دائرہ اد ب نیویارک کے صدر محسن رضی علوی سے بات چیت

دائرہ اد ب نیویارک کے صدر محسن رضی علوی سے بات چیت
دائرہ اد ب نیویارک کے صدر محسن رضی علوی سے بات چیت

  

مکہ مکرمہ (محمد عامل عثمانی )حسان العصرکا خطاب اور اپنی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر گولڈ میڈل حاصل کرنے والے شاعر اور دائرہ ادب نیویارک کے صدر،معروف شاعر انجینیر محسن رضی علوی (نیویارک )سے   روزنامہ “پاکستان “لاہور نے انکے شاعری کے سفر اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مصروفیت پرآن لائن  بات چیت کی اور دریافت کیا کہ ایک میکینیکل انجینیر اور شاعری کے درمیان آپ کس طرح انصاف کر پائے ’ انھوں نے بتایا کہ جہاں تک ایک میکینیکل انجینئر ہوتے ہوئے شاعری کا تعلق ہے۔ تو دراصل میں نے تو ماں کی گود سے شاعری سیکھی اور جب میں صرف 9 سال کا چوتھی جماعت میں1964 ء میں تھا تب سے شاعری شروع کردی تھی اپنے نانا علامہ دردؒ کاکوروی کو دکھانے لگا تھا۔ اور انجینئر نگ میں تو 1974 ء میں داخل ہوا اور NEDانجینئرنگ یونیورسٹی کے ادبی مجلہ الحدید میں بھی میرا کلام چھپتا تھا۔ درحقیقت شاعروں کے خاندان سے تھا۔ لکھنو کاکوری نے 300 سے زیادہ شعرا اور ادیب پیدا کئے ہیں جن کا ذکر میرے چچا حکیم نثار احمد علوی ساقی  کاکوروی ؒ کی کتاب سخنوران کاکوری میں آیا ہے۔ مگر اس کتاب میں میرا ذکر نہیں ہے کیونکہ میں اسوقت بہت چھوٹا تھا ۔اور یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ میرے دوسرے چچا سرفراز احمد علوی فطرت کاکوروی  میرے شاعری کے سفر میں استاد بھی رہے ۔اسوقت ادبی پس منظر اور کام اور اب دائرہ ادب نیویارک کا صدر ہوں اور ہر مہینے دو حمدیہ اور نعتیہ مشاعرے آن لائن کروا رہا ہوں 14 حمدیہ نعتیہ مشاعرے جو یو ٹیوب پر موجود ہیں کے علاوہ یاد رفتگاں کے مشاعرے۔ بھی دائرہ ادب نیویارک کے چند دوسری ادبی تنظیموں کے ساتھ مل کر کنڈکٹ کرچکا ہوں ان میں جن شعرائے کرام پر مشاعرے کرچکا ہوں جو یو ٹیوب پر موجود ہیں ان میں حسان الہند علامہ محسن کاکوروی ؒ ، مولف نور الغات علامہ نورالحسن نیرّکاکوروی ؒ، علامہ درد کاکوروی ؒ، جناب صبا اکبر آبادی ؒ، بہزاد لکھنوی ؒ کتاب سخنوران کاکوری ، جناب نثار احمد علوی ساقی کاکوروی ؒ ، پروفیسر اقبال عظیم ؒ، وحیدہ نسیم مرحومہ ’ رسا چغتائی ؒ ؒ، ذکی عثمانیؒ ، جمیل الدین عالیؒ ؒ، اور احمد فراز ؒ پر یاد رفتگاں کے پروگرامز بھی کرچکا ہوں۔ یعنی ابتک 26 مشاعروں کے پروگرامز دائرہ ادب نیو یارک کے تحت کرواچکا ہوں۔ اگلا مشاعرہ 10 جولائی کو درود شریف کو موضوع پر ہے۔ اسکے علاوہ میں خود بھی اقبال عظیم ؒ کو اپنی اہلیہ تبسم محسن علوی کے دادا محترم وکیل احمد قدوائی ؒکے گھر جہاں ہر 12 ربیع الاول کو فجر کی نماز کے بعد پہلے درس قرآن ہوتا تھا اور اے کے بروہیؒ اور خالد اسحاق جیسے افراد سے قرآن پر درس اور ان کے نعتیہ مشاعرے میں گاڑی میں لے کر آیا تھا اور ان کے قدموں میں سامنے بیٹھ کر ان سے نعتیں سن چکا ہوں ۔یہ میری بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ شاعر لکھنوی ؒ ’ محشر بدایونی ؒ ’ تابش دہلویؒ ’اعجاز رحمانیؒ ’ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ’ مظفر وارثیؒ ’حنیف اسعدیؒ ،رحمان کیانیؒ ’ صہبا اخترؒ جیسے عظیم شعرا کو نہ صرف سننے کے مواقع ملے بلکہ ان شعرا کے سامنے اپنا کلام بھی پیش کرکے داد حاصل کرچکا ہوں۔ الحمد للہ میری پہلی کتاب دریچہ دل کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل کراچی میں انتہائی محترم اور مقبول شاعر سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کے ہاتھوں ہوئی۔ اسوقت پہلی کتاب پر پر ڈاکٹر فرمانؒ فتح پوری نے دریچہ دل کی کتاب کا مقدمہ لکھا۔ دوسری کتاب وارفتگی کی تقریب رونمائی ممتاز عالم دین صاحبزادہ قاری عبد الباسط کے ہاتھوں جدہ میں ہوئی۔ تیسری کتاب چراغ جاں کی تقریب رونمائی سرشار صدیقی ؒکے ہاتھوں آرٹس کونسل کراچی پاکستان میں ہوئی۔چوتھی کتاب یہی قصر دل کی اذان ہے کی تقریب رونمائی سعودی دوست ڈاکٹر یوسف رضا صدیقی ؒکے ہاتھوں  جدہ ہی  میں ہوئی۔ اور اللہ تعالی کی رحمت نے ڈاکٹر یوسف صاحب کے ذریعے مجھ تک غلاف کعبہ کے ٹکڑے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر چڑھائی جانے والی چادر کے ٹکڑے بھی پہنچائے جو میرے پاس محفوظ ہیں کچھ میں نے اپنے بچوں میں تقسیم کردئے اور مدینہ شریف روضہ رسول کے بالکل ساتھ بیٹھ کر ریاض الجنتہ میں بیٹھ کر عبادت کرنے کے بار بار مواقع نصیب کئے یہ اللہ سبحانہ تعالی کی مجھ پر بہت ہی رحمت ہے اللہ سبحانہ تعالی کا بے انتہا شکر ہے الحمد و للہ

مزید :

تارکین پاکستان -