تم تو آئے تھے زخموں پر مرحم رکھنے

تم تو آئے تھے زخموں پر مرحم رکھنے
تم تو آئے تھے زخموں پر مرحم رکھنے

  

2018ء میں تبدیلی کے  نام پر اقتدار میں آنے والی عمران خان حکومت کے قوم کو دیئے گئے دُکھ اور مسلط کی گئی مہنگائی کو مسلم لیگ(ن) کے میڈیا سیل نے اس انداز سے عوام کے سامنے پیش کیا کہ اگر عمران خان حکومت چھ ماہ بھی مزید رہتی تو ملک  یقینا دیوالیہ ہو جاتا، ڈالر186 روپے کا ہو گیا ہے، پٹرول137 روپے کا ہو گیا ہے۔ عمران خان نے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ کے قوم کے اثاثے فروخت کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ عمران خان نے ملک کو مقروض کر دیا ہے، کشکول پکڑ کر ایک ایک ملک کے پاس جا رہا ہے، ملکی ساکھ متاثر ہو رہی ہے،ساڑھے تین سال سے جاری میڈیا مہم عمران خان کو پاکستانی معیشت کا دشمن، کرپشن کا بادشاہ،خاتون اول کو کرپشن کی سرغنہ ثابت کر کے عوام کو باور کرا دیاگیا۔ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی نے ایک بیانیہ بنا دیا اگر ہم نہ آئے تو کچھ نہیں بچے گا، ہم ہی عمران خان کے دیئے گئے زخموں پر مرحم رکھ سکتے ہیں، ہم ریلیف دیں گے عمران خان نے قوم کو پروٹوکول کے ذریعے برباد کر دیا، ہیلی کاپٹر پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے،عوام کو پٹرول میں ریلیف دے کر ملکی معیشت کا مستقبل داؤ پر لگا دیا،وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہیں بنایا،گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں گرائی، عمران خان کی تبدیلی فراڈ تھی،اسرائیل کو تسلیم کرانے آیا تھا، اسرائیل کا ایجنٹ ہے، کشمیر کا سودا کر دیا ہے اس کا جانا ضروری ہے۔ اگر ملک کو بچانا ہے تو پی ڈی ایم کو لایا جائے اور پھر تاریخ رقم ہو گی، قومی کی دُعائیں قبول ہو گئیں،بے رحم ظالم کرپٹ حکومت سے قوم کو نجات مل گئی، سازش ہوئی یا مداخلت ہمیں اس سے کیا لینا دینا،

قوم کی سنی گئی۔ 1+11 جماعتوں کی اتحادی حکومت کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے اور عمران خان کے دیئے گئے زخموں پر مرہم رکھنے میاں شہباز شریف آ گئے اُن کی پشت پر مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری کی بھاری بھر کم شخصیات آن کھڑی ہوئی ان کے دائیں بائیں اے این پی اور ایم کیو ایم دست بازو بن کر قوم کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے اور186والا ڈالر135 پر لانے اور پٹرول 137 سے100 پر لانے کے لئے سرگرم ہو گئے اور پھر ڈھائی ماہ میں سخت فیصلے کر کے وہ کام کر کے دکھا دیئے جو عمران خان کو پاکستان دشمنی میں کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ پٹرول80 روپے بڑھ چکا ہے، ڈالر213 کا ہو چکا ہے، نیب کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں سے ووٹ کا حق واپس لے لیا گیا ہے،50 ہزار سے ایک لاکھ تنخواہ والوں پر ماہانہ 1200 ٹیکس کا فیصلہ ہو چکا ہے، منی لانڈرنگ روکنے کا اختیار ایف آئی اے کو دے دیا گیا ہے،اثاثے گروی رکھ کر کے سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے،جی ٹی روڈ، اسلام آباد ایکسپریس، اسلام آباد میٹرو بس،پی ٹی ڈی سی کوسٹل ہائی وے،اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کو گروی رکھنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سب سے خوش آئند بات پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی آئین سازی تین ماہ میں کر لی گئی ہے۔ قوم کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے، ملکی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لئے مریم نواز،آصف علی زرداری،میاں نواز شریف اور فیملی پر بننے والے جھوٹے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔مشکل فیصلے کر کے 80روپے پٹرول بڑھایا گیا ہے، بجلی 38روپے یونٹ کر دی گئی ہے، افسروں کا40فیصد پٹرول کم کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی عوام کے لئے خوشخبری ہے ملک دشمن عمران خان نالائق خان کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو ہی ملکی مفاد میں آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوا ہے۔کشکول پالیسی جاری رکھنے کا عزم کر لیا گیا ہے، گریڈ 16سے22 تک افسروں کی کرپشن پر نہیں پوچھا جائے گا، سیاست دانوں کو اب کوئی نیب تنگ نہیں کرے گا۔ یہ عوام کے لئے عید کا سماں ہے جشن منانے کا موسم ہے مشکل فیصلے کر لیے ہیں مزید کرنے جا رہے ہیں۔ دودھ150 روپے، دہی 160 روپے، روٹی15 روپے اور نان 20 روپے ہو چکا ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اور پنشن5فیصد بڑھا دی گئی ہے، مزدور کی تنخواہ25ہزار کر دی گئی ہے، قوم خوش ہو جائے اب ان سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ آپ کے پاس دولت کہاں سے آئی، تین ماہ کے اقدامات کی وجہ سے فیٹف سے بھی نکلنے جا رہے ہیں۔میڈیا، ٹی وی، کالم ہر طرف واہ واہ ہو رہی ہے جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف، جناب آصف علی زرداری، جناب مولانا فضل الرحمن، جناب ساجد میر صاحب، جناب اختر مینگل صاحب،جناب انس نورانی صاحب اور دیگر رہنما 75 سال سے ہونے والے اقدامات اور آئین سازی اور عوام کے ساتھ کی گئی بھلائی سب کچھ تاریخ رقم ہو چکی ہے۔تازہ ترین جنرل پرویز مشرف کی تصاویر عبرت کے لئے کافی ہیں آئی ایم ایف سے معاہدے کی تجدید مشکل فیصلوں سے عوام کو کیا ملا ہے؟ نیب کو ختم کرنے یا پر کاٹنے والے قوم کو بتائیں نیب عمران خان نے بنائی تھی؟ جناب وزیراعظم آپ کی طرف سے تین ماہ میں کی گئی آئین سازی اور ملکی معیشت کے لئے کیے گئے مشکل فیصلوں کا عوام کو کیا ملے گا؟ بس اتنا بتا دیجئے۔ جناب وزیراعظم عوام کی حالت ِ زار دن بدن خراب ہو رہی  ہے۔آپ تو عمران خان کے دیئے گئے زخموں پر مرہم رکھنے آئے تھے آپ نے چیر پھاڑ شروع کر دی ہے، پرانے زخم ناسور بن رہے ہیں جان لیوا ہو رہے ہیں،کچھ تو مرہم لگا دیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -