جوانی سے بزرگی کا سفر 

  جوانی سے بزرگی کا سفر 
  جوانی سے بزرگی کا سفر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 انسان کی زندگی میں کتنے رنگ ہوتے ہیں۔ کتنے  دلچسپ دور ہیں، کہیں بچپن کی بے فکری اور بھولپن ہے، تو کہیں جوانی کی جولانیاں، دلفریبیاں، حماقتیں مگر بے فکری کے ساتھ فکرمندی کے آثار بھی، تعلیم کے ساتھ ایک بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی بھی،بچپن اور جوانی کی محرومیاں انسان کو وقت سے پہلے شعور و آگہی دیتی ہیں،اور اس دور کی معصومیت کو وقت کی سختی اور ترشی قبل از وقت میچورٹی میں تبدیل کر دیتی ہے،  پھر ادھیڑ عمری کہ اس میں بچوں کی پرورش، تعلیم،شادیاں   اور پھر نجانے کب اچھا خاصا صحت و تنو مند بندہ بڑھاپے میں داخل ہو جا تاہے۔ بڑھاپے کی خوبی یہ ہے کہ باقی ادوار کی طرح بندہ اس کو تسلیم نہیں کرتا، بس یہ علامات سے ظاہر ہوتا ہے۔
سوچا آج اس موضوع پر کچھ غیر سنجیدہ باتیں کی جائیں کہ ہماری قوم کا عمومی مزاج غیر سنجیدہ ہے۔ آج کل سوشل میڈیا میں جتنی تیزی سے jokes اور مزاحیہ باتیں شیئر کی جاتی ہیں کہ لگتا ہے کہ پوری قوم نہایت غیر سنجیدگی سے نہایت سنجیدہ بلکہ گھمبیر ملکی حالات کا یا مذاق اڑا رہی ہے یا اس سے آنکھیں چرا رہی ہے۔ ہم نے بھی اسی قومی کمزوری کا فائیدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔بزرگی یا بڑھاپا کیا ہے۔ عمومی طور پر اسے عمر کے بڑھنے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اور اس عمر کی بالائی حد کی کوئی حد نہیں۔ بعض لوگ 55سال کی عمر سے ہی سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور بہت سے 75 سال کی عمر میں بھی اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ عمر رسیدہ ہونا اور بات ہے اور عمر رسیدہ دکھائی دینا دوسری بات ہے۔ بڑھاپا ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے، آپ کس عمر میں کس طرح behave کرتے ہیں وہ matter کرتا ہے۔ ہمارے ایک مرحوم دانش مند بزرگ کہا کرتے تھے کہ جس شخص کو عقل آنا ہوتی اٹھارہ بیس سال کی عمر میں ہی آجاتی ہے اور جسے قدرت نے اس عقل و دانش سے محروم رکھنا ہو اسے 75/70 سال کی عمر میں بھی نہیں آتی۔ گویا عقل و فکر اور فہم و فراست کا آپ کی عمر سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ اور شاید سعدی شیرازی کا ہی شعر ہے،۔
تونگری بہ دل است نہ بمال
بزرگی بہ عقل است نہ بسال
یعنی امارت مال سے نہیں دل سے ہوتی ہے اور بزرگی عمر سے نہیں عقل سے ہوتی ہے۔۔ ایک دن گپ شپ میں کسی دوست نے کسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت امیر آدمی ہے تو میں نے عرض کیا کہ وہ مالدار ہے امیر نہیں۔ امیر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا دل دیا ہے باقی سارے مالدار اور دولت مند ہیں۔یہ الگ بحث کا متقاضی موضوع ہے اس پر ذرا تفصیل سے انشاء اللہ بات ہوگی۔واپس بزرگوں کی طرف ہی آتے ہیں۔ بزرگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔ آپ کسی بزرگ کو انکل کہیں وہ چڑ سکتا ہے، بزرگ اور عمر رسیدہ زیادہ تر لوگ اپنی عمر چھپانے کے کئی جتن کرتے ہیں۔  اس عمر میں بھی ہر طرح کی قلبی واردات کے لیے تیار ہوتے ہیں اور استاد غالب کے بقول
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے"". 
 اسکا یہ پہلا مصرعہ ہی کافی ہے بات کو واضح کرنے کے لیے۔ آنکھوں کی چمک بلکہ ہیرا پیھری زمان و مکاں سے ماورا ہو کر کی جاتی ہے۔ اور انسان پھر اسی موج و مستی میں گم ہو جاتا ہے جو جوانی کا خاصہ تھا۔ جوانی تو نادانی کا نام ہے، اور اس میں کب سوچ سمجھ کر کام کیے جاتے ہیں، اپنی خیرپور ٹامیوالی کی پوسٹنگ کے دوران بہاولپور کے اس وقت کے جواں سال شاعر فیضان عارف سے انکی  اپنی ایک غزل سننے کا اتفاق ہوا۔ شاید جوانی کی نادانیوں پر اس سے خوبصورت بات نہ کہی گئی ہو۔چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے،۔                                                                                جو کام کیا جائے سر عام کیا جائے
کیا فائیدہ پھر ایسی جوانی کا کہ جسمیں 
جب سوچ سمجھ کر ہی ہر کام کیا جائے،
بزرگی کس عمر سے شروع ہوتی ہے، یہ تو متنازعہ بات ہے، البتہ جب آپکے دوست احباب دیگر باتوں سے پہلے مختلف بیماریوں کا ذکر کرنا شروع کر دیں کہ کمر میں درد رہتا ہے، دانتوں کے ڈاکٹر سے ہو کر آ رہا ہوں اور کوئی اچھا سا آنکھوں کا ڈاکٹر بتائیں تو سمجھ لیں کہ بڑھاپا آن وارد ہوا ہے۔ مگر جملہ اعضائے رئیسہ جواب بھی دے جائیں تو پھر بھی یہ دل تو دھڑکتا ہے اور بزرگی کو دغا دے سکتا ہے۔ بڑھاپے میں ذکر الہٰی سب سے بڑی اور اہم مصروفیت ہے۔ اسکے ساتھ اگر کوئی دنیاوی مصروفیت بھی ہو تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور توبہ کی توفیق بھی مقدر سے ہی ملتی ہے۔ اور اگر بڑھاپے میں بھی آپ توبہ کی رعایت سے محروم رہ گئے تو بد قسمت ہیں۔
بزرگی اگر آ ہی گئی ہے تو اسے سلیقے سے گزارنے کا ڈھنگ ضرور سیکھ لیں۔ کچھ باتیں انسان کے بس میں نہیں ہوتیں، جن میں بڑھاپے میں اچھی صحت, تابعدار اور نیک چلن اولاد، مناسب سی  مالی آسودگی،اور خیال رکھنے والی اہلیہ  اگر یہ سب کچھ میسر ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور بار بار کریں کہ اس عمر میں بہت سے لوگ خمیدہ کمر کے ساتھ سڑکوں پر مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اگر آپ کے پاس  یہ سب چیزیں ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں اور اگر بڑھاپے میں میسر ہیں تو آپ خوش قسمت ترین انسان ہیں۔ اگر آپ مالدار ہیں تو اس سے پہلے کہ موت کی ہچکی آئے یہ مال اپنے آپ پر،اپنے والدین پر، اپنے بیوی بچوں پر، اپنے رشتے داروں پر اور غریبوں، مسکینوں اور یتیموں پر خرچ کر جائیں ورنہ بڑا درد ناک وہ منظر ہوتا ہے جب لوگ قل خوانی پر آپ کی   موت پر افسوس کر رہے ہوتے ہیں،اور آپکی اولاد آپکی دولت اور چھوڑے ہوے اثاثوں کا حساب۔
البتہ ایک بات کا خیال آپکو خود رکھنا پڑے گا کہ بڑھاپے میں اپنی اہلیہ سے تعلق خراب نہ ہونے دیں ورنہ بڑھاپے کے ساتھ عاقبت خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے کہ اس عمر میں اولاد اپنی ماں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی گھر میں بد مزگی پیدا کر سکتی ہے۔ لہٰذا اپنی اہلیہ سے تعلق ٹھیک رکھیں اور بھول جائیں کہ آپ کبھی مرد بھی تھے اور گھر کے واحد کفیل، عافیت اسی میں ہے،ورنہ ہم نے اچھے خاصے معقول لوگوں کو اس آخری عمر میں اپنی افتاد طبع کے باعث خوار ہوتے دیکھا ہے۔ اور اس عمر میں پر سکون زندگی گزارنے کا بہترین گر یہ ہے کہ گھر میں زیادہ وقت خاموش رہیں، ہر بات اور ہر کام میں ٹانگ نہ اڑائیں اور اگر آپکے مزاج کے خلاف بات ہورہی ہو تو یہ تاثر دیں کہ آپ نے سنی ہی نہیں اور بولنے میں زیادہ پرہیز کریں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر 18/20سال کی عمر میں عقل و شعور آچکا تھا۔ ورنہ یہ ساری بحث فضول ہے۔

مزید :

رائے -کالم -