرعی رقبہ جہاں پر وفاقی وزیر مملکت ڈاکٹر میاں شبیر علی قریشی کا منیجر نذیر احمد سہو اس کی دیکھ بھال کرتا تھا پر اعوان برادری کے جمیل اعوان نے پاکستان عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید احمد دستی کو بلا کر اپنے دیگر ساتھیوں عبدالعزیز کلاسرہ،غلام محی الدین اعوان،عبدالمجید کلاسرہ،محمد کامران کلاسرہ،محمد رمضان اعوان، اسماعیل گشکوری، لعل محمدآرائیں،رفیق کلاسرہ،عبدالمجیداعوان، محمد جاوید اعوان اور عبدالمجید اعوان سے مل کر قبضہ کی کوشش کی تھی اور وہاں پر تعمیرات شروع کر دی تھیں، رقبہ پرہل چلانا شروع کر دیے تھے اور رقبہ پر ناجائز قبضہ کی کوشش کی تھی،پولیس سٹی کوٹ ادو نے منیجر نزیراحمد سہو کی مدعیت میں پاکستان عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید احمد دستی سمیت جمیل اعوان اور اس کے دیگر 12 نامزد ساتھیوں اور 45 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمہ نمبر 249/21زیر دفعہ 447/511/148/149درج کرلیا تھا، چئیرمین عوامی راج پارٹی جمشید دستی نے ایڈیشنل سیشن جج کوٹ ادو ملک عابد حسین کی کورٹ سے عبوری ضمانت کرالی تھی جسکی گزشتہ روز پیشی تھی،عدالت نے مقدمہ میں شامل تفتیش نہ ہونے پرجمشیددستی کو عبوری ضمانت میں توسیع دیتے ہوئے 3جولائی کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم جاری کردیا ہے۔

عدالت طلب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -