سندھ اسمبلی: آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی 

  سندھ اسمبلی: آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی 

  

      کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کا اجلاس میں جمعرات کو چوتھے روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے حصہ لیا۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سعدیہ جاوید نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت پورے سندھ کی خدمت کررہی ہے۔کل اس ایوان میں بڑے بڑے سسٹم کی بات ہوئی لیکن جس نے یہ بات کی وہ فرح گوگی، عثمان بزدار سسٹم کی بات کرنا بھول گئے۔پنکی پیرنی کے سسٹم کی بات بھی نہیں کی گئی۔کراچی کے عوام کو بہت سے سنہرے خواب دیکھائے گئے لیکن اس شہر کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیالیکن سندھ حکومت ملیر ایکسپریس وے اور دیگر منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی کی ترقی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ اسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر کی سیاسی نظر کی وجہ سے نالائق حکومت سے جان چھوٹی ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہاکہ یہ عوامی اورعوام دوست بجٹ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ میں نمبرز کا ہیر پھیر ہے اور کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں ستر لاکھ بچہ اسکولوں سے باہر ہیں جہاں سارے کام این جی اوز کو دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن 2005 میں پنجاب میں ریسکیو 1122 آئی تھی شکر ہے کہ سندھ میں بھی 1122 آگئی ہے جس پر میں مراد علی شاہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،دیر سے ہی سہی چلوعقل تو آئی۔قائم مقام اسپیکر نے فردوس شمیم سے کہا کہ آپ تقریر مختصر کریں جس پر وہ بولے میڈم انجن ابھی اسٹارٹ ہوا ہے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ عمران خان نے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جو کام کیا کسی نے نہیں کیا۔سابقہ حکومت نے دس بڑے ڈیم کا آغازکیا گیا تھا۔ایم کیو ایم کے باسط صدیقی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بجٹ بھی وہی ہے اور ہمارے مسائل بھی وہی ہیں،بتایا جائے کہ جب کراچی شہر کے لوگوں کو گھروں میں پینے کا پانی میسر نہیں تو ٹینکر ز کو کہاں سے پانی مل رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ شہر میں کچرے کے انبار ہیں۔گندگی ہے صفائی کا انتظام نہیں۔اس صوبے کے مسائل حل ہونے چاہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے اکارروائی کے دوران نشادہی کی کہ اراکین بجٹ تقاریر کررہے ہیں لیکن حکومتی اراکیین اور وزرا ایوان میں موجودنہیں ہیں،جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے وضاحت کی کچھ ارکان نماز پڑھنے گئے ہیں آپ تقریر کریں وہ لابی میں ہیں واپس آجائیں گے۔ تحریک انصاف کے رکن سعید آفریدی نے کہا کہ 24 مئی کو تین تھانوں کی پولیس آئی اورمرد پولیس والے میرے گھر میں گھس گئے۔انہوں نے کہاکہ کس قانون میں ہے کہ اس طرح مرد کسی کے گھر میں گھس جائیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اتنا بڑا بجٹ ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ دنیا چھوڑ کر سندھ میں تعلیم حاصل کرنے آتے۔یہاں تو وڈیروں نے اسکولوں کو اپنی اوطاق بنا لیا ہے۔15سو ارب روپے خرچ کرنے بعد بھی سندھ تعلیم میں دیگر صوبوں سے پیچھے ہے۔قصبہ کالونی میں اسپتال منشیات کا اڈہ بن گیا ہے۔پیسے صرف کاغذوں میں خرچ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے۔وقت کے فرعون کو ابسلوٹلی ناٹ کی بات اچھی نہیں لگی۔عمران خان کو ایک سازش کے تحت نکالا گیا۔انہوں نے کہا کہ روٹی، کپڑا مکان دینے والا دنیا میں نہیں رہا۔اب روٹی کپڑا مکان چھننے والے آگئے۔پیپلز پارٹی کے راجہ عبدالرزاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے شاید بجٹ میں کوئی تبدیلی آئے۔موجودہ حالات میں جس طرح کا بجٹ آیا ہے اس میں اس سے بڑھ کر کوئی ریلیف نہیں ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملیر کے لوگ زراعت پر گزرا کرتے ہیں۔ہمارا ڈیم سیلاب میں بہہ گیا تھا۔میری درخواست ہے کہ اس ڈیم کو جلد بنائیں۔آج پورا پاکستان غیر محفوظ ہے۔رکشہ والا اپنے راکشہ کو آگ لگا دیتا ہے کوئی اپنی لینڈ کروزر کو آگ لگاتا ہے؟یہاں مزدور، کسان، رکشہ والے کی کوئی بات نہیں کرتا ہے۔اب یہ کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا ہے۔ رکن ایم کیو ایم جاوید حنیف نے کہا کہ موجودہ مسائل پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں لوگ غائب ہوگئے۔ہماری پارٹی کو توڑنے کے لئے تین آپریشن کئے گئے۔جاوید حنیف تقریر کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ آپ ہمارے حقوق نہیں دیتے تو کوئی جزیرہ ہی ڈھونڈدیں جہاں ہمیں منتقل کردیا جائے۔ایم کیو ایم کے جاوید حنیف نے کہا کہ آغا سراج درانی گورنر ہاو س میں موجود ہیں ان کو کسی سیکورٹی کلیئرنس کی ضرورت نہیں تھی۔نسرین جلیل کے والد لاہور کے پہلے کمشنر تھے انہوں نے لاہور کو آباد کیا لیکن ہمیں سیکیوریٹی کلیئرنس چاہیے، کیا ہم سیکورٹی رسک ہیں؟۔ہمارے جو لوگ وہاں رہ گئے وہ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا جرم کیا تھا ہم پاکستان بنانے آئے تھے۔ہمیں یہاں سیاسی اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ جاوید حنیف نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ کو چرایا جاتا ہے اوریہاں سے 14 سیٹیں بانٹ دی جاتی ہے۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -