پاکستانیو! تم نا شکرے ہو

پاکستانیو! تم نا شکرے ہو

  

جا بجا پھیلے ہوئے مالی بدعنوانیوں کے جھوٹے سچے قصے ہوں یا صاحب ثروت طبقہ کی دولت کے انبار ہوں، ہمارے اخبارات آئے دن ان کی خبریں سجائے، شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام بیچارے ان قصوں اور خزانوں کی تفصیل، حیرانی اور حسرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پڑھتے ہیں۔ لوگ غم و غصہ سے جل بھن جاتے ہیں کہ کچھ لوگ کیسے قارون کے خزانے بنائے بیٹھے ہیںاور عوام نان جویں کو بھی محتاج ہیں اور پھر "مرے کو مارے شاہ مدار"کے مصداق قربانی کا قرعہ بھی ہمیشہ عوام کے نام ہی رہتا ہے۔ اس پر ہمارے کوتاہ بین عوام واویلا کرنے اوردولت سمیٹنے والوں کی شان میں گستاخیاں کرنے پر اتر آتے ہیں۔ جو کہ ہمارے خیال کے مطابق عوام کی زیادتی اور ناانصافی ہے ۔ اور وہ اس لوٹ مار کے پیچھے کار فرما عظیم فلسفہ اور جذبہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے تو قوم اسرائیل کا تصور بطور ایک ناشکری قوم کے ابھر کر سامنے آتا ہے۔ جس کے بے جا لاڈ اور نت نئی فرمائشوں سے جناب موسیٰ ؑ سمیت ہر کوئی حیران نظر آتا ہے۔ صاحب! من و سلویٰ کی بارش ہو رہی ہے اور یہ خفا ہیں کہ پیاز میسر نہیں۔ خدا اور اس کا نبی انہیں عظمتوں کے نصف النہار پر پہنچانا چاہتے ہیں اور یہ بضد ہیں کہ تفرقوں کی سرزمین پر بچھڑے کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ بعینہ اسی طرح اگر آج پاکستانی قوم کی حالت کو دیکھا جائے تو یہ قوم بھی نا شکرے پن پر اتری ہوئی نظر آتی ہے۔ ارباب بست وکشاد اور صاحبان ثروت، قوم کو دنیاوی خواہشوں اور مادی آلائشوں کی دلدل سے نکال کر، زہد، تقویٰ کے آب رواں میں نہلانے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کئے ہوئے ہیں مگر یہ کج فہم ہیں کہ بجائے شکر گزار ہونے کے شکایت پر کمر بستہ ہیں۔

خلافت راشدہ کے درخشان اور رو ح پرور واقعات میں سے ایک گوہرِ آبدار ملاحظہ ہو کہ ملت اسلامیہ کے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھانا تناول فرمانے کے بعد اپنی اہلیہ محترمہ سے میٹھا کھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ خلافت اسلامیہ کے سارے اختیار اور اقتدار کے با وصف اس خواہش کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ شریک حیات نے سر تاج کی تمنا کو پورا کرنے کے لیے روزانہ پیٹ کاٹنا شروع کیا۔ دنوں کی کاوش اور قربانی کے بعد کچھ طعام شیریں حضرت ابو بکر ؓ کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ جواب آیا کہ روزانہ کے راشن میںتھوڑی کٹوتی نے یہ معجزہ ممکن کر دکھایا۔ حضرت ابوبکرؓ،تقویٰ اور قناعت کی معراج کو پہنچے ہوئے تھے وہ اٹھے اور بیت المال سے خلیفہ کے وظیفہ میں اتنی ہی مقدار کی تخفیف کروا دی کہ ہمارا گزارہ اتنی ہی مقدار میں ہو سکتا ہے۔

ہمارے کرم فرماﺅں کو بھی خدا نے یہ سعادت بخشی ہے کہ پوری پاکستانی قوم کے دستر خوان اور حتیٰ کہ زندگی سے تھوڑی تھوڑی کیا بلکہ زیادہ سے زیادہ کٹوتی کر کے اس قوم کو صدیقؓ کے نقش قدم پر گامزن کردیںاور اسے قناعت ، تقویٰ اور پرہیز گاری کے بلند مدارج پر فائز کروا سکیں۔

 خزانے کو شاہانہ خواہشات کی تکمیل کے لئے پانی بلکہ غریبوں کے خون کی طرح بہایا جاتا ہے ۔ اربوں کے پر تعیش طیاروں پر آنیاں جانیاں، بنکوں سے قرضوں کا اجراءاور ان کی معافی ، کرپشن کی داستانیں، محلات کی تعمیرو آرائش اور اللے تللے کیے جاتے ہیں تو ان کے پیشِ نظرایک ہی بلند تر مقصد ہوتا ہے کہ کسی طرح یہ قوم شعارِ صدیق کو اپنا لے اور کم سے کم میں زندگی گزارنے کی پاکیزہ عادات اس کی فطرت میں شامل ہو جائیں۔ کوئی فاتر العقل ہی ہو گا اگر وہ یہ سمجھے گا کہ ملت اسلامیہ کے صاحبان اختیار محض اپنی ذاتی خواہش اور حرص کی وجہ سے خزانوں کو آگ لگاتے رہے ہیں بلکہ ان کے پیش نظر تو یہ جذبہ اور ولولہ ہوتا ہے کہ وہ پوری پاکستانی قوم کو زہد اور تقویٰ کی عظمتوں کا علمبردار بنا دیں۔

مگر ہمارے لوگ ہر وقت محرومی اور مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ کبھی کرپشن اور لوٹ مار کے قصوں کو لے بیٹھتے ہیں۔ کبھی چوربازاری ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی ، ملاوٹ، رشوت کو کوسناشروع کر دیتے ہیں۔ اگر یہ سمجھ دار ہوتے تو بجائے شکوہ کرنے کے یہ شکر ادا کرتے کہ ان سب برائیوں کی وجہ سے ان کا دنیاا اور دنیا داری کی محبت میں مبتلا ہونے کاچانس کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔

مثلاً مکان کو ہی لیجیئے یہ کوتاہ فہم اس کو بنیادی ضرورت گردانتے ہیں مگر اقبال کا پیغام بھول بیٹھے کہ

نہیں تیر ا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اس قوم کو اپنے گھر کی نعمت سے محروم کرنے کیلئے رہائشی پلاٹوں پر سٹہ بازی کا ایسا قانونی کھیل رچایا گیا ۔ لاکھ دو لاکھ کا پلاٹ بیسوں بار متمول افراد نے آپس میں بیچ کے، اس کو کروڑوں کے قریب پہنچا دیا۔ اب عوام لاکھ کوشش کریںمگر وہ اپنے سرپر چھت کا خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔ یہ رونے کی بجاے مقام شکر ہے کہ پلاٹ کے خریدنے کی سر دردی ناں تعمیر کا بکھیڑا۔ بس رہے نام اللہ کا۔ یہ قوم مال و دولت اور مکانوں کی محبت سے بے نیاز ہو کر تقویٰ اور بے نیازی کی منزلوں پہ خیمہ زن ہو گی جو کہ مقام شکر ہے نہ کہ مقام شکایت۔

اسی طرح علاج معالجہ کی سہولتوں کیلئے لوگ پیٹتے ہیں کہ عام آدمی کی پہنچ میں نہیں۔ آسمانوں کو چھوتی ڈاکٹروں کی فیسیں۔ دسترس سے دور دوائیں اور ملیں بھی تو جعلی کا خدشہ۔ عوام کے پھر وی شکوے، کوسنے ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ سب اہتمام اس لیے ہے کہ لوگ دنیاوی سہاروں پر تکیہ کرنا چھوڑ کر توکل کی راہ اختیار کریں۔ ایلوپیتھی کے مہنگے علاج کی بجائے دوسرے طریق علاج یعنی عطایت وغیرہ کی طرف بھی لوگ رجوع کریں اور انہیں فروغ ہو۔مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ شفا تو من جانب اللہ ہے۔اگر ڈاکٹر اور علاج مہنگے ہیںاور پہنچ سے دور ہیںتو اس سے لوگ تعویز گنڈے کی طرف رجوع کریں گے اور جھاڑ پھونک کا بول بالا ہوگا۔ لوگوں کی دنیاوی ذرائع پر انحصار اور یقین کم ہو گا جس سے ان کے اندر زہد فروغ پائے گاتو یہ مقام شکر ہے نہ کہ مقام شکایت۔

اشیائے صرف اور دوسری ضروریات زندگی کی مہنگائی اور عدم دستیابی بھی ایک نعمت ہے کہ اس سے لوگوں میں دنیاوی تحریصات سے کنارہ کشی کا جذبہ پیدا ہو گا۔کرم فرماﺅں کو جب پتہ چلا کہ یہ قوم کبھی کبھار پھل بھی کھا لیتی ہے تو انہوں نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ پھل مہنگا ہو جائے کہ عام آدمی اسے اپنے دستر خوان پر سجا ہی نہ سکے مگر اس عدم دستیابی سے عوام مر تو نہیں گئے۔ صرف یہی ہوا نا ںکہ چہرے مدقوق اور زندگی پر بیماری کی تاریکی چھانے لگی مگر "فقر"اور "زہد"کی روشنی تو چہار سو پھیل گئی۔

اگر اشیائے ضرورت آہستہ آہستہ استعداد خرید سے باہر ہو گئیں تو کم فہم لوگ آمادہ شکایت ہوں گے۔ کوتاہ اندیشوں نے یہ نہ دیکھاکہ وہ خود تو اپنی ایمانی کمزوری کی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی طرح اشیائے وافر اور زائد سے کنارہ کش اور دستبردار ہو نہیں سکتے تھے ۔ اور اس حال میں اگر ہمارے رہنماﺅں نے کوشش کر کے انہیں متعدد غیر ضروری اشیاء(پھل، گوشت، سبزی، دال مکان کپڑے) سے دستکش ہونے پر مجبور کر کے سنت ابو بکرؓ پر عمل پیرا ہونے کا ایمان افروز موقع دیا تو یہ مقام شکر ہے نہ کہ مقام شکایت۔

انقلاب فرانس کے حوالے سے مشہور "ملکہ میری"اور ہمارے عظیم المرتبت رہنماو¾ں کا فرق ملاحظہ ہو ۔ ملکہ نے بھوکے عوام کو روٹی نہ ملنے پر کیک کھانے کا مشورہ دے کر عوام کو دنیاوی اور مادی آلائشوں سے ناپاک کرنا چاہا۔ جبکہ ہمارے صاحبانِ ثرورت نے ایسی کوئی بات نہ کہی۔ اور ہمیں روحانیت اور زہد کی طرف مائل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے۔ مگر ہمارے جاہل عوام نے ان کی ان مساعی جمیلہ کی عظمت کو سمجھا ہی نہیں اور ہمیشہ شکایت نارواکو زندگی کی صلیب کی طرح کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ناں ناشکرے!!!

لہذا پاکستانیو! ناشکرے پن سے اپنے دامن کو بچاﺅ۔ ہمیشہ شکر گزار رہا کرو کہ آئے دن تمہارے دامن کو دنیاوی آلائشوں سے پاک و صاف کرنے کے لیے دن رات کوششیں اور کاوشیں ہو رہی ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -