آئی ایم ایف کی طرف سے مزید کوئی شرط نہ آئی تو امید ہے معاہدہ ہو جائے گا،  وزیر اعظم

آئی ایم ایف کی طرف سے مزید کوئی شرط نہ آئی تو امید ہے معاہدہ ہو جائے گا،  وزیر ...
آئی ایم ایف کی طرف سے مزید کوئی شرط نہ آئی تو امید ہے معاہدہ ہو جائے گا،  وزیر اعظم

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف نے  کہا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں ، اب اگر مزید کوئی  شرط نہ آئی تو امید ہے معاہدہ ہو جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج جو فیصلے کے ہیں  ان کے دو مقصد ہیں ،  حالیہ بجٹ میں  عوام پر مہنگائی کابوجھ  کم کرنے کیلئے ریلیف فراہم کیا  گیا ہے ، سابق حکومت نے  جو  اقدامات کئے  اس سے پاکستان دیوالیہ پن کے قریب تھا جبکہ  موجودہ حکومت کے اقدامات سے  پاکستان اس صورتحال سے نکل آیا ہے ،  سابق حکومت میں بد ترین کرپشن ہوئی ،  ہمیں مستقبل تقریب میں مشکلات پیش آئیں گی ،   حکومت سنبھالنے کےبعد  دو  راستے تھے ، ایک یہ  کہ ہم  الیکشن کے حوالے سے اصلاحات  کر کے انتخابات کی طرف چلے جائیں ، دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم سخت فیصلے کریں اور پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ   پہلا راستہ آسان تھا کہ سیاسی  ساکھ کو بچا کر عوام کو زندگی کے اندھے تھپیڑوں کے حوالے کر دیں ، دوسرا راستہ تھا کہ  خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی طرح خاموش تماشائی بن جائیں، ضمیر کی آواز یہ کہتی تھی کہ ایسا کرنا  عوام سے  زیادتی  ہوگی ، اپنے آپ سے زیادتی ہو گی  اور تاریخ شائد ہمیں معاف نہیں کریگی۔  قومی اتحاد کے تمام زعما ، نواز شریف و دیگر  اتحاددی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشاورت کے بعد  فیصلہ کیا کہ  اللہ کا  نام لیں ، خدا سے مدد مانگیں ، یہ وقت سیاست کو بچانے کا نہیں ، ریاست کو بچانے کا ہے ،  نواز شریف سمیت تمام سیاسی قائدین نے اپنی ذات کو  پاکستان کے مفاد کے تابع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ ہم جرات کے ساتھ آگے بڑھیں گے  اللہ سے مدد مانگیں گے ،  دن رات محنت کرینگے اور ہچکولے لیتے کشتی کو انشا اللہ پار لگائیں گے ۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے  اپنی ذات اور سیاست کو پاکستان کیلئے قربان کر دیا ،  ہمارا یہ پہلا بجٹ ہے  جو در اصل پاکستان کی  معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے کا بجٹ ہے ، تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس کا مقصد  غریب عوام ، بیوہ ، یتیموں کو  مشکلات سے  نکالنا ہے ، غیر معمولی حالات کی سختیوں سے بچانا ہے ۔  دنیا میں مشکلات  آتی ہیں  اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارا ایمان ہے کہ  اللہ کی رسی  تھام لیں اور  تو کوئی مشکل ، مشکل نہیں رہتی ، مشکلیں اللہ آسان فرما دیتے ہیں ، اس بجٹ میں ہم نے جو اقدامات کئے ہیں وہ غریبوں کے کندھوں سےبوجھ کم کرنا ہے ، پاکستان کو  اللہ نے بے پناہ  وسائل نے مالا مال کیا ہے  ۔ 

وزیر اعظم کا   کہنا تھا کہ وہ لوگ جنہیں اللہ نے  صاحب ثروت بنایا ہے  آج ان سے تقاضہ  ہے کہ وہ   آگے بڑھیں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں ، پاکستان کوخوشحال ، با وقار ترقی یافتہ ملک بنانے کیلئے اپنی دولت کا کچھ حصہ  قوم کیلئے تقسیم کریں اور انصار مدینہ کے جذبہ   کی یاد تازہ کریں ، مدینہ منورہ   میں مکہ مکرمہ  سے آنے والے انصار کو  اپنے گلے لگایا  اور اپنے  پاس موجود سامان میں  تقسیم کیا ، مہاجر اور انصار  یک جاں دو قالب ہو گئے ، آج یہی  وقت تقاضہ کرتا ہے  کہ  صاحب ثروت افراد انصار مدینہ کی یاد کو تازہ کر دیں   ، تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ مشکل وقت میں  غریب  نے قربانی دی  ، آج صاحب حیثیت  افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے ، آج ایثار کرنے کی ان کی باری ہے اور مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ  پوری طرح عظیم کام میں اپنا ہاتھ بٹائیں گے اور تاریخ میں سخی جانے جائیں گے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ پہلا بجٹ ہے جس میں ہم نے معاشی ویژن دیا ہے ، اپنی معاشی ٹیم کا مشکور ہوں جس میں  وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سیکرٹری  خزانہ اور پوری ٹیم ہے ، زراعت کے وزیر ہیں ، پٹرولیم کے وزیر ہیں ، سیاسی جماعتوں کے قائدین جن میں آصف زرداری ، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف  ، اے این پی ، ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں کی لیڈر شپ شامل ہے ۔میں کوئی غلط بیانی نہیں کرونگا، سبز باغ نہیں دکھاؤں گا،ہم مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پوری کوشش کریں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -