سینیٹ، اقتصادی سروے میں ہر چیز مستحکم تو کس بات کا دیوالیہ؟ اپوزیشن 

  سینیٹ، اقتصادی سروے میں ہر چیز مستحکم تو کس بات کا دیوالیہ؟ اپوزیشن 

  

      اسلام آباد (این این آئی) سینٹ نے پاکستان تخفیف غربت فنڈ کی کارکردگی سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی رپورٹ پیش کرنے کی میعاد میں توسیع کی منظو ری دیدی، سینٹ میں جے یو آئی بھی الیکشن کمیشن کیخلاف بو ل پڑی،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا گھر بیٹھ کر الیکشن کمیشن ووٹرز کو ادھر سے ادھر کر رہا ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، ارکان سینٹ نے کالعدم تحریک طالبان سے مذا کر ا ت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا طالبان کیساتھ مذاکرات کے معاملے پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے، جبکہ قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو بھی ہوگا پارلیمان کی مشاورت سے آئین و قانون کے مطابق ہوگا،سینٹ میں اپوزیشن نے ایک بار پھر آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا آئی ایم ایف نے 440 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، اصل بجٹ اب آئیگا،اقتصادی سروے میں ہر چیز مستحکم تھی تو کس بات کا دیوالیہ؟،دیوالیہ کچھ بھی نہیں،صرف آپ کی نااہلی ہے۔تفصیلات کے مطابق سینٹ کا اجلاس جمعرات کو چیئر مین سینٹ صادق سنجر انی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی تخفیف غربت اور سماجی تحفظ سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے تحریک پیش کی کہ پاکستان تخفیف غربت فنڈ کی کارکردگی سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی میعاد میں 60 ایام کار کی توسیع کی منظوری دے۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دیدی۔اجلاس میں قائمہ کمیٹی خزانہ، ریونیو اور اقتصادی امور کی مالیاتی بل 2022بشمول سالانہ بجٹ گوشوارے کی تجاویز پر سفارشات مرتب کرنے کی رپورٹ چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیش کی، اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کی ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے غیر معیاری گندم کی درآمد، موجودہ سیکرٹری تجارت کی جانب سے اپنے عہدے پر فائز ہونے کی تاریخ سے کئے گئے دوروں کی تعداد سے متعلق کمیٹی کی رپورٹس پیش کیں، اجلاس کے دور ان سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے بلوچستان میں حلقہ بندیوں کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی،جس پر بات کرتے ہوئے  مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا الیکشن کمیشن کچھ کام نہیں کر رہا سوائے ووٹرز کی اکھاڑ بچھاڑ کے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ووٹرز کو پھینکنے کا یہی حال رہا تو پھر خانہ جنگی کا بھی خطرہ ہوتا ہے،کوئی بھی مردم شماری کیلئے ڈور ٹو ڈور نہیں جاتا سب دفاتر میں کام کر کے حلقہ بندیاں کر دی جاتی ہیں،سینیٹر شفیق ترین نے کہا حلقہ بندیوں کے حوالہ سے کچھ مقدمات عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہیں،اور اگر پھر سے اکھاڑ بچھاڑ شروع کی گئی تو وہ کیس بھی متاثر ہونگے،سینیٹر دوست محمد خان نے کہا ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے،ایک جانب ہم سے قربانیاں مانگ رہے ہیں،فاٹا کا کوئی حل نہ نکالا گیاتو ہمارے نوجوان طالبان سے مل جائیں گے۔ چیئر مین سینٹ نے کہا اس معاملے کو کمیٹی کوبھجوادیا ہے،وہاں بھرپور بحث کریں۔ جمعرات کو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا گزشتہ روز علی وزیر کی تصویر آئی کہ بارش میں بٹھایا گیا،آپ قومی اسمبلی کے ممبر کیساتھ یہ کر رہے ہیں،سب تصویریں سوشل میڈ یا پر آ رہی ہیں،منتخب ایم این کو باندھ کے بارش میں بٹھایا گیا ہے،ان پر حملے ہو رہے ہیں،ان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے ہیں،انہیں پارلیمنٹ لا رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی سے متعلق جو ہوا اس پر افسوس ہوا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا پارلیمان کو ربڑ اسٹیمپ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے،اگر معاہدہ ٹی ٹی پی کیساتھ ہو جاتا ہے اس کے بعد پارلیمان میں لایا جا ئے تو اس پر ایک قومہ بھی نہیں لگایا جا سکتا،مطالبہ ہے ان کیمرا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، طالبان کیساتھ مذاکرات کے معاملے پر جوائنٹ سیشن بلایا جائے۔ ایک طرف ٹی ٹی ٹی پی سے بات دوسری طرف اپنے ہی لوگ جیلوں میں ہیں،علی وزیر کیلئے میں نے اور سینٹر مشتاق نے سپیکر کو خط لکھا،علی وزیر کیساتھ بات کی جائے انہیں پارلیمنٹ بجٹ سیشن میں ہونا چا ہیے۔ قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہا وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے انہوں نے کہا ہے جو بھی ہوگا پارلیمان کی مشاورت سے آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔بعدازاں سینٹ میں اپوزیشن نے ایک بار پھر آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا آئی ایم ایف نے 440 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، اصل بجٹ اب آئے گا،اقتصادی سروے میں ہر چیز مستحکم تھی تو کس بات کا دیوالیہ؟،دیوالیہ کچھ بھی نہیں،صرف آپ کی نااہلی ہے۔ رضا ربانی نے کہا سینیٹ فنانس کمیٹی نے نہایت تفصیل سے اپنی سفار شات مرتب کی ہیں،امید ہے قومی اسمبلی ان سفارشات سے استفادہ حاصل کریگی۔ آرٹیکل 160کے تحت ہر پانچ سال این ایف سی آتا ہے،آئین کے تحت این ایف سی میں صو بوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ سے کم نہیں ہو گا۔ 2010کے این ایف سی ایوارڈ ابھی تک معرض وجود میں ہے،2015میں ایک نیا این ایف سی تشکیل دی گئی مگر مکمل نہیں ہو سکی،صدر عارف علوی نے بھی این ایف سی تشکیل دی،اس میں مشیر خزانہ کو این ایف سی چیئرکرنے کی اجازت دی گئی،اگلے بجٹ سے پہلے این ایف سی تشکیل یقینی بنائی جائے۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا این ایف سی میں غربت کو بھی مدنظر رکھ کر حصہ دیا جائے،خیبر پختونخوا کیساتھ فاٹا کے انضمام کے بعد آبادی بڑھ گئی ہے۔ ایوان میں بجٹ پر بحث کے دور ان سینیٹر شیری رحمن نے کہا بجٹ کو آئی ایم ایف کا کہہ کر بجٹ پر تنقید کی جا رہی ہے،کونسی حکومت آتے ہی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے،بالکل یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے،یہ ورثہ بھی پی ٹی آئی کی سابق حکومت کا تحفہ ہے،آئی ایم ایف کی شرائط آج ماضی سے بہت سخت ہیں،اسلئے کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ آپ نے سوچا ہم تو جا رہے ہیں پاکستان جائے بھاڑ میں،پاکستان کیخلاف اصل سازش پی ٹی آئی کی حکومت نے کی۔ سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا آئی ایم ایف کے کہنے پر ایک اوربجٹ آ رہا ہے،کیا ہم لا تعلق ہیں،حکومت 438ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے جا رہی ہے، ا قتصا دی سروے میں ہر چیز مستحکم تھی تو کس بات کا دیوالیہ؟دیوالیہ کچھ بھی نہیں،صرف آپ کی نااہلی ہے،یکدم آپ کے وقت میں لوڈشیڈنگ کیسے شروع ہوئی،اس وقت درآمدات ستر نہیں 78ارب کے ہیں، ہم نے آپ کیلئے بہترین معیشت چھوڑ کرگئے آپ نے تین ماہ میں تباہ کر دی۔قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہر طرف دودھ کے چشمے پھوٹ رہے تھے یا شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں تو ہم حکومت میں آتے ہی کیوں۔ پاکستان کی خاطر ہم نے کڑوا گونٹھ پی کر معاہدے کو آن کیا،سابق وزیراعظم و سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ان کی تیاری نہیں تھی، انہیں حکومت میں نہیں آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں معیشت کا پہیہ جام کیا گیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15 ارب روپے تک پہنچ گیا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، پی ٹی آئی کو جب پتہ چل گیا ان کی حکومت جا رہی ہے تو انہوں نے آئی ایم ایف کیساتھ بین الاقوامی وعدے پورے نہ کئے، پٹرول کی قیمت 10 روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمت 5 روپے فی یونٹ کم کی گئی اور یہ قیمتیں جون تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جس سے عوام پر بوجھ پڑا، ہم عبوری حکومت بنا سکتے تھے لیکن اس کے پاس اختیار نہیں ہوتا، ہم نے مشکل راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، مشکل اور غیر معمولی فیصلے کئے۔ کورونا، روس اور یوکرین جنگ کے باعث پاکستان سمیت پوری دنیا کو کساد بازاری کا سامنا ہے۔آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد بجٹ سے متعلق تجاویز دیں جس پر شکرگزار ہوں، سابق وزیر خزانہ چند سوالات کا جواب دیں، جب سابق حکومت کا اقتدار ختم ہوا تو مالیاتی خسارہ دوہرے ہندسے میں تھا، بھاری گردشی قرضہ چھوڑ گئے، سبسڈی غلط طریقہ سے دی، ملک میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا، کریڈٹ ریٹنگ کم کی گئی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین تھے، غذائی اجناس درآمد کرنا پڑ رہی ہیں، جھوٹ مت بولیں سچ کو سچ رہنے دیں۔ ہم ملکر سابق حکومت کا گند صاف کر رہے ہیں۔ ہم مل بیٹھ کر بجٹ بنانا چاہتے ہیں، سب کی تجاویز سننے کے خواہاں ہیں، یہ ہم سب کا ملک ہے، اس کی ترقی کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔27تجاویز نئے ضم ہونیوالے اضلاع سے متعلق ہیں، ان پر غور کریں گے، یہ سیاست سیاست نہ کھیلیں، مل کر بیٹھیں اور مل کر کام کریں۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -