پیغامِ قرآن پر خرم مراد میموریل لیکچر

پیغامِ قرآن پر خرم مراد میموریل لیکچر
پیغامِ قرآن پر خرم مراد میموریل لیکچر
کیپشن: dr ahsan akhtar

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اعلیٰ اور معیاری اداروں میں توسیعی (Extension) لیکچرز کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ایسے لیکچر وہ نہیں ہوتے جن میں مقرر اپنے حالات زندگی یا اپنے عملی تجربات بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ بلا شبہ کسی خالص (Genuine) اور بڑی شخصیت کے ایسے لیکچرز سے بھی حاضرین کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ توسیعی لیکچرز میں کسی ایک اہم موضوع پر پہلے سے موجود علم میں اضافہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ان لیکچرز کی عملی حیثیت اور افادہ¿ عام کے لئے منتظمین ان کو شائع کروانے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ یوں یہ نیا علم ایک مستقل حوالہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے علم کے متلاشی، جو بدقسمتی سے اس وقت ہمارے معاشرے میں تیزی سے سکڑتے جا رہے ہیں ایسے علمی لیکچرز سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے ایک بار پھر اپنے والد ِ مرحوم حضرت خرم مراد ؒ کی یاد میں سالانہ توسیعی لیکچر اپنی نجی یونیورسٹی کے وسیع و عریض لان میں کروایا۔ ماضی میں مراد ہوف حسین اور طارق رمضان جیسے عالمی اسلامی سکالرز بھی اس سلسلے میں لیکچر دے چکے ہیں۔ شہر کے وسط میں اہم مقامات پر ہونے والے یہ لیکچرز بھی اپنی نئی علمی اہمیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھے۔ علمی اور تحقیقی حلقوں میں ان کی گونج دیر تک برقرار رہی۔ اس بار ڈاکٹر احمد عمر مراد کا خصوصی لیکچر ”قرآن کا پہنچایا ہوا پیغام“ کے موضوع پر تھا۔ ڈاکٹر احمد عمر مراد نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، نارتھ کیرولائنا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بائیو کیمسٹری میں واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور کئی لیبارٹریوں میں کام کرتے رہے۔ انہوں نے ساﺅنڈ ویژن شکاگو میں بھی کام کیا۔
اس تقریب کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ مہمان مقرر کا تعارف ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے کروایا اور نظامت کے فرائض مرحوم خرم مراد کی ہونہار پوتی مریم نے سرانجام دیئے۔ ڈاکٹر احمد مراد نے آغاز میں اعتراف کیا کہ انہوں نے قرآن کی تعلیم اپنے والد اور والدہ سے حاصل کی، لہٰذا مہمان مقرر جدید سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ اپنے سینے میں قرآن کا حقیقی پیغام بھی محفوظ کئے ہوئے ہیں، کیونکہ انہوں نے قرآن کو اپنے زیادہ تر لمحات کا حصہ بنا لیا تھا۔ اس کی تلاوت کرنا، اس کا ترجمہ و تشریح کرنا اور سمجھنا ان کے محبوب مشاغل میں ہمیشہ رہا۔ افسوس اب ہمارے ہاں یوں فجر کے بعد قرآن پڑھنا اور سمجھنا بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ رات دیر سے سونے کی وجہ سے ”فجر کلچر“ ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر مراد اس سے قبل ”اسلامی قانون کے ارتقائ“ کے موضوع پر اسی یونیورسٹی میں ایک لیکچرز سیریز مکمل کر چکے تھے، جن سے بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد استفادہ کر چکے تھے۔

 انہوں نے اپنے اس میموریل لیکچر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کو ناکام نہیں کرناچاہتا، جب تک آپ بحیثیت مسلمان اس کی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں گے۔ آپ غریبوں کا خیال رکھیں، ہمیشہ سچ بولیں۔ مہمانوں کا احترام کریں، جو لوگ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ان کا بوجھ حتی الوسع ہم اٹھائیں۔ قرآن کا علمی پیغام دراصل تبدیلی کا پیغام ہے۔ یہ پیغام کمزور لوگوں کے حقوق کے کھڑے ہو جانے کا پیغام ہے۔ دنیا میں کوئی کتاب اس سے زیادہ عام نہیں ہوئی۔ فلاسفروں، مورخوں اور سائنس دانوں نے انسانی معاملات قدرت اور انقلاب و نظریات پر بہت لکھا ہے، لیکن قرآن جو رہنمائی کرتا ہے وہ بالکل منفرد ہے۔ انسان کو اپنی بنیادی اقدار، یعنی ایمانداری کی طرف واپس آنا ہو گا۔ قرآن ایک مکمل معیار مقرر کرتا ہے۔ سماجی انصاف، عمدگی اور سچائی کا معیار قرآن مقرر کرتا ہے۔ ہم پوری انسانیت، اپنی قوم، خاندان اور قبیلے کے لئے فلاح و بہبود چاہنے والے بن جائیں یہ نظام اقدار معاشرے میں مساوات اور برابری کا کلچر پیدا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی معاشرے میں فساد کرپشن پیدا ہوا، تو قرآن کی رہنمائی اور تعلیمات تو موجود رہیں۔ یہ رہنمائی آغاز سے اختتام تک موجود رہے گی، ہمارے لئے زندگی میں اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم قرآن کی اس رہنمائی کے مطابق زندگی گزاریں۔
قرآن ہمیں ”قسط“ کا جو نظام اقدار دیتا ہے وہ ترقی یافتہ معاشرے کے تمام اخلاقی تقاضے پورے کرتا ہے۔ اس کا پیغام بہت سادہ ہے اور پھر مسلم امت کے لئے کوئی نیا پیغام نہیں ہے اور پہلی بار سنا نہیں جا رہا ہے۔ آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اب زمانہ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ قرآن ہمیں بہت بنیادی معاملات کے بارے میں بھی عدل اور میزان کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ وہی اصول ہیں، جو تبدیل نہیں ہوئے۔ مغربی معاشروں میں توازن کا نظام ٹوٹ رہا ہے۔ نام نہاد مہذب معاشروں میں جرائم کا چلن عام ہے۔ یہ اس نظام فطرت کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے وضع کیا ہے۔ اب ہمارے ہاں بھی افسر شاہی ہے۔ پُرتعیش دفاتر ہیں، چمکدار زندگی ہم گزارتے ہیں، لیکن ان اشیاءسے ایک مضبوط تہذیب تو پیدا نہیں ہو جاتی۔ مضبوط تہذیب تو قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے سے ہی معرض ِ وجود میں آئے گی۔ ان سب چیزوں سے ہم نے قرآن کی بتائی اقدار سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشہور عیسائی رائٹر سی ایس لوئیس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جب مَیں جدید سہولتوں اور خواہشات کی دنیا کو دیکھتا ہوں، جب چمک دمک والی دنیا، بیورو کریسی اور پولیس سٹیٹ کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ مکمل کاروباری دنیا لگتی ہے۔
ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں قانون پر قانون تو بنتے جا رہے ہیں، لیکن عملاً اتنی لاقانونیت ہے کہ آپ کسی بھی فرد کو اس کا جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتے ہیں۔ اب تو ایسے لوگوں کو جج کے سامنے خفیہ طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اب مختلف اجناس کے ناجائز تعلقات کی کوئی حدود و قیود نہیں ہیں۔ ان کی زبان، کلچر اور دوسرے طرز زندگی میں اب کوئی شرافت اور شائستگی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ سب کچھ قرآن کی بنیادی اقدار سے انحراف کی وجہ سے ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو آپ سے زیادہ طاقتور نظر آتا ہے، اس کو کمزور اور مغلوب صرف انہی اقدار و روایات پر عمل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی زندگی کا کوئی اعلیٰ و ارفع مقصد متعین کر لیا جائے، پھر اسی مقصد کے لئے پوری زندگی گزاری جائے۔ آج ہمیں اپنے اردگرد کے معاشرے میں جو بدامنی، بے سکونی اور انارکی نظر آتی ہے، اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن کے اس ازلی، ابدی اور لافانی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، جبکہ ہم مختلف ذرائع سے امن و سکون تلاش کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ہم وسوسے، وہم، بدگمانی اور شک و شبہ کی فضا میں زندہ رہتے ہیں ، ہم یہی چاہتے ہیں۔ ہم بدقسمتی سے قرآن کے جاوداں پیغام پر صرف عمل نہیں کرنا چاہتے۔ ڈاکٹر احمد عمر مراد کے لیکچر کے بعد سوال و جواب کی طویل نشست ہوئی۔

مزید :

کالم -