پہلے ریاست پھر سیاست، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنا ہونگے: شہباز شریف، بہت جلد مہنگائی میں کمی لائیں گے: وزیر خزانہ

پہلے ریاست پھر سیاست، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنا ...

  

         اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا ہے اپنی مدت پوری کریں گے، ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں جس سے ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہو، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ں ے کہا کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے تمام شرائط طے ہو گئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا۔ موجودہ صورتحال میں آپ کو اعتماد میں لینے کے لیے بلایا ہے، گزشتہ حکومت کو ساڑھے تین سال عوام کا کوئی خیال نہیں آیا، ہمارا موقف تھا کہ ہم انتخابی اصلاحات کرکیانتخابات کی طرف جائیں گے لیکن اب اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت 14 ماہ کی مدت پوری کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نے نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں، پٹرول سستا کرنے کے لیے گزشتہ حکومت نے کوئی فنڈنہیں رکھا، حکومت میں آنے کے بعد سے متعدد چینلنجز کا سامنا ہے، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ خدا اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہو، اس قوم کو اللہ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال رکھا ہے، ایک مثال ریکوڈک ہی ہے جس سے ہم اب تک استفاد ہ نہیں کرسکے یہ قوم کا نہیں بلکہ قیادت کا قصور ہے اس معاملے کو غلط طریقے ہینڈل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی تیس روپے بڑھانے کا معاہدہ کیا، عمران خان کی حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دے کر خزانہ خالی کردیا اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا۔ ہم اگر فیصلہ کرلیں کہ تاریخ کا رخ موڑنا ہے تو اللہ بھی مدد کرے گا، ہم کب تک چین سے مانگتے رہیں گے، سعودی عرب ہمارا بھائی ہے لیکن وہ کب تک ہماری مدد کرے گا؟ چین اور سعودی عرب کہتے ہوں کہ ہم کب تک اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے؟وزیراعظم نے کہا کہ پہلے ریاست ہے اور بعد میں سیاست، اگر خدانخواستہ ریاست کو کچھ ہوا تو سیاست بھی نہیں رہے گی، گزشتہ حکومت نے قوم کا وقت اور وسائل برباد کیے، گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور ہمیں اشیا کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔ جو بھی معاہدہ کیا جائے وہ تسلیم کرنا پڑتا ہے یا تو معاہدہ کیا ہی نہ جائے، آج آئی ایم ایف کہتا ہے کہ ہم آپ پر کیسے اعتبار کریں؟ گزشتہ حکومت نے ہم سے جو معاہدہ کیا اس پر عمل نہیں ہوا۔شہباز شریف نے کہا کہ میں قوم سے غلط بیانی نہیں کروں گا اور سچی بات کروں گا، قوم کو ہرگز دھوکا نہیں دوں گا اور یہ نہیں کہوں کہ ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے، اربوں ڈالر پاکستان لے آئیں گے اور نیا پاکستان بنادیں گے، ہم پرانا قائد اعظم والا پاکستان ہی بنائیں گے۔تیل اور گیس کی قیمتیں عالمی منڈی کے حساب سے رکھیں گے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے تقریباً تمام شرائط طے ہوچکی ہیں اگر کوئی نئی شرط عائد نہیں ہوئی تو جلد معاہدہ ہوجائے گا لیکن آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں کیا راتوں رات مہنگائی آجائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں ہے، ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد ملے گی، لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کریں اور خواہشات کو قربان کردیں، ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں جس سے ملک خوشحال کی جانب گامزن، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار امیر افراد کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ہم صاحب ثروت افراد کی نیٹ انکم پر ٹیکس عائد کرنے جارہے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے چین کو بھی ناراض کیا، دوست ممالک کو ناراض کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ یہ ہے نیا پاکستان؟ آپ چین سے مدد لیں اور اس پر الزامات بھی عائد کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ مری ایکسپریس وے کی مرمت کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں، ہر 15 کلومیٹر پر بہترین معیار کے ریسٹ ایریاز بنائے جائیں، غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے، نیو مری کیبل کار اور چیئر لفٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کے لئے انٹرنیشنل بڈنگ کرائی جائے، تعمیراتی منصوبوں سے مری کے قدرتی حسن اور لینڈ سکیپ کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ جمعرات کو یہاں مری کے دورے کے موقع پر وزیراعظم کو این ایچ اے حکام نے بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے مری ایکسپریس وے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ ہزارہ موٹروے کے معیاری کام کو مدنظر رکھتے ہوئے مری ایکسپریس وے کی مرمت کی جائے، پہلے ہی بہت پیسہ ضائع ہو چکا ہے، اب ایک پیسہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے اور ہزارہ موٹروے پر کام کرنے والی کمپنی سے مشاورت اور رہنمائی حاصل کر کے معیاری کام کیا جائے۔ وزیراعظم نے ایکسپریس وے پر جگہ جگہ غیر قانونی تعمیرات روکنے اور ہر 15 کلومیٹر کے بعد مناسب جگہ پر معیاری ریسٹ ایریاز اور سپاٹس بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں جے یو آئی(ف) اور پی ڈی ایم کے  سربراہ مولانا فضل الرحمان  نے  وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کی  امداد کیلئے فی الفور امدادی ٹیمیں بھجوانے کی درخواست کی جس پروزیر اعظم نے مشکل کی اس گھڑی میں ہمسایہ ملک کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔جمعرات کو جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں میں افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر تبادلہ خیال ہوا۔ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو افغانستان میں زلزلہ متاثرین کی  امداد کیلئے فی الفور امدادی ٹیمیں بھجوانے  کی درخواست کی۔وزیر اعظم نے  مشکل کی اس گھڑی میں ہمسایہ ملک کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے قائمقام وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیر اعظم کا افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر شہباز شریف نے 22 جون کو افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور نقصان پر حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران شہباز شریف نیافغانستان کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی امدادی کوششوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں، جن میں ہنگامی ادویات، خیموں، ترپالوں اور کمبلوں کی ترسیل شامل ہے۔شہباز شریف نے افغان ہم منصب کو ا?گاہ کیا کہ غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو پاکستانی اسپتالوں میں علاج کے لیے کھول دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا

، ملک میں مہنگائی ہے،بہت جلد اس کو نیچے لے کر آئیں گے، امیروں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیٹے کی کمپنی پر ٹیکس لگایا ہے،نئے ٹیکس سے میری اپنی کمپنی کا 20 سے 25 کروڑ روپے کا ٹیکس بڑھ جائیگا، عمران خان کی حکومت آئی تو 25ہزار کا قرض تھا گئی تو 45ہزار ارب تک جا پہنچا،جھوٹی تقریریں کرنا خود مختاری نہیں ہوتی،جب آپ اتنے قرض لیں گے تو کس طرح سے خود مختاری کی بات کرسکتے ہیں، اصل خودمختاری تو تب ہوگی جب ملک کا بجٹ خسارہ ختم ہوگا، جب ہمیں مزید قرض نہیں لینا پڑیگا،اگر جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو پاکستان میں جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے،عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے، مزید یوٹیلیٹی اسٹورز بنائیں گے، عزت کے ساتھ کم قیمت پر لوگوں کو چیزیں فروخت کریں گے۔ جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم امیر لوگوں پر مزید ٹیکس لگائیں گے، جن کی آمدنی 15 کروڑ روپے ہے ان پر مزید ایک فیصد جن کی آمدنی 20 کروڑ سے زیادہ ہے ان پر 2 فیصد جن کی آمدنی 25 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 3 فیصد اور جن کی آمدنی 30 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 4 فیصد سے زیادہ مزید ٹیکس عائد کریں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جو اس قابل ہیں کہ مزید ٹیکس دے سکتے ہیں ان پر نئے ٹیکس عائد کر رہے ہیں، جو سپر ٹیکس لگائے ہیں ان کو تفصیلات (آج) جمعہ کو بتاؤں گا، سب سے پہلے شوکر پر ٹیکس لگایا ہے جس کی وزیراعظم کی کمپنی ہے،نئے ٹیکس سے میری اپنی کمپنی کا بھی کم از کم 20 سے 25 کروڑ روپے کا ٹیکس بڑھ جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ خسارہ کیا، عمران خان نے 4 بڑے بجٹ خسارے کیے۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں صرف پونے 4 سال کے قلیل عرصے کے دوران پاکستان کے مجموعی قرض میں 80 فیصد کا اضافہ کردیا، جب ان کی حکومت آئی تھی تو 25 ہزار کا قرض تھا ان کی حکومت گئی تو پاکستان کا قرضہ 45 ہزار ارب ہو گیا تھا۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ جب آپ اتنے قرض لیں گے تو کس طرح سے خود مختاری کی بات کرسکتے ہیں، اصل خودمختاری تو تب ہوگی جب ملک کا بجٹ خسارہ ختم ہوگا، جب ہمیں مزید قرض نہیں لینا پڑے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا 120 ارب روپے کا ماہانہ خسارہ چھوڑ کر گئے تھے، ایک لاکھ 20 کروڑ روپے کا خسارہ صرف پیٹرول و ڈیزل کی مد میں ہو رہا تھا، وہ یہ خسارہ صرف اپنی حکومت بچانے کیلئے کر رہے تھے، عمران خان ملک کو دیوالیہ کرکے سری لنکا بنانے جا رہے تھے، جب پیٹرول سستا تھا، جب آپ مہنگائی کر رہے تھے تب تو عمران خان کو مہنگائی کا خیال نہیں آیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ لوگوں کو نیوٹرل نہیں ہونا چاہیے تو عمران خان کو خود بھی تو پرو پاکستانی ہونا چاہیے تھا، پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی جانب تو نہیں لے کر جانا چاہیے تھا، عمران خان کیوں ایسا کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، ہم نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے دوران پیٹرول پر سبسڈی دی۔انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے دن کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا لازمی ہے، یہ فیصلے وزیراعظم کے لیے بہت مشکل تھے، ہماری غلطی ہو یا نہ ہو لیکن ہم ایک ایک چیز کی قیمت کے ذمے دار ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچائیں، آج اللہ کی مہربانی سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مارکیٹ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے تاہم آج اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہونے جارہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا اور یکطرفہ طور پر تیل کی قیمت کم کی، اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو دیکھ رہے ہیں اور یقین دلاتا ہوں اگر جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو پاکستان میں جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد یہ پہلے 15 دن ہیں جن میں پیٹرول اور ڈیزل پر کوئی نقصان نہیں ہورہا، اس سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کو نقصان میں بیچ رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے دور میں چینی کی قیمت کم ہوئی، عمران خان کے دور میں چینی کی قیمت میں کیوں کمی نہیں ہوئی، عمران خان بتائیں کہ ان کے دور میں چینی کی قیمت میں کیوں اضافہ ہوا۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کے رہنما ملک میں مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ انہیں بھی مہنگائی کی فکر ہے جو خود مہنگائی کے کپتان ہیں، اصل خود مختاری یہ ہوتی ہے کہ آپ کو کسی کے سامنے جھولی نہ پھیلانی پڑے، جھوٹی تقریریں کرنا خود مختاری نہیں ہوتی، امریکی صدر سے ملاقات کے بعد یہ کہنا کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، یہ خود داری نہیں ہوتی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ خود داری یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے ملک کے امیر لوگوں کو کہیں کہ ٹیکس دو جو ہم نے کیا، اگر ہم دیوالیہ ہو جاتے تو لوگ آپ کے اثاثوں پر قابو پاتے، ہم ملک میں معاشی استحکام لے کر آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج بھی ہم پورے پاکستان میں 70 روپے فی کلو چینی اور 40 روپے کلو آتا بیچ رہے ہیں۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -