وزیراعظم کے 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے فوری بعد سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ،سرمایہ کاروں کے اربوں ڈو ب گئے 

وزیراعظم کے 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے فوری بعد سٹاک مارکیٹ کریش کر ...
وزیراعظم کے 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے فوری بعد سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ،سرمایہ کاروں کے اربوں ڈو ب گئے 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہبازشریف نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کا بیان دیتے ہوئے کہا کہ حالات کو بہتری کی طرف لانے کیلئے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے جارہے ہیں ، اس اعلان کا شدید ترین اثر سٹاک مارکیٹ میں مندی کی صورت پڑااور مارکیٹ کریش کر گئی، 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی 100 انڈیکس میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ۔

تفصیلات کے مطابق کاروبار کے آغاز کے کچھ ہی دیرکے بعد ابتدائی دو گھنٹوں کے دوران سٹاک مارکیٹ میں اچانک 1598 پوائنٹس کی کمی ہوئی جس کے بعد 100 انڈیکس 41 ہزار کی نفسیاتی حد پر آ گیا تاہم یہ سلسلہ رکا نہیں اور 12 بجے تک اس میں مزید کمی ہوئی اور انڈیکس 2053 پوائنٹس تک گر گیا، شدید مندی کے باعث مارکیٹ میں کاروبار کو منسوخ کر دیا گیا ، اس وقت 100 انڈیکس شدید مندی کے بعد 40663 پوائنٹس پر آ گیاہے ۔

انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز ہیڈ آف اکیویٹیز کے سربراہ رضا جعفری نے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی حکومت کی جانب سے عائد کیئے جانے والے بھاری ٹیکسز کی وجہ سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس اعلان پر مارکیٹ نے بہت منفی رد عمل دیا ہے کیونکہ اس سے کارپوریٹ منافع کو شدید نقصان پہنچے گا۔

الفا بیٹا کور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خر م شہزاد نے نجی ٹی وی ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ حکومت کے تازہ اقدامات کے باعث کارپوریٹ انکم ٹیکس اور سرمایہ کار ٹیکس اب بالترتیب 50 فیصد اور 55 فیصد سے تجاوز کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف خطے میں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ ٹیکس ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ دنیا میں سب سے لیا جانے والا سب سے زیادہ ٹیکس ریٹ ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل سمیت دیگر  بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان حکومت میں بدترین کرپشن ہوئی، معیشت دیوالیہ ہونے جارہی تھی، ہم نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے، اگرآئی ایم ایف کی طرف سے مزید شرط نہ آئی توہمارا معاہدہ ہوجائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر سپر  ٹیکس لگانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، ،آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پرایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد  اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -