ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کر دیں،گرے لسٹ میں رکھنے کا جوا ز نہیں: شاہ محمود قریشی

ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کر دیں،گرے لسٹ میں رکھنے کا جوا ز نہیں: شاہ محمود ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)   وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا نے موجودہ عالمی معاشی نظام کی قوت مدافعت کا امتحان لیا ہے، اس وبا کے نتیجہ میں معاشی کساد بازاری، دیوالیہ پن، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور عالمی سطح پر رسد کے ذرائع متاثر ہوئے،کورونا وبا کے بعد معاشی بحالی کے لئے  اتحاد، یک جہتی اور کثیرالقومی تعاون کی ضرورت ہے،پاکستان کی حکومت اور عوام چین کی قیادت اور عوام کے بے حد شکرگزار ہیں کہ انہوں نے کورونا وبا سے مقابلے کی ہماری کوششوں میں ہمارے ساتھ بھرپور یک جہتی اور مدد کی، ترقی یافتہ ممالک کو پیرس سمجھوتہ کے تحت اپنے وعدوں کو لازما پورا کرتے ہوئے ترقی پزیر ممالک کو ماحولیاتی اقدام میں مدد کرنا ہوگی اور 100ارب امریکی ڈالر سالانہ کی ماحولیاتی وسائل کی فراہمی کا اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا انہوں نے ان خیالات کا اظہار بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر ایشیا پسیفک اعلی سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے فورم میں شرکت کو  باعث اعزاز  قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر ایشیااینڈ پیسفک اعلی سطحی وڈیوکانفرنس بلاشبہ ایک بروقت اقدام ہے اس کانفرنس کے دوران تخلیقی اور فائدہ مند تصوارت وخیالات پیش کئے گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے موقع پر مل رہے ہیں جب دنیا غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے،ایشیااور پسیفک کے ممالک عالمی امور کے مرکزی مقام کے  قریب آرہے ہیں جبکہ ہم سب ممالک کو مشترکہ طورپر بڑی بڑی مشکلات ومسائل کا سامنا ہے جن میں سے چند ایک ماحولیات کا تغیر، کورونا، عدم مساوات اور غیرروایتی خطرات جیسے مسائل شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، طبی تباہی کے علاوہ اس کے دور رس سیاسی، سماجی اور معاشی اثرات دنیا پر مرتب ہوئے ہیں، کورونا وبا کانتیجہ معاشی کساد بازاری، دیوالیہ پن، معاشی دباو، بے روزگاری اور عالمی سطح پر رسد کے متاثر ہونے کی صورت میں برآمد ہوا ہے اس وبا  نے موجودہ عالمی معاشی نظام کی قوت مدافعت کا امتحان لیا ہے اور ان طریقوں کو نئی شکل دی ہے کہ کس طرح معاشی اور سماجی مسائل کو دیکھا اور حل کیاجانا چاہئے،وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد معاشی بحالی کے لئے ہمیں اتحاد، یک جہتی اور کثیرالقومی تعاون کی ضرورت ہے۔ کورونا سے نمٹنے میں ہمارا  تعاون بروقت معاشی بحالی میں نفع بخش ہوگا جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم کرونا کی تشخیص اور اس کے علاج سے متعلق اپنے تجربات کا تبادلہ کریں، تحقیق اور پیداوار بڑھا کر ویکسین کی فراہمی، رسائی اور اس کی مناسب قیمت پر دستیابی میں اضافہ کریں، ترقی پزیر ممالک کی ویکسین تک رسائی کو بڑھائیں اور ترقی پزیر ممالک کے لئے کثیرالقومی ترقیاتی اداروں سے ترجیحی وسائل کی فراہمی پر زور دیں، یہ کام صرف موثر کثیرالقومی پالیسی اقدامات اور وسیع البنیاد تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے،  

کانفرنس خطاب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے، ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر تکنیکی لوازمات پورے کر دیئے، اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اہم بیان میں کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک ٹیکنیکل فورم ہے، اس کے حوالے سے پاکستان تکنیکی لوازمات پورے کر چکا ہے، ہمیں 27 ایکشن آئٹمز دیے گئے جس میں سے 26 پر کام مکمل کر چکے ہیں، ستائیسویں نکتے پر بھی بھرپور کام ہو چکا ہے، اس صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اگر پاکستان پر محض ایک تلوار لٹکانا مقصود ہے تو یہ اور بات ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے جس کی اجازت نہیں ملنی چاہیئے۔ دیکھتے ہیں کہ پلیمری اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا نامناسب ہو گا، پاکستان نے عالمی رائے اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے، دیگر ممالک کو اعتماد میں لیا، جو قانون سازی درکار تھی وہ ہم نے کی۔ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے، گرے لسٹ کا تحفہ ہمیں ورثے میں ملا، ہماری حکومت آنے سے پہلے پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -