سینیٹ نے فنانس بل 2021-22ءکے لئے سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوا دیں

سینیٹ نے فنانس بل 2021-22ءکے لئے سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوا دیں
سینیٹ نے فنانس بل 2021-22ءکے لئے سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوا دیں

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ نے فنانس بل 2021-22کے لئے سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوا دیں ہیں، سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور پنشنزمیں 20افیصد ضافہ کیا جائے،سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62سال مقرر کی جائے، بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائی جائے، پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لئے ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں، لوگوں کو گرفتار کرنے کا ایف بی آر کا اختیار ختم کیاجائے۔

تفصیلات کے مطابق  ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے سفارشات ایوان میں پیش کیں جن کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی گئی۔ سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ صحت کے شعبے پر ود ہولڈنگ ٹیکس 8فیصد سے 3فیصد کیا جائے،اشیاخوردنی پر جی ایس ٹی کا استثنی بحال کیا جانا چاہیے، آئین کے آرٹیکل 160کے تحت نیااین ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے،سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ 20فیصد کیا جائے اور سرکاری ملازمین کی ریٹائر منٹ کی عمر 62سال مقرر کی جائے،بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائی جائے، پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لئے ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں، لوگوں کو گرفتار کرنے کا ایف بی آر کا اختیار ختم کیا جائے۔ فلور ملز کی صنعت سے متعلق تین ٹیکس لاگو نہ کئے جائیں،سرکاری ملازمین کے علاج معالجے، مختلف الاؤنسز اور پراویڈنٹ اور پنشن فنڈز پر ٹیکس واپس لیا جانا چاہیے۔

وفاقی حکومت بلوچستان کی حکومت کی طرف سےواپڈا کو واجب الادا 25ارب روپے ادا کرے۔ وفاقی حکومت سابق فاٹا اورپاٹا کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وافر فنڈز مختص کرے،صحت اورتعلیم کے شعبوں کے لئے بجٹ دگنا کیا جائے،اشیائے خوردنی ریٹیل ٹیکس سے مستثنی ہونی چاہئیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لئے کم از کم تنخواہ 25ہزار روپے ہونی چاہیے، بیجوں سمیت زرعی آلات کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے چھوٹے کاشتکاروں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں، ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے گرین بینکنگ فنانس سسٹم متعارف کرا کر سرمایہ کاری کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں۔

کورونا وباکے دوران خدمات سر انجام دینے والے نیم طبی عملے اور نرسوں کے لئے خصوصی پے پیکج اور تربیت کےلئےفنڈز مختص کئے جائیں، آئی ٹی انڈسٹری کے لئے ٹیکس کا استثنی واپس لینے کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے،800سی سی کی گاڑیوں پر 30ہزار روپے لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس کا نفاذ لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس کا نفاذ اور وصولی واپس لی جائے،کوکا پاڈر پرریگولیٹری ڈیوٹی 10فیصد تک کم کی جائے،اسلام آباد میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات پر سیلز ٹیکس 16فیصد سے کم کر کے فیصد کیا جائے ،پٹرولیم، خام تیل کی مصنوعات، کا استثنی بحال کیا جائے،پرانی گاڑیوں کے لئے نئے سپیئر پارٹس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے۔

18سے 25سال کے نوجوانوں کو کاروبار کے لئے ٹیکسوں اور قرضوں میں مزیدسہولیات دی جائیں،جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کر کے 8.5 فیصد کیا جائے،اشیائے خوردنی پر جی ایس ٹی 17فیصد سے کم کر کے 8.5فیصد کیا جانا چاہیے،غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیاکی فروخت پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ترمیم واپس لی جائے، پولٹری فیڈ کے تمام سامان پر 10سے 17فیصد کا اضافہ واپس لیا جانا چاہیے،سونے پر 17فیصد کے سیلز ٹیکس کا نفاذ واپس لیا جائے،کنولا کے بیج پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس لیا جانا چاہیے۔

غیرملکی برآمد کنندگان کی غلطی کی وجہ سے درآمد کنندگان پر جرمانہ عائد نہیں ہونا چاہیے،دودھ کے پاڈر یا دودھ کی مصنوعات کی قیمت پر لیوی یا ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے،ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے لئے سیکشن 37میں مجوزہ ترمیم واپس لی جائے، کنسٹرکشن انڈسٹری کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ ڈی ایل ٹی ایل کے لئے فنڈز بڑھا کر 75ارب کئے جائیں۔ میٹلک یارن کے حوالے سے بجٹ سے قبل کی صورتحال بحال کی جائے،ویلڈنگ الیکٹروڈز انڈسٹری کو ففتھ شیڈول میں شامل کیا جائے،پولیسٹر فائبر پر ڈیوٹی 7فیصد سے 4فیصد کی جائے۔

سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ کوئٹہ مغربی بائی پاس کے لئے مختص رقم کم از کم 2 ارب 50 کروڑ تک بڑھائی جائے، ژوب سے کچلاک روڈ کے لئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے،دالبندین سے زیارت تک سڑک کی تعمیر کے لئے مختص رقم تین ارب کی جائے، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے مختص رقم دو ارب تک بڑھائی جائے، کوئٹہ میں کارڈک سینٹر کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں، بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پرمنتقل کرنے کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں،بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لئے فنڈز مختص ہونے چاہئیں۔

نوشہرہ سے تحصیل درگئی مالاکنڈ کے لئے مسافر ٹرین سروس بحال کی جائے، ضلع مالاکنڈ کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وافر فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں، مالاکنڈ ٹنل کے زیر التوامنصوبے پر کام مکمل کرنے کے لئے ایک ارب روپے رکھے جائیں، لواری ٹنل سے چترال شہر تک سڑک کی تکمیل کی جائے،بلوچستان میں ہنگول ڈیم منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے ۔ کوئٹہ میں میٹرو بس منصوبہ شروع کیا جائے اور پی ایس ڈی پی میں وافر فنڈز مختص کئے جائیں۔ کراچی، پشاور ایم ایل ون منصوبہ ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ کوئٹہ کی ترقی کے لئے خصوصی پیکج دیا جائے۔ زیارت میں فارسٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں۔

کوئٹہ، سبی،لورا لائی اور ژوب میں تجارتی بنیاد پرزیتون کی کاشت کوفروغ دینےکےلئےفنڈزمختص کئے جائیں ، بلوچستان میں پانچ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں۔ ضلع خضدار میں یونیورسٹی قائم کی جائے۔ ضلع جعفر آباد میں کامسٹیٹس یونیورسٹی کے قیام کے لئے فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔ ضلع مہمند میں ایجوکیشنل سٹی قائم کیا جانا چاہیے،کرم تنگی ٹیم کو اور ٹانک زام ڈیم کو پی ایس ڈی پی 2021-22میں شامل کیا جائے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے لئے ترقیاتی بجٹ تین سو ارب روپے تک بڑھایا جائے، منصوبہ ڈویژن کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے لئے کم از کم 25فیصد اضافی فنڈز فراہم کرے، ضلع کوہستان میں 132میگاواٹ کا گرڈ سٹیشن قائم کیا جائے، داسو سے رائے کوٹ تک سڑک جلد سے جلد مکمل کی جائے،نیو گوادر ایئرپورٹ جلد مکمل کیا جائے،گلگت میں نکاسی اور صفائی کے نظام کے لئے 3ارب 85کروڑ روپے مختص کئے جائیں۔ گلگت بلتستان میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کئے جانے چاہئیں۔

مزید :

قومی -