جوہرٹاؤن میں بم دھماکہ، 4افراد جاں بحق، 24زخمی، کئی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں تباہ، ایک گھر کو بھی نقصان پہنچا 6زخمیوں کی حالت تشویشناک

    جوہرٹاؤن میں بم دھماکہ، 4افراد جاں بحق، 24زخمی، کئی گاڑیاں، موٹر ...

  

لاہور(کرائم رپورٹر،نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) جوہرٹاو ن کے علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 سالہ بچے سمیت4 افراد جاں بحق جبکہ8خواتین، 4بچوں سمیت 24افراد زخمی ہو گئے دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، زخمیوں کو لاہور کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں 6کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔بتایا گیاہے ابتدائی طور پر زخمیوں کوپرائیویٹ گا ڑ یوں میں ہسپتال لے جایا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے جائے وقوعہ کوگھیرے میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق جوہر ٹاون کے علاقے بی او آر کے قریب واقع احسان ممتاز ہسپتال کے قریب زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں میں ہر طرف دھواں پھیل گیا اور لوگوں کی چیخ و پکار شروع ہو گئی دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اس موقع پر لوگ خوفزدہ ہوکراپنے گھروں سے باہرنکل آئے اور اپنی مدد آپ کے تحت دھماکے میں زخمی افرادکو اٹھاکرپرائیوٹ گاڑیوں میں قریب واقع جناح ہسپتال لے گئے اطلاع ملنے پر بم ڈسپوز ل سکواڈ کے عملے نے مو قع پر پہنچ کرشواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیئے جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ گاڑی کے اندر ہوا، دھماکے سے سڑک پر گڑھا پڑ گیا ابتدائی روپو رٹ کے مطابق دھماکے 15سے20کو گرام سے زیادہ غیر ملکی بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکہ اتنی شدید نوعیت کا تھا کہ کئی گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور ایک رکشہ تباہ ہو گیا، قر یبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے ایک گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے آئی جی پنجاب اور سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی، ان کا کہنا تھا ابھی تحقیقاتی ادارے تفتیش کر رہے ہیں، جلد حقائق سامنے لائیں گے۔ دوسری جانب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے بھی دھماکے کا نوٹس لیا، آئی جی پنجاب کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدا یت کی، انہوں نے جناح ہسپتال اور دیگر قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے علاج معالجے کا جائزہ لینے کیلئے جناح ہسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ادھر دھماکے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی جس میں بتایا گیا ہے دھماکے میں بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے جبکہ دھماکے کی جگہ 3فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق دھماکے کی جگہ ایک کار اور موٹر سائیکل بیک وقت آ کر کھڑی ہوئی جس کے بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔ دھماکہ خیزمواد گاڑی میں نصب تھا، دھماکہ ریمو ٹ کنٹرول ڈیوائس کی مددسے کیاگیا، دھماکے سے 100مربع فٹ سے زائدرہائشی علاقہ متاثر ہوا۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رات گئے جناح ہسپتال کا دورہ کیا۔ زخمیوں کی عیادت کی اور ہسپتا ل انتظامہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کوعلاج معالجے کی ہر ممکن سہولتیں مہیا کی جائیں، دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔وزیراعلی عثمان بزدارنے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا املاک کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائیگا، اورزخمی افراد کا فری علاج معالجہ ہوگا۔وزیراعلیٰ نے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی کارکردگی کی تعریف کی۔دریں اثناء آئی جی پنجاب انعام غنی اور سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے بھی زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا ہمیں افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، قانون نافذ کرنیوالے ادار ے جوہر ٹاوَن دھماکے میں نقصانات کاجائزہ لے رہے ہیں، ہمیں سکیورٹی کے حوالے سے 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے تھے جس کے بعد سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے چند لوگوں کو گرفتار بھی کیا تھا ایسے دھماکوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں بلند ہوتے ہیں ایسے دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں،دوسری طرف حمزہ شہباز، اسفندیارولی,بلاول بھٹو،آصف زرداری،شہبازشریف، فضل الرحمن اور دیگر سیاسی قیادت نے لاہوربم دھماکہ کی مذمت کی، قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیااورکہا لاہور میں یہ واقعہ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ امن و امان کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جس کا اندازہ حکمرانوں کو نہیں،ہم پہلے ہی دہشت گردی کے عفریت سے بڑی مشکل سے نکلے ہیں اس کا دوبارہ زندہ ہونا نیک شگون نہیں۔ منظم انداز میں دہشتگردی کی نئی لہر بڑھ رہی ہے، حکومتی غیرسنجیدگی تشویشناک ہے، پاکستان کے دل لاہور کے پوش علاقے میں اس قسم کی کارروائی خوفناک پیغام ہے، پنجاب کے دارلحکومت میں قیامِ امن کی بگڑتی صورت حال لمحہ فکریہ ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے پاس دہشت گردوں کو کھل کر دہشت گرد کہنے کی بھی ہمت نہیں، ان کیخلاف کارروائی کیسے کرے گی؟۔ لاہور جیسے پرامن شہر میں دھماکا ہونا تشویشناک واقعہ ہے، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔جوہر ٹاؤن میں ہونیوالے دھماکے کا واقعہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے،کب سے کہہ رہے ہیں امن وامان کی بگڑتی صورتحال توجہ کا تقاضا کررہی ہے،اہم قومی مسائل کو پس پشت ڈالنے سے کام نہیں چلے گا۔سرد مہری اور معاملات ٹالنے کی قیمت ملک اور قوم کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ملک میں امن وامان قائم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن حکومت شہریوں کے جان ومال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔سیاسی قیادت نے واقعہ میں جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔

لاہو دھماکہ

مزید :

صفحہ اول -