عامر لیاقت اور میڈیا!  

 عامر لیاقت اور میڈیا!  
 عامر لیاقت اور میڈیا!  

  

 عامر لیاقت جو اپنی زندگی میں ایک متنازعہ کردار رہے۔ ایک نیوزکاسٹر کے طور پر کام کا آغازکرنے والے شخص نے TV کے پروگراموں کو ایک نیا انداز اور نئی جہت دی۔ عالم آن لائن کو شروع کیا تو وہ ایک معتدل مسلمان کے طور پر ابھرے جو نہ صرف تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے والے سمجھے  گئے بلکہ اپنے پروگرام میں ان کے علماء کو باقاعدہ نمائندگی بھی دی۔ 

پاکستان کے لوگوں کو شرعی سوالات کے جوابات علماء  سے ملتے رہے جس سے لوگ اپنا مسئلہ بخوبی سمجھ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی باتوں سے اسلام کا وہ تصور ابھرنا شروع ہوا جس میں محبت اور رواداری کا درس دیا گیا حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بات ہوئی۔ عالم آان لائن پروگرام کا فارمیٹ بالکل نیا اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر تھا جہاں لوگوں کی دلچسپی کے لئے بہت کچھ موجود تھا۔ اسی دوران وہ سیاست میں آئے اورکراچی سے  قومی اسمبلی کے ممبرمنتخب ہوئے۔ جب ان کو وزیرامورمملکت مذہبی امورکامنصب ملا تو انہیں پورے پاکستان میں ہم آہنگی کی ایک تاریخ رقم کرنے کا موقع ملا جب سارے ملک میں ایک ہی دن عید منائی گئی۔

جیو پر رمضان ٹرانسمشن میں پھر ایک نئے انداز کا پروگرام لائے جہاں مذہبی معلومات، مزاح، انعامات اور پورے خاندان کی دلچسپی کی مختلف چیزیں شامل تھیں۔ رمضان ٹرانسمشن ایک یادگار پروگرام بن گیا جہاں ایک طرف لوگ شمولیت کے لئے پاس کے طلبگار رہتے تو دوسری طرف ٹیلی ویڑن کے ناظرین اس پرگرام کے منتظر ہوتے۔ یہ پرگرام پسندیدگی میں دوسرے تمام پرگراموں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ اگر لوگ اس پروگرام کو دیکھنے میں بہت دلچپی لے رہے تھے تو کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کی مقبولیت کے لئے اشتہاردینے میں آگے آگے تھیں۔ عامر لیاقت حسین شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ عالم آن لائن کے حوالے سے لوگ ان سے ذاتی رابطے کرکے ان سے راہنمائی لینے لگ پڑے۔ خاص کر نوجوان نسل اور خواتین تو ان کی بہت مداح تھیں غرضیکہ ہر طرف ان کا ڈنکہ بجنا شروع ہو گیا۔ ظاہر ہے جب کسی کو اس طرح کا پروٹوکول ملے تو تھوڑی میں بہت تو آجاتی ہے۔

ان کی شہرت کو دیکھ کر کچھ عناصر کو تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور مقابلے سے نکل کر بات حسد تک جا پہنچتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عامر لیاقت کا رویہ اور زبان اعتدال کی حد سے باہر نکل گئی اوراس کا اظہار بھی کیا گیا لیکن کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی پھر تہمت اور غیبت تک چلی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بیگم کی ڈگری اور کبھی ان کی ڈگری کو موضوع بحث بنایا گیا۔ ان کی ازدواجی زندگی کو اچھالا گیا شادیوں اورطلاقوں کوہوادی گئی۔ تیسری شادی پر تو حد ہی کر دی گئی یہ رشتہ لینے اور دینے والوں کا مسئلہ تھا لیکنYoutubers  نے اس مسئلہ کو اتنا اچھالا کہ دونوں خاندانوں کے لئے عذاب بن گیا۔ عامر لیاقت کی نازیبا وڈیوز نے ان کو ذہنی تناؤ کا شکار کر دیا۔ 

عامر لیاقت حسین  کی مخالفت یا حسد میں ان کی تیسری بیوی دانیا شاہ کے انٹر ویو کیے گیے اورالزامات کو بڑھا چڑھا سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا۔ساتھ ہی اپنے جائزے تڑکے لگائے۔ جس میں اصلاح سے زیادہ اپنی ریٹنگ بڑھانا اور چٹ پٹی خبر دینا تھا۔ اس کی پرواہ نہ تھی کہ اس عمل سے کسی کی ذندگی بھی تباہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا آذاد ہے جس کے بارے میں جو چاہو کہو کوئی سزا نہیں۔  

ان سوشل میڈیا کے ماہرہین نے وفات پر ہی بس نہیں کیابلکہ کچھ نے تو عامر لیاقت کی تیسری بیوی کے کردارکو موضوع بحث بنا لیا اورعامر لیاقت کی موت کا ذمہ دار تک قرار دے دیا۔ یعنی چت بھی ان کی پٹ بھی ان کا۔ 

ڈرائیوروں،ملازموں اور پڑوسیوں کے بیانات میڈیا پر آئے اور اکثریت نے ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا۔ پولیس اس کی انکوائری کر رہی تھی لیکن بہت سارے اینکرز نے عامرلیاقت حسین کی موت کو قتل قراردے  دیا اور ایسے یقین سے بات کرتے تھے کہ وہ موقع پر یا تو موجود تھے یا وہ قتل کی واردات مین شامل تھے۔ لگتا یہ ہے کہ وہ لوگ عامر لیاقت کا اگلے جہان تک تعاقب جاری رکھیں گے   

اب معاملہ پولیس اور خاندان کے درمیان ہے اگر پوسٹ مارٹم میں قتل قرار دیا جاتا ہے تو پھر تحقیق کرنا پولیس کا کام ہے اور وہ قاتل کو ڈھونڈے گی لیکن اگر یہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ہوئی ہے تو وہ تمام میڈیا ماہرین جو اس معاملہ کو اٹھاتے رہے ہیں اس کے ذمہ دار ہوں گے کاش کوئی ایسا قانون بھی ہوتا جو جھوٹے الزامات یا کردار کشی کی سزا دے سکتا۔ آزادی صحافت اور ذمہ داری کے درمیان تفریق کر سکتا۔ میں بہت بڑے صوفی شاعر میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کے اس شعر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں شاید یہ لوگوں کو کچھ سمجھا سکے۔

مسجد ڈھا دے مندرڈھادے تیڈھا دے جوکچھ ڈھیندا 

اک بندیاں دا دل نہ ڈھاویں، سوہنا رب دلاں وچ رھندا

عامر لیاقت حسین اس عارضی دنیا میں ایک معین عرصہ گزار کر ابدی دنیا کی طرف رخصت ہو گئے ہیں میری ان تمام لوگوں کو مشورہ ہے جو اس معاملہ میں بہت آگے جا چکے ہیں بند کریں۔ اللہ کو بندے کے معاملات دیکھنے دیں۔

مزید :

رائے -کالم -