کوٹ ادو: مجرم کو سزا ئے موت، 10لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنیکا حکم 

کوٹ ادو: مجرم کو سزا ئے موت، 10لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنیکا حکم 

  

  

 کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹ ادو عاصمہ تحسین نے تھانہ دائرہ دین پناہ کے قتل کے مقدمہ میں  مرکزی مجرم کو جرم ثابت ہونے سزائے (بقیہ نمبر45صفحہ6پر)

موت10لاکھ روپے جرمانہ کا حکم سنادیا، عدم ادائیگی پر مزید 6ماہ قید بھگتناہوگی،مقدمہ کے دوسرے ملزم کو شک کافائدہ دیتے ہوئے جرم ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا،استغاثہ کے مطابق تھانہ کوٹ ادو کے علاقہ کنیال کالونی کا رہائشی مختیار گورمانی30اگست 2014کے روز گھر والوں کو دوست چوہدری حامد کا کہہ کر موٹر سائیکل پر سوارگیا تھا،صبح تک واپس نہ آنے پر گھر والوں کوتشویش لاحق ہوئی جنھوں نے پولیس کوٹ ادو کو اطلاع کی تھی،دوسرے روز مختیار کا موٹر سائیکل منی بائی پاس گلشن اقبال لوح وقلم سکول کے سامنے کھڑا پایا گیاتھا جسے پولیس کوٹ ادو نے  قبضہ میں لے لیا مگر نوجوان کا کوئی پتہ نہ چلاتھا،دوسرے روز چکر دری کے قریب مقامی لوگوں نے ایک نعش نہر مگسن میں تیرتی ہوئی دیکھی جنھوں نے پولیس دائرہ دین پناہ کو اطلاع کی تھی جوکہ مختیار گورمانی کی شناخت ہوئی تھی،نوجوان کے سر اور بازو پر پسٹل کی گولیاں لگی ہوئی تھیں،پولیس نے نعش کا پوسٹمارٹم کرانے کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی تھی اور مقتول مختیارحسین گورمانی کے بڑے بھائی اقبال حسین گورمانی کی مدعیت میں چوہدری حامد علی سمیت نا معلوم کے خلاف تھانہ دائرہ دین پناہ نے مقدمہ نمبر279/14زیر دفعہ 302کے تحت درج کرکے قاتلوں کو گرفتار کر لیا تھا،پولیس تھانہ دائرہ دین پناہ نے ملزمان کی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا تھا، دوران سماعت جرم ثابت ہونے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹ ادو عاصمہ تحسین نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم حامد علی کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے اس پر10لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا جبکہ عدم ادائیگی پر مزید 6ماہ قید بھگتناہوگی جبکہ مقدمہ کے دوسرے ملزم مظفر کو شک کافائدہ دیتے ہوئے جرم ثابت نہ ہونے پر بری کرنے کا حکم سنادیا۔

ملزم بری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -