’بزنس کمیونٹی کو چورکہنا بند کیا جائے ‘سینیٹر طلحہ محمودنے ایسی بات کہہ دی کہ چیئرمین نیب بھی سوچ میں پڑ جائیں

 ’بزنس کمیونٹی کو چورکہنا بند کیا جائے ‘سینیٹر طلحہ محمودنے ایسی بات کہہ دی ...
 ’بزنس کمیونٹی کو چورکہنا بند کیا جائے ‘سینیٹر طلحہ محمودنے ایسی بات کہہ دی کہ چیئرمین نیب بھی سوچ میں پڑ جائیں

  

اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ کےچیئرمین اورجمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو چورکہنا بند کرنا چاہیئے، بزنس کمیونٹی کو عزت دیں ، ساری بزنس کمیونٹی کو انہوں نے لا کر عدالتوں میں کھڑا کر دیا تو بزنس کون کرے گا ؟ ان سارے نوٹسز کو واپس لیا جائے۔

تفصیلات کےمطابق سینیٹ کااجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،اجلاس کےدوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ کےچیئرمین سینیٹرطلحہ محمودنےبجٹ پرسفارشات تیارکرنےکےلئےتجاویزپرخزانہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی اور کہاکہ وزیرخزانہ شوکت ترین نےاپنی پوری ٹیم کےساتھ اس عمل میں دلچسپی لی اور سنجیدہ طریقہ سےہماری باتوں کوسنا،جتنی سفارشات وہاں منظورہوں گی میں ایوان کو اعتماد میں لوں گااوررپورٹ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک شق پرکمیٹی اوربزنس کمیونٹی کواعتراض تھا،203اے سے203ایچ جس میں کسی تاجرکو اسسٹنٹ کمشنر یااس کےلیول کاکوئی بھی افسرکسی وقت بھی شک کی بنیادپرگرفتارکرسکتاتھاہم نےاس کومسترد کیاہے،ہم نےکہااس شق کومستردکریں،بچوں کےدودھ کی ساری پراڈکٹس پرڈیوٹی ختم کرنےکی سفارش کی ہے،فلورزملزپرٹیکس کومستردکیا،تنخواہوں میں20فیصد اضافہ کرنےکی سفارش کی ہےاور پینشن میں بھی20فیصد اضافہ کی سفارش کی ہے،ملازمین کےفنڈزپرٹیکس کومسترد کیا ہے،صحافیوں کےٹی اے ڈی پرٹیکس کی تجویز کو مستردکیاہے،ملازمین کےمیڈیکل الاؤنس پربھی ٹیکس کومستردکردیاہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ کاروبار ہونا چاہیئے، کاروبار چلے گاتوملک میں ترقی آئے گی، نابینا افراد کے موبائل فون پر ٹیکس کو مسترد کیا ہے ، ایس ایم ایز( چھوٹے کاروباری اداروں ) پر ٹیکس کم کرنے کی سفارش کی ہے ،25ہزار کے بجلی کے بلوں پر ود ہولدڈنگ ٹیکس کو مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو چورکہنا بند کرنا چاہیئے ، حقارت کا سلوک بند ہونا چاہیئے، بزنس کمیونٹی کو عزت دیں، پچھلے دنوں میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ 2.4ٹریلین کے انہوں نے نوٹسز جاری کیئے ہیں ، ساری بزنس کمیونٹی کو انہوں نے لا کر عدالتوں میں کھڑا کر دیا ہے تو بزنس کون کرے گا ؟ ان سارے نوٹسز کو واپس لیا جائے اس معاملے پر دوبارہ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جو کمیٹی نے اپنا کام کیا ہے ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ان کی محنت کو سراہتے بھی ہیں ، بزنس کمیونٹی کا احترام کرتا ہوں، لیبر بھی کام کرتی ہے، ہمیں سب کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے۔قائد ایوان سینیٹرشہزاد وسیم نے کہا کہ ٹیکس چوری کی آج کے بعد گنجائش نہیں ہوگی اس موقع پر رائے شماری کے بعد ایوان نے بجٹ پر کمیٹی کی سفارشات کو منظور کر لیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -