محکمہ سائنس و انفارمیشن  ٹیکنالوجی کے ترقیاتی پروگرام میں 14 ارب کے منصوبے شامل

محکمہ سائنس و انفارمیشن  ٹیکنالوجی کے ترقیاتی پروگرام میں 14 ارب کے منصوبے ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیرسائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خوراک عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے، شفافیت اور شہریوں کو آسان خدمات کی فراہمی کے لئے محکمہ سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  میں 14ارب کے مختلف بڑے منصوبے شامل ہیں ان کا کہنا تھاکہ صوبائی حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے، معاشی ترقی، ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے نوجوانوں کو متعارف کرانے کیلئے حطیر رقوم خرچ کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز  اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا۔ منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے عاطف خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع  میں 2.7 ارب روپے کی لاگت سے شہری سہولت مراکز(citizen facilitation centres) قائم کیے جائیں گے جن سے شہریوں کو ڈومیسائل، پیدائش،موت،شادی،طلاق نامہ، اسلحہ، ڈرائیونگ لائسنس، گاڑی کے اندراجات جیسی بنیادی خدمات تک آسان رسائی حاصل ہوسکے گی۔عاطف خان کا کہنا تھا کہ مردان شنکرمیں 742 ملین روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل اکانومی اور اسکل سنٹر کے قیام سمیت مردان میں 2000 کنال پر محیط اسپیشل ٹیکنالوجی زون،ہری پور میں ایک 1.3 ارب  روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل سٹی ہری پور بنائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں کیلئے کو روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پشاور اور سوات میں گندھارا ڈیجیٹل کمپلیکسس 4.06 ارب روپے کی لاگت سے بنائیں جائیں گے جس میں آئی ٹی پارکس، بزنس پروسیس، آؤٹ سورسنگ اور انکیوبیشن مراکز شامل ہونگے۔وزیر موصوف کا مزید کہنا تھا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں نوجوانوں میں جن ڈیجیٹل ہنر اور صلاحیت پیدا کرنے کیلئے بھی ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں  اسکے علاؤہ ضم شدہ اضلاع میں سائنس ٹیکنالوجی انوویشن کو فروغ دینے کے لئے 300 ملین روپے لاگت کے منصوبہ سمیت محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹکنالوجی کے نئے منصوبے جیسے سائنس ٹیکنالوجی انوویشن سسٹم بنانا اور نئی ٹیکنالوجی میں استعداد کار بڑھانے کے منصوبے شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -