فیٹیف اور اندرونی سیکیورٹی

  فیٹیف اور اندرونی سیکیورٹی
  فیٹیف اور اندرونی سیکیورٹی

  

 پاکستان کے فیٹیف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا ابھی اعلان نہیں ہوا، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ فیٹیف ممبران پر مشتمل ایک جائزہ ٹیم پاکستان آئے گی اور اس حوالے سے حتمی اعلان چند ماہ بعد کر دیا جائے گا لیکن یہ امید بندھ گئی ہے کہ پاکستان کی طرف سے تمام شرائط پر عمل درآمد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ پاکستان کن حالات میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، وہ سرکاری یا غیر سرکاری یعنی ریاستی اور غیر ریاستی عناصر اور وقوع تھے، جن کے سبب پاکستان کو چار برس تک عالمی سرمایہ کاری سے محروم رکھا گیا اس پر بہت بحث کی جا سکتی ہے اگرچہ ملک کے دانشوروں سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں نے اس حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا پسند نہیں کیا تھا۔ عام آدمی تو کیا اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس پس منظر کے ناواقف ہیں کسی ملک کو گرے لسٹ میں رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ فراہم کرنے کے الزامات کے تحت گرے لسٹ میں رکھا جاتا ہے۔پاکستان کی نائب وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والی فیٹیف کانفرنس میں شرکت سے واپسی کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اکتوبر تک فیٹیف کی ٹیم پاکستان آئے گی اور پھر اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گی ایک طرح سے یہ گرے لست سے نکلنے کے آخری مراحل ہیں یہ ٹیم پاکستان میں ان افراد کے حوالے سے رپورٹ بنائے گی، جن پر منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کے الزامات ہیں، ابھی حتمی اعلان نہیں ہوا لیکن ملک میں اس پیش رفت کے حوالے سے کامیابیوں کے دعوے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام تر کامیابیوں کے دعوے دار ہیں۔ وزیراعظم نے ملک کی مسلح افواج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ کو مبارکباد پیش کی ہے، جبکہ محترمہ کھر نے گزشتہ حکومت کو بھی اس حوالے سے سٹیک ہولڈر قرار دیا ہے۔ 2018ء سے اب تک گرے لسٹ میں رہنے کے سبب پاکستان نے بے پناہ معاشی نقصان اٹھایا خاص طور پر سرمایہ کاری کے میدان میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ عالمی سرمایہ کاری ان چار برسوں میں برائے نام ہوئی، پاکستان کے صنعت کاروں نے خاص طور پر گارمنٹس اور ٹیکسٹائل نے پاکستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کیا لیکن شاید اس کے علاوہ برآمدات میں ہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکے پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو اب اس مسئلہ پر بہت توجہ دینا ہوگی کہ وہ کون سی ریاستی پالیسیاں اور کوتاہیاں تھیں، جن کے سبب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا۔ وہ کون سے عناصر تھے جو پاکستان کے مفادات سے کھل کھیلتے رہے اور ہماری گرفت سے آزاد رہے۔ یقینا ان لوگوں نے اور ان عناصر نے پاکستان کے اندرونی منظر میں بھی اپنے رنگ بھرے ہوں گے اور اب بھی وہ اس کوشش میں ہوں گے۔ افغانستان سے ملحقہ ہماری سرحد آج بھی  دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گرد آئے روز پاکستان کی مسلح افواج اور عوام پر حملے کر رہے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز انہوں نے بلوچستان میں غریب محنت کشوں پر حملہ کیا ہے۔ اس کے معنی واضح ہیں کہ یہ کوئی سیاسی اور نظریاتی دہشت گرد گروپ نہیں ہے، جس کے پاس کوئی سیاسی نظریہ ہو۔

یہ لوگ دشمن ممالک کے ایجنٹ کے طور پر دہشت گردی کو بطور پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کے لئے سرمایہ کون فراہم کر رہا ہے۔ اسلحہ اور گولہ بارود کہاں سے حاصل کر رہے ہیں۔ یہ جاننا شاید اس قدر مشکل نہ ہو۔ ان کے ہلاک شدگان سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور بارود ان کے اصل مالکان کا اشارہ دے سکتے ہیں اور وہ کون ہیں اس کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ افغان طالبان کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات ناکام ہو گئے، تب بھی ہم افغانستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم تو صرف مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ سہولت کار ہیں تب بھی وہ آپ ہی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور آپ ہی کے علاقے میں موجود ہیں اور اب تک وہ جن کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور ملوث ہیں وہ کس طرح آپ کے علم میں نہیں ہیں اور کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ کا علاقہ استعمال ہو رہا ہو اور کون لوگ اس میں شامل تھے، کس کس مقامی مدرسے کی انہیں حمایت حاصل تھی یہ سب عوام کے علم میں ہے۔ گزشتہ دنوں عسکری اداروں اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات ہوئے اور شاید اب بھی جاری ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک اجلاس کے دوران ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے متعلقہ ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔ سابق قبائلی علاقے اور بلوچستان کے کچھ علاقے اب بھی ان کی سرگرمیوں کا شکار ہیں۔ اس وقت ملک کے اندر بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے چین جیسے ملک کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر سخت معاشی فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سخت فیصلہ کرنے کی جرأت کرے۔

مزید :

رائے -کالم -