تیل ایجنسی مالک پر تشدد، مصطفی کھر  کے بیٹے اور ساتھیوں  پر3ماہ بعد مقدمہ

تیل ایجنسی مالک پر تشدد، مصطفی کھر  کے بیٹے اور ساتھیوں  پر3ماہ بعد مقدمہ

  

 کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)مفت پٹرول نہ ڈالنے پر پٹرول ایجنسی (بقیہ نمبر49صفحہ6پر)

والے پر تشدد کے معاملہ پرسابق گورنر کے بیٹے سمیت 2نامعلوم افراد کے خلاف3ماہ بعد مقدمہ درج کر لیا گیا تفصیل کے مطابق موضع کھر غربی کے رہائشی حاجی دلدار حسین لدھانی جس کے اکلوتے بیٹے کو تقریبا 6سال پہلے سابق گورنر ملک غلام مصطفی کھر کے بیٹے سابق ایم پی اے ملک بلال کھرنے فائر مار کر قتل کر دیا تھا اور جس کے خلاف حاجی دلدارلدھانی نے قتل کا مقدمہ بھی درج کرا رکھا ہے جبکہ بلال کھر عرصہ دراز سے مفرور عدالتی اشتہاری ہے، حاجی دلدار حسین لدھانی جس نے چوک کہتر میں پٹرول ڈیزل کی ایجنسی بنا رکھی ہے، 24مارچ کی شب اس کا کزن مجاہدحسین ایجنسی پر موجود تھا جب کہ چوکیدار ذوالفقار کھربھی ڈیوٹی پر وہیں تھا کہ اسی دوران سابق گورنر و سابق وزیر اعلی پنجاب ملک غلام مصطفی کھر کا صاحبزادہ ملک یزدانی کھر اپنے 2نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ اپنی سفید کار نمبری 402 پر آیاتھا اور کار میں ایک ہزارکا پیٹرول ڈالنے کا کہا اور زبردستی اپنی گاڑی میں 3ہزار کا پٹرول ڈال کر پیسے دیے بغیر جانے لگاتھا،ملازم مجاہد کے رقم کے تقاضہ پراسے تشدد کے بعدپسٹل نکال کر اسے بٹ سے زخمی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں اور فحش گالیاں دیتا ہوافرار ہوگیاتھا،اطلاع پر دلدار لدھانی نے موقع پہنچ کر 15پر کال اور آر پی او ڈیرہ غازی خان، ایس ایچ او تھانہ صدرکوٹ ادو کو تمام صورتحال سے آگاہ کیاتھا،أرپی او کے حکم انکوائری ٹیم نے 3ماہ بعد انکوائری مکمل کرکے ملک یزدانی کھر کو ذمہ دار قرار دیا،پولیس صدر کوٹ ادو نے 3ماہ بعد حاجی دلدار حسین لدھانی کی مدعیت میں سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر کے بیٹے ملک یزدانی کھرسمیت اس کے 2نامعلوم ساتھیوں کے خلاف ڈکیتی کامقدمہ نمبر230/21زیر فعہ 382کے تحت درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

مقدمہ درج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -