نیویارک میں گھر سے باہر ہتھیار لے جانے پر سخت پابندی کا قانون کالعدم قرار

  نیویارک میں گھر سے باہر ہتھیار لے جانے پر سخت پابندی کا قانون کالعدم قرار

  

      نیویارک (طاہر محمود چوہدری سے) امریکی سپریم کورٹ نے نیویارک کے اس قانون کو ختم کر دیا جس کے تحت گھر کے باہر گن لے جانے پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں، سپریم کو ر ٹ کے جسٹس کلیرنس تھامس نے اکثریتی فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین کسی شخص کو گھر سے باہر اپنے دفاع کیلئے گن لے جانے کے حق کا تحفظ کرتا ہے۔سپریم کورٹ کے تین کے مقا بلے میں چھ ججوں کا یہ فیصلہ امریکہ میں حالیہ بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات کے ایک سلسلے کے بعد آیا ہے اور اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہروں نیویارک، لاس اینجلس اور بوسٹن کی سڑکوں پر مزید لوگوں کو قانونی طور پر گن اٹھانے کی اجازت ملے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے، جب کانگریس ٹیکساس، نیویا ر ک اور کیلیفورنیا میں حالیہ بڑے پیمانے پر فائرنگ کے بعد بندوق سے متعلق قانون سازی پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیویارک کے اس قانون کو مسترد کر دیا جس کے تحت لوگوں کو آتشیں اسلحہ لے جانے کیلئے لائسنس سمیت ایک خاص ضرورت اور طریقہ کار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ضرورت آ ئین کی دوسری ترمیم کے ہتھیار رکھنے اور اٹھانے کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے، دوسری جانب نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر فو ری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کو " Shocking "حیران کن اور بالکل چونکا دینے والا قرار دیا ہے، نیویارک کے بنائے گئے قانون جس میں ان کی ریاست کے قانون کے تحت ہتھکڑ یاں پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی، گورنر ہوچول نے کہا ان کی ٹیم فیصلے کی زبان پڑ ھ رہی ہے اور انہوں نے نیویارک کے لوگوں کے بندوق لے جانے کی صلاحیت پر نئی پابندیاں متعا رف کرانے کیلئے پہلے ہی قانون سازی کا مسودہ تیار کر لیا ہے، وہ نیویارک کی مقننہ کا ایک خصوصی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہیں، اس سلسلے میں وہ قانون ساز رہنماؤں کیساتھ تار یخو ں پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔

قانون کالعدم

مزید :

صفحہ اول -