چارسدہ،جرگہ کی کوششیں بارآور،قبرستان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل 

چارسدہ،جرگہ کی کوششیں بارآور،قبرستان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل 

  

چارسدہ(بیورورپورٹ)چارسدہ میں جرگہ کوشش کے باعث دو اقوام کے درمیان قبرستان کا تنازعہ پرا من طریقہ سے حل ہوا جس پر دو اقوام نے جرگہ مشران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں امن و امان سے رہنے اور ہر قسم کے تصادم سے خود کو دور رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے ایک پروقات تقریب منعقد ہوئی جس میں مسعود خیل قوم اور کوڈا خیل قوم کے درجنوں مشران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حسیب الرحمان اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف  اینڈ ہیومن رائٹس محمد علی شاہ سمیت جرگہ مشران اشفاق خان صدر الخدمت فاونڈیشن ،میاں محسن شاہ،سنگین ارشد خان اور سابق اپوزیشن لیڈر خیر محمد خان سمیت کوڈا خیل قوم سے جہانگیر خان،ولی محمد خان اور پروفیسر ابراہیم جبکہ مسعود خیل قوم سے اشتیاق خان اور عالمزیب خان نے شرکت کی۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر حسیب الرحمان اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون روایات میں جرگہ سسٹم کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جائے سکتا اگر اس معاشرے سے جرگہ سسٹم ختم کیا جائے تو نہ صرف معاشرے میں بھگاڑ پیدا ہو گا بلکہ یہاں امن وا مان کی صورتحال کا برقرار رہنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ ا سمو قع پر مقررین کا مزید کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل چارسدہ کے دو بڑے اقوام کے مابین قبرستان کے تنازعہ ہوا تھا جس میں فریقین کے مابین ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی لیکن آج انتظامیہ کی تعاون اور جرگہ مشران کی مسلسل کو شش کے باعث دو فریقین کے درمیان برسوں پرانا یہ تنازعہ پرامن طریقے سے حل ہوا اور دو فریقین نے مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ پرامن اور بھائیوں کی طرح رہنے کے عز م کااعادہ کیا جس سے دو اقوم کے درمیان تصادم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہا۔ اس موقع پر جرگہ مشران کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ اگر مستقبل میں دونوں فریقین کے کسی بھی ایک فرد کی جانب سے قبرستان کے تنازعہ پرجرگہ فیصلے کے برعکس کوئی مخالف موقف سامنے آیا تو وہ اس فرد کا ذاتی قول و فعل ہو گا جس سے دونوں اقوام کا کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔تقریب کے اختتام پر دونوں اقوام جرگہ مشران کے بے لوث کوششوں کو سراہتے ہوئے انتظامیہ اور جرگہ ممبران کا شکریہ ادا کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -