خیبر پختونخوا زرعی شعبہ میں انتہائی استعداد کا حامل خطہ ہے: گورنر شاہ فرمان 

خیبر پختونخوا زرعی شعبہ میں انتہائی استعداد کا حامل خطہ ہے: گورنر شاہ فرمان 

  

پشاور(سٹاف  رپورٹر)گورنرخیبرپختونخواشاہ فرمان نے کہاہے کہ ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا زرعی شعبے میں انتہائی استعداد کاحامل خطہ ہے۔ خیبرپختونخوا کی زمین معیاری زیتون، زعفران، فریش اینڈ ڈرائی فروٹس اور بیری شہد کی پیداوار کے حوالے سے انتہائی زرخیز ہے جن پر ہم نے باقاعدہ ایک جامع پلان کے تحت کام شروع کردیاہے جس سے زرعی شعبے میں انقلاب آئیگا۔ انہوں نے کہاکہ وہ ذاتی طور پر مذکورہ شعبوں کی استعداد کو استعمال میں لانے کیلئے انتہائی سنجیدہ اور پرجوش ہیں۔مذکورہ شعبوں پر کام کرنے سے نہ صرف آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ ان شعبوں میں ایکسپورٹ اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ساتھ ہی ایک بزنس ماڈل بھی تیارکیاجاسکتاہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز پاک چائنہ فوڈ پراسسنگ کوآپریشن اینڈ ایکسچینج فورم میں بذریعہ ویڈیو لنک بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کا علاقہ چترال ماحولیاتی اعتبار سے زعفران کی کاشت میں انتہائی استعداد رکھتاہے اور ہماری سوچ اور توقعات سے بھی زیادہ زعفران کی پیداوار ہم حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں زیتون کی کاشت کے لئے ایک جامع پلان ترتیب دیاہے جس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں پہلے سے موجود جنگلی زیتون کی گرافٹنگ کی جائیگی اور اس کے علاوہ نئی پلانٹیشن بھی عمل میں لائی جائیگی اور زمینداروں کے علاوہ حکومتی اور کمیونٹی لینڈ پر زیتون کی کاشت کر کے ایک تیارشدہ کاروبار کوآپریٹو فارمنگ کے ذریعے نوجوانوں کے حوالے کیاجائیگا۔ یہ ایک ایسا تیار منصوبہ ہوگا جس سے معیاری زیتون کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ زمینداروں کی آمدن میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں فریش فروٹس موسمیاتی اعتبار اوراپنے بہترین ذائقے کی بدولت دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں اور قدرت کی عطاء کردہ اس تحفے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے صوبے میں گورنر فروٹس فارآل پروگرام کے تحت 50 لاکھ پھلدار پودے لگانا شروع کئے ہیں اور اگر ہم ایسے مقامات جہاں عوام کو فروٹس آسانی سے میسر آئے وہاں پر پھلدار پودے لگادیں تو کسی کو بھی فروٹس خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں اس وقت پانچ مختلف قسم کے ڈرائی فروٹس پائے جاتے ہیں جوکہ دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی چند اضلاع میں بیری کا پودا انتہائی اسانی سے پیدا ہوتاہے جوکہ کسی بھی موسم میں متاثر نہیں ہوتا۔ ہم بیری کی کاشت کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کیلئے کام کررہے ہیں جس کا واحد مقصد بیری شہد کا حصول ہے، بیری کی شہد دنیا بھر میں مشہورہے کیونکہ اس میں شوگر لیول 6 سے 9 فیصد ہوتاہے اور یہ انتہائی کم درجہ حرارت پر بھی جمتی نہیں ہے۔ بیری کی شہد کی پیداوار میں ہم انتہائی استعداد رکھتے ہیں۔ گورنرخیبرپختونخوا کا کہناتھا کہ بدقسمتی سے مذکورہ شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی لیکن اب ہم ان شعبوں میں انقلاب لیکر آرہے ہیں جو ہماری ملک کی معیشت کے استحکام کاباعث بن سکتی ہے اور دنیا بھر کیلئے ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور برآمدات میں بے تحاشااضافہ ہوگا۔ چائنہ ایمبیسی اور خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسمنٹ اینڈ ٹریڈ کے زیراہتمام ویڈیو کانفرنس میں چائنہ کے سفیر مسٹر نونگ رونگ، چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ، وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری عبدالکریم اور دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی ہدایت پر بدھ کے روز صوبے کی مزید 3 یونیورسٹیوں،یونیورسٹی آف صوابی، وویمن یونیورسٹی صوابی اور یونیورسٹی آف ملاکنڈکی سینٹ کے الگ الگ اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئے جس میں مذکورہ یونیورسٹیوں کے مالی سال 2021-22کے بجٹ منظوری کے لئے پیش کئے گئے، سینٹ کے الگ الگ اجلاسوں میں مذکورہ یونیورسٹیوں کی جانب سے تیار کردہ مالی سال  2021-22کے بجٹ کی ترجیحات اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد مذکورہ تعلیمی اداروں کے مالی سال 2021-22کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔  واضح رہے کہ گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی تھی کہ تمام یونیورسٹیاں اپنا مالی سال2021-22 کا بجٹ تیار کر کے جون میں سینٹ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کریں۔ سینٹ اجلاسوں وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اعلی تعلیم کامران بنگش، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر محمد ادریس، سیکرٹری محکمہ ہائرایجوکیشن محمد داؤد خان، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ خزانہ سفیر احمد، وائس چانسلر یونیورسٹی آف صوابی پروفیسر ڈاکٹرسیدمحمدمکرم شاہ،قائمقام وائس چانسلروویمن یونیورسٹی صوابی پروفیسر ڈاکٹرسیدمحمدمکرم شاہ اوروائس چانسلر یونیورسٹی آف ملاکنڈپروفیسر ڈاکٹر گل زمان کے علاوہ دیگر متعلقہ سینٹ اراکین نے شرکت کی۔#

پشاور(سٹاف رپورٹر)گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان نے کہا ہے کہ کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے، ہمارے صوبہ کے نوجوانوں کی کرکٹ کھیل میں دلچسپی اور کرکٹ کے میدان میں ملکی و عالمی سطح پر نوجوان کھلاڑیوں کی نمائندگی دیکھ کر دلی مسرت ہوتی ہے،صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی یے، بہت جلد صوبہ کیعوام کو پشاور میں عالمی کرکٹ کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں 30ویں گورنر خیبر پختون خوا کرکٹ ٹورنامنٹ کی تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر کیا۔ملک سعد میموریل سپورٹس ٹرسٹ کے ممبران ٹرسٹی، کھلاڑیوں، منتظمین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔گورنر شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کرکٹ کھیلتے ہیں اور اس کھیل میں کافی حد تک دلچسپی رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور میں حیات آباد میں عالمی معیارکے مطابق کرکٹ سٹیڈیم بن رہا ہے جس پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس اسٹیڈیم کی تکمیل سے پشاور میں کرکٹ کے عالمی مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔اس موقع پر گورنر خیبر پختون خوا نے گولڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی اور ایک لاکھ روپے دئیے۔کھلاڑیوں کو گولڈ میڈلز بھی پہنائے گئے۔ رنرز اپ ٹیم ناردرن سپورٹس نے ٹرافی اور پچاس ہزار روپے کا نقد انعام حاصل کیا۔ کھلاڑیوں کو چاندی کے تمغے بھی پہنائے گئے۔اس موقع پر نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات میں شیلدز بھی تقسیم کی گئیں۔علاوہ ازیں گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان کو ملک سعد شہید میموریل ٹرسٹ کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔#

مزید :

صفحہ اول -