ایس ٹی زیڈ اے اسلام آباد کی تقرری پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

ایس ٹی زیڈ اے اسلام آباد کی تقرری پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

  

 پشاور(نیوز رپورٹر)وفاقی حکومت کیجانب سے چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے)اسلام آباد کی تقرری پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی ہے جس میں انکی تقرری بغیر انٹرویواور شارٹ لسٹنگ قراردیتے ہوئے موقف اختیارکیاگیا ہے کہ وہ متعلقہ عہدے کیلئے مطلوبہ تعلیمی اہلیت وتجربہ نہیں رکھتے، رٹ میں سی ڈی اے کیجانب سے رولز کے برعکس 1200کینال کمرشل زمین (ایس ٹی زیڈ اے)کو الاٹ کرنے اور اس حوالے سے ٹھیکہ مبینہ طو رپر من پسند کمپنی کو دینے کااقدام بھی غیرقانونی قراردینے کی استدعا کی گئی ہے۔ رٹ پٹیشن عالم زیب خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے شفیع اللہ خان ساکن تہکال پشاورکیجانب سے دائر کی گئی ہے جس میں چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی عامر ہاشمی،سیکرٹری کبینٹ ڈویژن اسلام آباد، سیکرٹری فنانس، چیئرمین بورڈآف ریونیووغیرہ کو فریق بنایاگیاہے۔ رٹ کے مطابق چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کی تقرری کیلئے 3جنوری 2021کو اشتہارجاری کیا گیا ہے جس میں اہل امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئیں جبکہ اہلیت بزنس ایڈمنسٹریشن،بزنس مینجمنٹ، آئی ٹی یا الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری کیساتھ ساتھ آئی سی ٹی میں کم ازکم 20سال تجربہ جبکہ کم ازکم پانچ سال تجربہ آپریشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک بھی لازمی شرط رکھی گئی تاہم 4جنوری کو ہی ایس ٹی زیڈ اے کے ویب سائٹ پر فریق دوم عامرہاشمی کووفاقی حکومت نے چیئرمین تعینات کردیاجبکہ بعد میں 8جنوری کو پریس ریلیزاورباقاعدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے انکی تقرری کا اعلان کیا گیا۔اسی طرح درخواست گزار شفیع اللہ کو ایک لیٹر جاری کرکے انٹرویو کیلئے حاضر ہونے کی ہدایت کی جبکہ متعلقہ لیٹر چیئرمین عامر ہاشمی کے نام سے جاری کیاگیاجس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں پہلے سے ہی تعینات کیا گیا تھااس طرح حکومتی اداروں نے لاکھوں روپے اشتہار پر بھی خرچ کئے۔ انکی تقرری 16دسمبر2020کو ہوئی تھی جبکہ انہوں نے مختلف منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ درخواست گزارکے وکیل عالمزیب خان نے رٹ میں موقف اپنایا ہے کہ 8جنوری کو انگریزی روزنامے کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ چک شہزاد اسلام آباد کے قریب زمین بھی سی ڈی اے نے ایس ٹی زیڈ اے کو1200کینال کمرشل زمین الاٹ کردی جوایس ٹی زیڈ اے آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے۔رٹ میں کہاگیاہے کہ متعلقہ زمین پر ترقیاتی کام کا ٹھیکہ بھی مبینہ طو رپرمن پسند کمپنی کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح چیئرمین کی تقرری کیلئے کوئی سکروٹنی کی گئی  نہ ہی شارٹ لسٹنگ کمیٹی بنائی گئی تاکہ امیدواروں کی درخواستوں کی چھان بین ہوسکے جواس پورے پراسیس کو مشکوک بناتی ہے۔چیئرمین کی سی وی کے مطابق اس نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر ڈگری حاصل کررکھی ہے جبکہ اشتہار میں بنیادی شرط ماسٹر ڈگری رکھی گئی تھی جبکہ 20سال کی بجائے اسکا تجربہ بھی صرف 12سال ہے۔ اس طرح بغیر انٹرویو اورٹیسٹ انکی تقرری کی گئی جو نہ صرف پاکستان پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ میرٹ کیخلاف ایک غیرقانونی اقدام ہے۔رٹ میں مزید موقف اپنایاگیاہے کہ چک شہزاد جیسے پرائم لوکیشن پر ایس ٹی زیڈ اے کی انفرسٹرکچر اورکمرشل بلڈنگز کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک چھوٹے فرم کو دیا گیا جو 5ارب کا منصوبہ ہے جبکہ اس حوالے سے پی پی آراے ریگولیشنز کے تحت کوئی بڈنگ بھی نہیں کرائی گئی اور اس طرح چیئرمین نے ان چیزوں کو مبینہ طور پر بائی پاس کیا ہے۔عدالت عالیہ سے انکی بطور چیئرمین تقرری غیرقانونی قراردینے اورانکورٹ فیصلہ ہونے تک چیئرمین کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کرنیکی استدعا کی گئی ہے۔رٹ پٹیشن پر جلد سماعت متوقع ہے۔  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -