غازی ملت کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ ؒ سابق صدر آزادکشمیر

غازی ملت کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ ؒ سابق صدر آزادکشمیر
غازی ملت کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ ؒ سابق صدر آزادکشمیر

  

آزادی کشمیر کی تحریک کے ڈانڈے تحریک پاکستان سے جوڑنے کے لئے 19جولائی 1947کی قرار داد الحاق پاکستان کو تاریخی اہمیت حاصل ہے کہ جب قیام پاکستان سے پہلے ہی کشمیریوں کی اس دور کی سواد اعظم کی علمبردار آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے یہ سیاسی فیصلہ کیا اور اس اجلاس میں میرپور سے غازی کشمیر غازی الٰہی بخش ،قائد چوہدری نور حسین اور غازی ملت کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ نے شرکت کی تھی اور قرار داد کی منظوری میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا ۔ذیل کی سطور میں غازی ملت کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ کی24ویں برسی کے موقع پر ان کی گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

 کیپٹن جنرل سید علی احمد شاہ پرانے میرپور شہر کی مشہور بستی گوڑہ سیداں میں سید علی شاہ کے ہاں 1901ءمیں پیدا ہوئے عظیم صوفی بزرگ حضرت پیرسید نیک عالم شاہ ؒ دربار عالیہ سنگھوٹ (میرپور ) کا بھی یہی گاﺅں تھا آپ کے والد گرامی مہاراجہ پرتاب سنگھ کے اے ڈی سی تھے اور بسلسلہ ملازمت سری نگر میں رہائش پزیر تھے۔ اس لئے شاہ صاحب نے ابتدائی تعلیم مشن سکول سری نگر سے حاصل کی اور 1920ءمیں اپنے آبائی شہر میرپور سے میٹریکو لیشن کی 1923ءمیں فوج میں لیفٹیننٹ بھرتی ہوگئے۔ اس دوران برٹش سگنل کور میں بھرتی کی غرص سے 64برٹش آفسران میں سے اول پوزیشن حاصل کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قابلیت کا لوہا منوایا۔ دوران ملازمت سری نگر اور جموں کے علاقوں میں اپنی شرافت دیانت اور باصلاحیت وبااصول آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ 20سالہ ملازمت کے بعد جب ریٹائر ہوئے تو ڈوگرہ مظالم کی چکی میں پسی کشمیری قوم کی حالت زار دیکھ کر رہا نہ گیا۔ ان میں مچلتے جذبہ حریت نے چین سے بیٹھنے نہ دیا اور زمانہ طالب علمی کے دوست ریئس الاحرار قائد ملت چوہدری غلام عباس کی دعوت پر کشمیریوں کی سواداعظم آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس میں شامل ہوگئے۔ انہوںنے زمانہ طالب علمی میں اپنے دوست چودھری محمد رفیق اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کیا تھا۔

 قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے دور ہ کشمیر کے دوران مسلم کانفرنس کے کنونشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت فرمائی تو اس موقعہ پر کیپٹن جنرل ریٹائرڈ سید علی احمد شاہ نے ایک تاریخی قرار داد پیش کی، جس میں کہاگیا کہ ریاست کشمیر کے مسلمان زندگی کی تمام شعبوں میں قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرکے اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئے کوشاں رہیں گے۔ آپ نے ریاست جموں وکشمیر کی وحدت اور آزادی کے لئے انتھک جدوجہد کی او رکشمیریوں میں سیاسی وقومی شعور کی بیداری کے لئے شبانہ روز کاوشیں کیں اور تحریک کے دوران جب جماعت کے سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کرلیاگیا تو شاہ صاحب نے قیادت خود سنبھال کر جدوجہد جاری رکھی۔

عظیم سیاسی خدمات پر آپ کو مسلم کانفرنس کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین منتخب کیاگیا۔ چودھری نور حسین نے، جو چند دن پہلے ہی انتقال کر گئے ہیں، چند سال قبل حضرت شاہ جی کی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شرافت ،جرات پامردی اور استقلال کا پیکر تھے۔ ان کی ذہانت پر کوئی شخص انگلی نہیں اُٹھا سکتا تھا۔19جولائی 1947ءکو مسلم کانفرنس میں سری نگر میں جناب سردار محمد ابراہیم خان کے گھر اپنے غیر معمولی اجلاس میں کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی ۔قیام پاکستان کے بعد وہ آبائی شہر چلے آئے تھے۔ یہ وہ عرصہ تھا کہ جب بہت سے ہندو پاکستان کے دیگر شہروں اور علاقوں سے میرپور آگئے تھے، چونکہ وہ اسے ہندو ریاست بنانے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ ہندﺅوں کی اکثریت دیکھ کر میرپور کے بہت سے لوگ جہلم شہر نقل مکانی کرگئے۔

 پاک بھارت تقسیم کے بعد اس وقت کے حالات کے تنا ظر میں ریاست کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کے مقابل متوازی حکومت کے قیام کے لئے سرگرمیاں شروع ہوئیں تو تحریک کو ہائی جیک کرکے مخصوص مقاصد کے لئے خواجہ غلام نبی گلکار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرکے حکومت کے قیام کااعلان کردیا۔ اس نازک صورت حال سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے مسلم کانفرنس نے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں بیس کیمپ میں آزادحکومت کے قیام کااعلان کردیا اور اس پہلی حکومت میں سید علی احمد شاہ وزیر دفاع بنے۔ حکومت بننے کے بعد جب چودھری غلام عباس رہا ہوکر آئے تو ان کو نگران اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ شاہ صاحب نے عسکری اور مجاہدانہ صلاحیتوں سے میرپور ،ڈڈیال اور بھمبر کے کئی علاقے دشمن کے قبضے سے آزاد کروائے۔ ان مجائدانہ خدمات کے اعتراف کے لئے جماعت نے ایک قرارداد کے ذریعے آپ کو غازی ملت کے خطاب سے نوازا تھا۔ حضرت شاہ صاحب 13مئی 1950ءتا 4ستمبر 1951ءآزادکشمیر کے صدر رہے اور اس دوران سرکاری محکموں میں امور دینیہ کا اضافہ کرکے آزادکشمیر کی اپنی الگ فوج قائم کرنے کے انقلابی اقدامات کئے اور فوجی خدمات کے اعتراف میں 12اکتوبر 1950ءمیں آپ کو کیپٹن جنرل کے اعزاز سے نوازاگیا علی احمد شاہ ؒ نے امانت ودیانت کی ایسی روایات قائم کیں کہ اگر حکمران ان پر کاربند رہتے تو سرکاری محکموں کے آڈٹ ،ادارہ احتساب بیورو اور انسداد رشوت وغیر ہ کے اضافی محکموں کا بوجھ آج نہ ہوتا۔

پالتو گائے کو اردلی نے سرکاری چارہ ڈالا تو سری نگر میں گائے کو دست آور ادویات کھلا کر اس کاپیٹ صاف کرنا اوراپنے پیارے بیٹے اور اس کے ساتھی نے جب سرکاری جیپ روالپنڈی شہر تک چلائی تو اسے ذاتی استعمال کے کھاتے میں ڈال کر رقم داخل خزانہ کرانا تو وہ مثالیں ہیں، جن کی کڑیاں حضرت عمر فاروق ؓ کے دور سے جا ملتی ہیں ۔غازی ملت طویل علالت کے بعد 21مارچ 1990ءکو خالق حقیقی سے جاملے۔ حضرت کی لائبریری کی گرانقدر کتب جو حکومت آزادکشمیر نے لی تھیں۔ وہ تمام میرپور میاں محمد بخش ؒ لائبریری میں منتقل کی جائیں اور ایسے اسلاف ومشاہیر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے برسی کے مواقع پر سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہونا چاہیے اور تاریخ کی سمت درست رکھنے کے لئے ایسے بزرگان کی خدمات اور قربانیوں کو نصاب میں شامل کیاجانا چاہیے۔ سابق صدر کا مقبرہ ان کے شایان شان مکمل کرایاجائے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان قومی مشاہیر کی تاریخی خدمات سے نئی نسل کو آگاہ کریں، تاکہ خدمات کا تسلسل قائم رہے اور تاریخ درست رہے ۔

مزید : کالم