ایجنٹ 

 ایجنٹ 
 ایجنٹ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ”ایجنٹ“ بنیادی طور پر کسی ایسی چیز، انسان  یا خلیے کو کہا جا سکتا ہے جو کسی بھی قسم کی تبدیلی حالت کو روبہ عمل لانے کی اہلیت رکھتا ہو یاکم از کم اس کی کوشش کر سکے۔ اردوزبان میں ”ایجنٹ“ کو نمائندہ یا کارندہ جیسے ناموں سے بھی پکارا جا سکتا ہے، کیمیا میں اس سے مراد ایسا کوئی بھی کیمیائی مادہ ہوتا ہے جو کیمیائی طور پر تبدیلی کے عمل میں حصہ لے۔حیاتیات اور طب میں ”ایجنٹ“ کا مطلب ایسا کوئی بھی مادہ یا جاندار ہوتا ہے جو کسی خاص کیفیت یا بیماری کی ظاہری علامات کی وجہ سے بنے۔ کمپیوٹر سائنس میں ایک ایسا پروگرام جو کسی خاص کام کو خود کار انداز میں انجام دینے کے لئے لکھا گیا ہو، اسے ”سافٹ ویئر ایجنٹ“ کہتے ہیں۔
دنیا بھر میں ایجنٹوں کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں،جن میں سیکرٹ ایجنٹ سر فہرست ہیں، ہالی ووڈ میں ایجنٹوں کی اس قسم پر بے تحاشا سپر ہٹ فلمیں بنیں جبکہ دنیا بھر کے جاسوسی ناولوں کے مصنف،کہانی کار اور ڈرامہ نویسوں نے ”ایجینٹی“ کی اس قسم کو تواتر کے ساتھ موضوع بنایا۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں انشورنس ایجنٹ اور کمیشن ایجنٹ بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں بھی ہر قماش کے ایجنٹوں کی بھرمار ہے بلکہ یہاں تو آپ کو ہر گلی محلے میں چلتے پھرتے ایجنٹ نظر آئیں گے۔جائیداد کی خرید و فروخت کرنی ہو تو پراپرٹی ایجنٹ، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوانا ہو تو نادرا ایجنٹ، پورٹ سے مال کلیئر کروانا ہو تو کسٹم ایجنٹ اپنے اپنے دائرے میں خاصے فعال نظر آتے ہیں۔


پاکستان میں ایجینٹی کی تاریخ بہت پرانی ہے جب ملک معرض وجود میں آیا تو اس وقت جن لوگوں کو عہدے، رتبے، مربعے اور جاگیریں الاٹ ہوئیں انہیں انگریزوں کا ”ایجنٹ“ کہا گیا۔کیونکہ ”ایجنٹ“ کا لفظ بذات خود اپنے اندر ایک معنویت رکھتا ہے، خاص طور پر پاکستانی سماج میں جب کسی کو برا ثابت کرنا ہوتو اسے ”ایجنٹ“ کا لقب دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ موجودہ حکمران سابق وزیر اعظم کو ”یہودی ایجنٹ“ کہتے ہیں۔ ماضی قریب میں حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانوں سے گھڑیاں اور دیگر قیمتی اشیاء بھی ایجنٹوں کے ذریعے دبئی کی منڈیوں میں فروخت کی گئیں۔
ویسے تو ہر قماش کے ایجنٹ میں تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ بد خصلتی، سفاکیت اور بے رحمی موجود ہوتی ہے تاہم دنیا بھر میں پائے جانیوالے ایجنٹوں کی تمام تر اقسام میں سب سے ہولناک، بھیانک اور مکروہ شکل انسانی سمگلنگ والے ”ایجنٹ“ کی ہے۔ان ایجنٹوں کے بے رحم سینوں میں دل نام کی کوئی چیز نہیں جو گزشتہ پچاس برسوں سے زائد عرصے سے ماؤں کی گود اور سہاگنوں کے سہاگ اجاڑ رہے ہیں۔ وطن عزیز میں یہ سلسلہ 70 ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا جب پاکستانیوں نے بہتر مستقبل، روزگاراور محفوظ زندگی کے لئے دوسرے ممالک کا رخ کرنا شروع کیا۔ بیرون ملک جانے والوں نے جب پاکستان میں اپنے پیاروں کو زرمبادلہ بھیجنا شروع کیا تو ان پردیسیوں کے ”پچھلوں“ کی زندگی میں اس بلیک اینڈ وائٹ زمانے میں بھی ”رنگینی“ آ گئی، اس وقت متوسط اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں میں ٹیلی ویژن، ریفریجریٹر، وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ جیسی لگژریاں پہلے موجود نہیں تھیں، لوگوں کے پاس پیسہ ہونے کے باوجود طرز زندگی بہت سادہ تھا، موبائل، انٹرنیٹ اور ابلاغیات کے جدید ذرائع نہ ہونے کے باعث پاکستانیوں کو بیرونی دنیا کی خبر بھی نہیں تھی، تاہم جن لوگوں نے خود مغربی ممالک کا رخ کیا اور وہاں جا کر اپنی کمائیاں پاکستان بھیجیں انہوں نے ترقی یافتہ معاشروں میں لوگوں کا طرز زندگی کاپی کر کے پاکستان میں اسے اپ گریڈ کرنے کی کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ شروع دن سے پاکستان کا ہر غریب اور مڈل کلاسیہ باہر جا کرکمائیاں کرنے کے خواب دیکھنا شروع ہوگیا۔ اس کو ”گلیمرائز“ کرنے میں ’دور کے ڈھول سہانے‘ والی مثال نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ انہی معروضی حالات اور پاکستانی نوجوانوں کی مجموعی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایجنٹوں کی سب سے بھیانک اور مکروہ شکل معرض وجود میں آئی۔


یونان کشتی حادثہ کی تفصیلات نہایت دلخراش اور ہوشرباء ہیں جس نے اب تک سینکڑوں گھرانے اجاڑ دیئے ہیں۔ حادثے کو تقریباً دس روز مکمل ہو گئے ہیں اور ہر گزرے دن کے ساتھ اس کی ہولناکی سامنے آ رہی ہے، یہ سانحہ گزشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بحیرہ روم میں پیش آیا اور ابتدائی طور پردرست معلومات نہ ہونے کے باعث اگلے روز کے اخبارات میں اس خبر کو اتنی جگہ نہیں ملی تھی، تاہم جوں جوں دن گزر رہے ہیں اس کی درد ناک تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، حادثے میں زندہ بچ جانیوالوں کے بیانات دل دہلا دینے والے ہیں جنہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تارکین وطن کی کشتی پانچ دن تک بے یارو مدد گار بے رحم پانیوں میں ہچکولے کھاتی رہی۔ جبکہ اس کشتی کویونانی کوسٹ گارڈز کی طرف سے جان بوجھ کر ڈبوئے جانے کے انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ تاہم اس وقت سب سے اہم مرحلہ ایجنٹوں کی سب سے بھیانک قسم کے قلع قمع کا ہے،رواں برس فروری میں اٹلی کے جنوبی ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی تھی جس میں پاکستانی ویمن ہاکی ٹیم کی کھلاڑی شاہدہ رضا بھی سوار تھیں، اس وقت خاکسار نے ”ڈُوبتا پاکستان“ کے نام سے پورا ایک کالم لکھا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیمیں حرکت میں آئیں اور ان ایجنٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا، تاہم اس معاملے میں بھی سرکاری محکموں کی روایتی سست روی سامنے آئی اور وقت گزرنے کے ساتھ کام ٹھنڈا پڑ گیا۔ اب یونان کشتی حادثہ نے ایک مرتبہ پھر قیامت صغریٰ برپا کر دی ہے اور محکمے ایک مرتبہ پھر حرکت میں آئے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ایجنٹوں کی سب سے بھیانک قسم کا مکمل صفایا کیا جائے، جنہوں نے ان بے روزگار، مجبور اور حالات کے ستائے لوگوں سے 25 سے 35 لاکھ روپے تک رقم وصول کی اور اس کے بدلے میں نہ ویزا، نہ پاسپورٹ بلکہ انہیں دشوار گزار راستوں اور جان لیوا مصیبتوں سے گزار کر موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ ایجنٹوں کی یہ بھیانک قسم کسی رعایت کی مستحق نہیں ہے، انہیں سخت سے سخت سزا دینے کے لئے مناسب قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ان سفاک ”ایجنٹوں“ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو پاکستان کے نوجوان آئندہ بھی اسی طرح لٹتے اور مرتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -