پاکستان اور سعودی عرب کا تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور سعودی عرب کا تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

  

ملتان(پ ر) پاکستان اور سعودی عرب نے تعمیرات، زراعت، لائیو (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

سٹاک، آئی ٹی اور سماجی شعبے سمیت کئی شعبوں میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کی تجدید کی ہے۔ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اس عزم کا اعادہ صوبہ پنجاب کا دورہ کرنے والے ایک اعلی سطحی سعودی تجارتی وفد کے اعزاز میں پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی جانب سے پنجاب سول آفیسر ز میس جی او آر میں منعقد ہ خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا۔ سعودی تجارتی وفد کی قیادت فہد البعاش نے کی جبکہ وفدمیں سعودی بزنس چیمبر کے ممبران بھی شامل تھے۔ سیکرٹری صنعت تجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل سی بی ڈی ڈ ی اے) اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (رودا)کے سی ای او عمران امین،سی ای او پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (پی بی آئی ٹی) ا حمر ملک، سی ای او پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی پی اے) امجد علی اعوان اور پنجاب کے دیگر معروف صنعت کار بھی موجود تھے۔صوبہ پنجاب اپنی جغرافیائی اہمیت، زرخیز زمین، ہنرمند افرادی قوت اور جدید ترین انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہمیشہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، جس میں پختہ شاہراہوں اور پلوں کا وسیع جال شامل ہے۔ موجودہ حکومت نے ہمیشہ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری صنعت وتجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاشی روابط کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی سہولت اور ان کے کاروبار کو آسان بنانے کیلئے بے شمار مراعات فراہم کی گئی ہیں جبکہ خصوصی صنعتی زونز میں درآمدی مشینری پر چھوٹ اور آمدنی پر ٹیکس میں مراعات جیسی سہولیات میسر ہیں۔سعودی پاک بزنس کونسل کے چیئرمین جناب فہد الباش نے اپنے خطاب میں کہا کہ ''سعودی اور پاکستانی بزنس کمیونٹی دو الگ الگ ادارے نہیں ہیں، یہ دو بھائی ہیں اور یہ ملاقات ایک خاندانی ملاپ ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ پنجاب سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرا  پڑا ہے جس میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے کیونکہ یہاں کے لوگ غیر معمولی طور پر با صلاحیت اور ہنر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بیس لاکھ پاکستانی مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور سعودی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او عمران امین نے وفد کو سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پنجاب (سی بی ڈی پنجاب) اور جدید اربنائزیشن کے منصوبے راوی سٹی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بین الاقوامی اور ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ممکنہ کاروباری مواقع پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ''انفراسٹرکچر کی ترقی کامیابی کا ایک گیٹ وے ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ موجودہ حکومت کی بنیادی توجہ صوبہ پنجاب کے انفراسٹرکچر کی ترقی پر ہے۔ سعودی عرب تجارتی تعاون کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان کا قریبی اتحادی رہا ہے اور سعودی تاجر برادری نے ہمیشہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع کا خیرمقدم کیا ہے۔ ہمارے حکام پنجاب کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتے ہوئے ایک بہترین کاروباری ضلع اور ایک جدید شہر کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ منصوبے صوبے کی ترقی کے لیے گیم چینجر کے طور پر ابھرے ہیں۔سعودی وفد کو پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے خصوصی اقتصادی زونز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پراجیکٹس، سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پنجاب، راوی اربن ڈویلپمنٹ، زراعت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں کے حوالے سے پنجاب میں سرمایہ کاری کے مجموعی مواقع سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے جانب سے ڈائریکٹر سہیل قادری نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع اور یہاں سرمایہ کاروں کو میسر سہولیات و مراعات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔سیکرٹری صنعت وتجارت احمد جاوید قاضی نے پنجاب حکومت کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت ملک میں صنعتی انقلاب لانے کیلئے سرمایہ کاروں کو ہر طر ح کی سہولیات فراہم کرے گی۔٭٭٭

مزید :

ملتان صفحہ آخر -