جہاں بھی زندگی کا سبب تلاش کرو گے وہاں موت ہی پاﺅ گے اور جہاں موت پاﺅ گے وہاں سمجھ لو گے کہ کس طرح زندگی گزارنی چاہیے

 جہاں بھی زندگی کا سبب تلاش کرو گے وہاں موت ہی پاﺅ گے اور جہاں موت پاﺅ گے ...
 جہاں بھی زندگی کا سبب تلاش کرو گے وہاں موت ہی پاﺅ گے اور جہاں موت پاﺅ گے وہاں سمجھ لو گے کہ کس طرح زندگی گزارنی چاہیے

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :35

سقراط دنیا سے بے رغبت تھا، اس کی اسے پرواہ نہ تھی۔ یونانی بادشاہوں کا دستور تھا کہ جنگ کے لیے نکلتے تو سفر میں حکماءکو بھی ساتھ رکھ لیتے چنانچہ ایک دفعہ اپنی کسی مہم پر بادشاہ نے سقراط کو بھی ساتھ لیا اس نے لشکر میں ایک شکستہ کنج کے اندر رہنا پسند کیا۔ یہاں سردی سے سکون حاصل کرتا اور طلوع آفتاب کے وقت نکل کر اوپر بیٹھ جاتا اور دھوپ سے گرمی حاصل کرتا۔اس لیے اسے سقراط الجب کہا جاتا ہے ایک دن یہاں بادشاہ کا گزر ہوا سقراط اپنے اسی کنج پربیٹھا ہوا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا آخر کیا بات ہے تم ہمارے پاس نہیں آتے۔ اس نے کہا میں مصروف ہوں۔ بادشاہ نے پوچھا وہ کیا۔ اس نے کہا ایساکام ہے جو زندگی قائم رکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا ہمارے یہاں آ جاﺅ اس طرح کا سامان ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ اس نے کہا اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ تمہارے پاس یہ سامان واقعی موجود ہے تو اسے ترک نہ کروں گا۔بادشاہ نے کہا مجھے معلوم ہے تم بتوں کی پرستش کو نقصان دہ کہتے ہو؟ اس نے جواب دیا اس طرح نہیں کہاہے۔ بادشاہ نے پوچھا کس طرح کہا ہے؟ اس نے کہا ”میں نے یوں کہا ہے کہ بتوں کی پرستش بادشاہ کےلئے مفید اور سقراط کےلئے مضر ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ رعیّت کی اصلاح کرے گا اور وہ اپنا خرچ وصول کرے گا مگر سقراط کو یہ علم ہے کہ اصنام اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع کیونکہ وہ تو ایک ایسے خالق کا اقرار کرتا ہے جو اسے رزق دیتا ہے اور اسے بھلے، برے کام کی جزا دے گا۔“ بادشاہ نے پوچھا کوئی ضرورت ہے؟ اس نے کہا ”ہاں اپنے جانوروں کی عنان میری طرف سے گھماﺅ تمہاری افواج نے دھوپ کی روشنی مجھ سے چھین لی ہے۔ بادشاہ نے اسے دیبا وغیرہ سے بنا شاندار کپڑوں کا ایک جوڑا، جواہر اور بکثرت دینار بطور انعام دینے کا حکم دیا۔اس پر سقراط نے کہا۔ ”بادشاہ۔ تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ وہ سامان دو گے جو زندگی قائم کرے مگر تم نے تو وہ سامان فراہم کیا ہے جو موت کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ جہاں بھی جاتا ہے موجود رہتی ہے۔

اپنے کلام کے اندر فیثاغورث کی طرح سقراط بھی رمزیہ اشارات سے کام لیتا تھا کلام کا نمونہ حسب ذیل ہے۔

٭ جہاں بھی زندگی کا سبب تلاش کرو گے وہاں موت ہی پاﺅ گے اور جہاں موت پاﺅ گے وہاں سمجھ لو گے کہ کس طرح زندگی گزارنی چاہیے یعنی جو شخص الٰہی زندگی سرکرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے جسم کو بقدر امکان مار کر تمام حسی افعال سے بے نیاز ہو جائے۔ اس وقت وہ حق کی زندگی بسر کرنے کےلئے تیارہو جائے گا۔

٭ گفتگو رات کو کیا کرو جہاں چمگاڈروں کے آشیانے نہیں ہوتے یعنی تمہاری گفتگو خلوت میں خود اپنے آپ سے ہونی چاہیے اپنے افکار کو مجتمع اور نفس کو روکو کہ کہیں کسی ہیولائی امر سے واقف نہ ہو جائے۔

٭ پانچوں روشن دانوں کو بند رکھو تاکہ علمیت کا مسکن روشن ہو سکے یعنی غیرمفید باتوں میں گردش کرنے سے حواسِ خمسہ کو روکو تاکہ تمہارا نفس روشن ہو سکے۔

٭ ڈبیہ میں خوشبو بھرو یعنی عقل کو بیان و فہم اور حکمت سے پُر کرو۔

٭ حوضِ مثلث کو خالی گھڑوں سے فارغ رکھو یعنی قوائے نفسانی کی تینوں جنسوں میں تمام بدی کی اصل میں پیش آنے والے تمام آلام کو اپنے قلب سے دور کرو۔

٭ شیر، دُم نہیں کھایا کرتے یعنی خطاکاری سے بچو۔

٭ میزان سے ہرگز تجاوز نہ کرو یعنی حق سے باہر نہ جاﺅ۔

٭ موت کے وقت چیونٹی نہ بن جاﺅ یعنی خود کو فنا کرتے وقت حسّی ذخائر جمع نہ کرو۔

٭ یہ علم میں رہے کہ کوئی زمانہ فصل بہار سے خالی نہیں ہوتا یعنی کسی بھی زمانے میں کسب فضیلت کے لیے کوئی شے مانع نہیں ہے۔

٭تین راہیں تلاش کرو اگر نہ پاﺅ تو گہری نیند سو جاﺅ یعنی علم الاجسام علم مالا جسم ، اور اس چیز کا علم جو جسم نہیں رکھتی مگر اجسام کے ساتھ موجود رہتی ہے ان میں جو نہ مل سکے اس سے باز رہو۔

٭ نو ایک سے کامل تر نہیں ہے یعنی دس ایک عدد ہے جو نو سے سے زیادہ ہے۔ دس ہونے کےلئے نو کی تکمیل ایک ہی سے ہوتی ہے اسی طرح نو فضائل بھی اللہ تعالیٰ کے خوف، اس کی محبت اور مراقبہ سے پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔

٭ بارہ کے ذریعے بارہ کا ذخیرہ کرو یعنی بارہ اعضاءکے ذریعے جن سے نیکی اور بدی کا اکتساب ہوتا ہے۔ فضائل کا اکتساب کرو یہ اعضاءشرم گاہ، دونوں کان، آنکھیں، نتھنے، زبان، دونوں ہاتھ اور پیر ہیں نیز یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ 12 مہینوں میں ان حمیدہ امور کو حاصل کرو جو اس عالم کے عرفان و تدبیر کے باب میں انسان کو کامل بناتے ہیں۔

٭ سیاہ بوو اور سفید کاٹو یعنی روﺅں اور خوش رہو۔

٭ تاج کو بلند کر کے اس کی بے حرمتی نہ کرو یعنی عمدہ رسموں کو ترک نہ کرو یہ سر پر تاج کی طرح قوموں کو محیط ہوتی ہیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -