انتخابات کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا ؟ سینیٹر شبلی فراز نے کھل کر بتا دیا 

 انتخابات کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا ؟ سینیٹر شبلی ...
 انتخابات کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا ؟ سینیٹر شبلی فراز نے کھل کر بتا دیا 

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت جب عوام کے مفاد میں فیصلے کرے گی تو نتائج بہتر آئیں گے، ملک میں انتخابات ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کے حل کرنے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ اختیار کرنا ہو گا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے قانون سازی کرنا ہو گی، ماضی کے حکمران ذاتی مفادات کے لئے ملکی مفاد پر سمجھوتہ کر دیتے تھے، وزیراعظم عمران خان ملک کی ترقی کے خواہاں ہیں۔

ایوان بالا کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021-22کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، مشکل حالات میں اس وقت ایسا بجٹ پیش کیا جو کہ اطمینان بخش ہے، حکومت نے 34ماہ میں کئی اقدامات کئے، جب اقدار میں آئے تو ملک آئی سی یو میں تھا، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم تھے، کرنسی کی شرح تبادلہ کو مصنوعی طریقہ سے برقرار رکھا گیا، زیادہ درآمدات کے باعث مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا، 19ارب ڈالر کا تاریخی خسارہ تھا، بڑے مشکل چیلنجز درپیش تھے، پہلے سال معیشت مستحکم کی، کورونا نے پوری دنیا کے معاشی نظام کو تہس نہس کر دیا، حکومت نے بہترین حکمت عملی اختیار کی، روزگار بھی بچانا ہے اور زندگیوں کو بھی بچانا ہے، ہم نے یہ دونوں کام کر کے دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ دیہاڑی دار مزدوروں کو احساس پروگرام کے تحت مدد فراہم کی گئی، حکومت نے اس موقع پر مراعات دیں،30سال حکومت کرنےوالے34ماہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کی توقع رکھتے ہیں،احساس پروگرام کےذریعے260ارب روپےکا پیکج دیا گیا،آئندہ سال میں شرح نمو میں مزید بہتری آئے گی، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ صنعتیں چل رہی ہیں، حکومت جب عوام کے مفاد میں فیصلے کرے گی تو نتائج بہتر آئیں گے، پارلیمنٹ عوام کے مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کرتا ہے، ملک میں انتخابات ہمیشہ متنازعہ رہےہیں،سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی کے انتخابات ہوں متنازعہ ہو جاتے ہیں، انتخابی اصلاحات کے دوران بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا گیا، وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کے حل کرنے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ اختیار کرنا ہو گا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے قانون سازی کرنا ہو گی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ادائیگیوں کے توازن میں اہم کردار ادا کیا، الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے پروٹو ٹائپ مشین تیار کی، انتخابی اصلاحات کا بل پیش کیا، اپوزیشن 30 سال سے دھاندلی میں ماسٹر ہو چکی ہے، اپوزیشن پارلیمنٹ کو کمزور نہ کرے، اس حوالہ سے قانون سازی پر اپنی رائے اور مشورہ دے، یہ بہترین نظام ہے، ہم الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ای ووٹنگ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے لئے پرعزم ہیں، یہ ہمارے منشور کا حصہ تھا، اس وعدہ کو پورا کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی اس معاملے پر ہمارا ساتھ دے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس جمہوری نظام میں اپنا حصہ ڈال سکیں، کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار قانون کی حکمرانی پر ہوتا ہے، خاص لوگوں کے لئے ایک قانون عام لوگوں کے لئے دوسرا قانون ہے، مسلم لیگ(ن) کی قیادت ملک سے بھاگی ہوئی ہے، ان کی جائیدادوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے، اس کا جواب دینا ہو گا،وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں گھر کی منی ٹریل دی، ہم نے عدالتوں پر حملے نہیں کئے، ان کی قیادت کو جواب دینا ہو گا، عمران خان نے 22سالہ جدوجہد کی، وہ ایماندار ہیں ،اپوزیشن والوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں جو زیادہ عرصہ اقتدار میں رہتا ہے اس کا زیادہ احتساب ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یکساں معاشی ترقی کے لئے حکومت بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، اسلامو فوبیا، مسئلہ فلسطین اورتنازعہ کشمیر سےمتعلق بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھائی،پاکستان کےاس وقت مختلف ممالک کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلقات ہیں،عمران خان برابری کی بنیاد پر بات کرتے ہیں جبکہ ماضی کے حکمران ذاتی مفادات کے لئےملکی مفادپرسمجھوتہ کر تے رہے، وزیراعظم عمران خان ملک کی ترقی کے خواہاں ہیں، کورونا کےباعث اشیائےخورد و نوش دنیا بھر میں مہنگی ہوئی ہیں تاہم حکومت اس پرسبسڈی دےرہی ہے،ماضی میں رشتہ داریوں اور وفاداریوں کے باعث ملازمتیں اور عہدے ملے، حکومت اور اپوزیشن کو آبادی میں اضافہ سے متعلق غور و خوض کے لئے مل کر سوچنا ہو گا۔

مزید :

قومی -