سیاسی مداخلت اور اختیارات کی جنگ، بلڈنگ انسپکٹرز غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بن گئے

سیاسی مداخلت اور اختیارات کی جنگ، بلڈنگ انسپکٹرز غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ...

  

      لاہور(جاوید اقبال سے )بلدیہ عظمی لاہور کے بلڈنگ انسپکٹرز غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بن گئے۔حد سے زیادہ سیاسی عمل دخل بھی غیر قانونی تعمیرات میں اضافہ کا سبب بن رہاہے۔شعبہ ریگولیشن کی جانب سے 445غیر قانونی تعمیرات کی فراہم کی گئی رپورٹ کے بعد بھی کچھ نہ ہو سکا۔ متعدد عمارتوں کو رہائشی منظور کر کے کمرشل تعمیرات کروا دی گئیں۔سروے ر پو ر ٹ میں داتا گنج بخش زون میں 65، علامہ اقبال زون 28،نشتر 69،گلبرگ 13،سمن آباد زون 65،شالامار 47،عزیز بھٹی 51،واہگہ 50 اور راوی زون میں 57 غیر قانونی تعمیرات اور اس وقت تک ہونے والی کارروائی کی نشاندہی کی گئی تھی۔جس کے بعد شعبہ ریگولیشن سے انفورسمنٹ کے اختیارات واپس لے کر شعبہ پلاننگ کو دے دیئے گئے جس کے بعد جزوی مسماریوں کی کاروائیاں بھی رک گئیں۔شعبہ ریگولیشن نے عمل دخل ختم ہونے کے بعد غیر قانونی تعمیرات سے مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ اس فری ہینڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلڈنگ انسپکٹرز غیر قانونی تعمیرات کی رپورٹس اعلیٰ افسران کو فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ اہم وجہ سیاسی مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔ذمہ دارذرائع کے مطابق جس کمرشل غیر قانونی تعمیر کی شکایت ہوتی ہے اس کے خلاف معمولی کارروائی کر کے سازباز سے مکمل کروا دی جاتی ہے جبکہ بیشتر افسران سے ملی بھگت کر کے تعمیر کروائی جا رہی ہیں۔ایل ڈی اے اس وقت روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مسماریوں کے آپریشن کر رہا ہے اس کے مقابلے میں 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -